یہ سوال آج کل مشرقِ وسطیٰ کی ہر سنجیدہ محفل تجزیاتی نشست اور ہر سیاسی گفتگو میں سنائی دیتا ہے: آخر ایران پر عرب ممالک حملہ کیوں نہیں کرتے؟ بعض لوگ بڑی سادگی سے یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اگر سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو ایران چند دنوں میں شکست کھا جائیگا۔ بظاہر یہ بات آسان لگتی ہے مگر جب ہم اس خطے کے جغرافیے، معیشت، دفاعی صلاحیت، سپلائی لائنز اور عالمی سیاست کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ جنگ صرف جہازوں اور میزائلوں سے نہیں جیتی جاتی۔ جنگ رسد، معیشت، پانی، خوراک اور عوامی برداشت سے جیتی جاتی ہے۔ جس قوم کے پاس طویل عرصے تک لڑنے کی صلاحیت ہو، جو اپنی بنیادی ضروریات خود پوری کر سکتی ہو، وہی اصل معنوں میں جنگی طاقت رکھتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایران اور عرب ممالک کے درمیان اصل فرق پیدا کرتا ہے۔اگر ہم سب سے پہلے جغرافیہ کو دیکھیں تو ایران کو قدرت نے ایک خاص پوزیشن دی ہے۔ شمال میں بحرِ خزر، جنوب میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان، مغرب میں عراق اور ترکی جبکہ مشرق میں افغانستان اور پاکستان کی سرحدیں۔ یہ پورا خطہ پہاڑوں، میدانوں اور ساحلی علاقوں کا ایک پیچیدہ جغرافیائی نظام ہے۔ ایران کیلئے سب سے اہم مقام آبنائے ہرمز ہے۔ یہ دنیا کی وہ تنگ مگر انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے پر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ایران کو اس آبنائے پر جغرافیائی برتری حاصل ہے۔ اگر وہ چاہے تو چند گھنٹوں میں بحری نقل و حرکت کو محدود کر سکتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ خلیج کے عرب ممالک کی معیشت جو بنیادی طور پر تیل کی برآمدات اور درآمدات پر کھڑی ہے فوری دباؤ میں آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کیساتھ براہِ راست جنگ چھیڑنا ایک ایسا قدم ہو سکتا ہے جسکے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ رہیں گے بلکہ پوری دنیا تک پہنچیں گے۔اب اگر خوراک کی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہاں بھی ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ ایران ایک وسیع ملک ہے اور اپنی خوراک کی بڑی مقدار خود پیدا کرتا ہے۔ گندم، چاول، پھل، سبزیاں، گوشت اور مچھلی ملک کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ دیہی معیشت مضبوط ہے اور زرعی زمینوں کا رقبہ کافی بڑا ہے۔اس کے مقابلے میں خلیجی عرب ممالک کی صورتحال مختلف ہے۔ ان ممالک کی زمینیں زیادہ تر بنجر ہیں، بارش کم ہوتی ہے اور زرعی رقبہ محدود ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کی خوراک کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے آتاہے۔ اگر کسی جنگی صورتحال میں بحری راستے متاثر ہو جائیں تو خوراک کی سپلائی چند مہینوں میں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔پانی کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔ ایران کے پاس دریاؤں، زیرِ زمین ذخائر اور پہاڑی علاقوں سے آنیوالے پانی کے وسائل موجود ہیں۔ اگرچہ ایران کو بھی پانی کے چیلنجز کا سامنا ہے پھر بھی اسکے پاس قدرتی ذرائع موجود ہیں۔خلیجی ممالک میں صورتحال اسکے برعکس ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک میں پانی کا بڑا حصہ سمندر کے نمکین پانی کو صاف کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ پلانٹس مہنگے بھی ہوتے ہیں اور حساس بھی۔ اگر کسی وجہ سے یہ پلانٹس متاثر ہو جائیں تو چند دنوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔جنگی حکمت عملی میں ایسے بنیادی انفراسٹرکچر کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے وہ مراکز ہوتے ہیں جہاں سے اس کی زندگی کا نظام چلتا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جسے فوجی زبان میں “سینٹر آف گریویٹی” کہا جاتا ہے۔ دشمن ہمیشہ اس مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جہاں سے مخالف کی طاقت ختم ہو جائے۔ایران نے اپنی حکمت عملی میں اس اصول کو سمجھا اور اس کے مطابق اپنی دفاعی پالیسی بنائی۔ اس نے اپنی فوجی صنعت کو خود کفیل بنانے کی کوشش کی۔ آج ایران میزائل، ڈرون، بحری جہاز، آبدوزیں اور