در فرمان شما سید مجتبیٰ۔Atyour command Syed Mujtaba تہران اصفہان شیراز اور دوسرے شہروں کی فضائیں ان نعروں سے گونج رہی ہیں۔ عمارتیں شعلوں میں گھری ہیں۔ بستیوں میں آگ بھڑک رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت وحشت میں مبتلا ہو کر دیوانہ وار بم برسا رہی ہے۔ آئل ریفائنریوں سے تیل بہہ رہا ہے۔ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کئی سیاسی دینی رہنما عسکری شخصیتیں جنرل کمانڈر اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں شہید کیے جا چکے ہیں ۔محمد علی جوہر یاد آرہے ہیں ’’قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے...اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ’’مجھے فارسی کے اپنے محبوب شاعر نظیر نیشاپوری کا برسوں سے ذہن میں گونجتا شعر بھی حسب حال لگ رہا ہے۔ ’’گریزد از صف ما ہر کہ مرد غوغا نیست کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست۔‘‘ ہر جنگ کے بعد کچھ نئے ملک آزاد ہوتے ہیں۔ سامراج کی گرفت کمزور ہوتی رہی ہے۔ ایران کے عوام ملبے کے ڈھیر دیکھ کر حوصلہ نہیں ہار رہے۔ تہران میں اب بھی مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل کا رحجان جاری ہے۔ ہزاروں ماتمی با آواز بلند کہہ رہے ہیں۔ ایران دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اور یہ یقین بھی کہ ہم طے کریں گے کہ جنگ کب ختم کرنا ہے۔ دبئی میں ٹرینڈ ہے ’’نحن واحد‘‘، ’’ہم ایک ہیں‘‘ ہم نفرت کیخلاف متحد ہیں " سعودی عرب میں سوشل میڈیا پکار رہا ہے ’’نحن مع فلسطین‘‘ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔ No to normalize with Israel"اسرائیل سے کوئی تعلقات نہیں "خطے میں استحکام اور امن درکار" امریکہ کے شہروں میں اکثریت کا نعرہ ہے" اب جنگ بند کرو" ،"غزہ کیلئے انصاف" صدر ٹرمپ کیلئے کہا جاتا ہے" میرا صدر نہیں" Not my president "امریکہ کو دوبارہ سوچنے دو" ٹرمپ کی مطلق العنانی کیلئے آوازیں آتی ہیں No Kings بادشاہ نہیں۔ ایک حلقہ یہ بھی نعرے لگاتا رہا ہے۔ ایران کے جنونی حکمران اب نہیں۔ شیطانی ریاست ختم کرو۔ صرف موت اور شعلے تہران کیلئے ۔اسرائیل میں آوازیںآ رہی ہیں۔ آزادی ایران کے عوام کا حق ہے۔ قاتل خامنہ ای کو ہلاک کرو۔ اسرائیلی مغویوں کو گھر لاؤ۔ ایک بڑا حلقہ یہ بھی کہہ رہا ہے جنگ بند کرو۔ نسل کشی ختم کرو۔ فلسطینیوں کو جینے دو ۔اب ڈرونوں اور میزائلوں کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اسرائیل کے عشق میں اپنا قہر ایران کے شہروں پر برسا چکا ہے۔ برسا رہا ہے۔ امریکہ میں اب ٹیکس دہندگان تنگ آ چکے ہیں۔ 10روز میں10ارب ڈالر پھونکے جا چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں بالخصوص قطر میں ہر ڈرون ہر بیلسٹک میزائل کو راستے میں روکنے پراربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں 48گھنٹے میں 500 ڈرون روکنے پر 700ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ 150بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا خرچہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں کی وجہ سے ایران نے جو حملے کیے ہیں انکے سبب ابو ظہبی، دبئی، قطر، عمان، بحرین، کویت میں ایئرپورٹس غیر محفوظ ہوئے۔ کئی ہزار پروازیں منسوخ ہوئیں سینکڑوں مسافر ایئرپورٹوں ہوٹلوں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔خوف کا یہ عالم ہے کہ ان تجارتی مراکز سے کسی طرح بھی نکلنے پر چارٹرڈ پروازیں کئی کئی لاکھ ڈالر میں چلائی گئیں۔ ایئر پورٹوں پر پھنسے مسافر چاہے یورپ کے ہوں ایشیا کے ہوں۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔ان کی گفتگو کا موضوع یہی ہے کہ اس اقتصادی انتشار اور سنگین سکیورٹی بحران کا ذمہ دار کون ہے۔ امریکہ اسرائیل یا ایران ان مالدار عرب ریاستوں کی معیشت بیٹھ گئی ہے ۔سب سے زیادہ متاثر سیاحت کی صنعت ہوئی ہے ۔پھر ہوا بازی لیکن تعلیم صحت سرمایہ کاری سٹاک ایکسچینج مالیاتی ادارے بھی سخت دباؤ میں ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ بند ہونے سے ایک ارب ڈالر روزانہ کی آمدنی ختم ہوئی ہے۔ ابھی اطلاعی ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر تو نقصانات کا صحیح مالی تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا مگر دبئی اور قطر ایئرپورٹوں پر ہر روز ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئندہ کیلئے اربوں ڈالر کی ہونے والی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 90 ارب ڈالر کا نقصان تو ہو ہی چکا ہے۔ سیاحت کی صنعت کے خسارے کا اندازہ 56 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے یہ اعداد و شمار مارچ کے پہلے تین دن تک کے ہیں۔ اگر تصادم طوالت اختیار کرتا ہے تو انرجی کی زبردست قلت ہوگی ان ریاستوںمیں کام کرتے محنت کش اپنے اپنے وطن کو جو ترسیلات کرتے تھے وہ بھی تعطل کا شکار ہیں۔ ان ملکوں کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک 40 فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل جوآج تباہی بربادی اور اقتصادی انارکی کا اصل سبب ہے ۔وہاں 2022 سے شرح نموپہلے ہی کم بتائی جا رہی ہے اب عسکری مہم جوئی کے باعث ان مہینوں میں112 ارب ڈالر کے نقصان سے دوچار ہونے کی خبریں ہیں ۔بجٹ خسارہ بڑھ چکا ہے دو سال سے غزہ پر جس بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔اسکی وجہ سے اسرائیلی صنعتوں مارکیٹوں اور دفاتر میں فلسطینی محنت کشوں کی کمی بھی ہوئی ہے۔ امریکہ اسرائیل کی یلغار آتش و آہن کی بوچھاڑ کا تنہا مقابلہ کرنے والا ایران بین الاقوامی پابندیوں سے پہلے ہی سخت متاثر تھا ۔افراط زر 40 فیصد سے بڑھ گئی تھی ۔ایئرپورٹیںشاہراہیں انفراسٹرکچر تیل کی برامدات متاثر ہو گئی ہیں اس عرصے میں ذہانت کا انخلابھی ہوا ہے سرمایہ بھی یہاں سے منتقل ہوا ہے ۔سعودی عرب کے زر مبادلہ کے ذخائر اگرچہ بہت ہیں لیکن خلیج کی صورتحال سے اس کا وژن 2030 متاثر ہو گیا ہے ۔تیزی سے ایک پٹی ایک سڑک اور اپنی اقتصادی کامیابیوں میں مگن چین اگرچہ اس تصادم سے الگ تھلگ رہا ہے مگر تیل کیلئے اس کا انحصار ایران پر زیادہ تر تھا وہاں بھی انرجی بحران کے خطرات ہیں خلیجی ریاستوں ایران اسرائیل میں اس کی 80 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں ہے ۔انڈیا کیلئے بھی تیل اور مائع گیس کی فراہمی رکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جارحیت میں اسے 88ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اب بھی ظاہر ہے کہ اس کی اسرائیل سے قربت کی وجہ سے معاملات کافی تشویش ناک ہیں۔ اس جنگ سے پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں۔ امریکہ اسرائیل گریٹر اسرائیل کے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کی دوڑ میں پوری دنیا کی معیشت خطرے میں ڈال چکے ہیں۔ ہردارالحکومت میںیہ سوال ہے کہ جنگ کب بند ہوگی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نقصانات کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔وہ جنگ رکوانے پر مجبور کر سکتی ہے مگر پھر معیشت کی بحالی میں کتنا عرصہ لگے گا۔ فوری بحالی میں ایک سال کہا جا رہا ہے اور مکمل طور پر اقتصادی بحالی میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ اس عرصے میں ٹرمپ تو گمنامی میں جاچکے ہوںگے۔ بزرگ مائیں بچے سب سوال کر رہے ہیں اچھے دن کب آئیں گے، صبح کب ہوگی۔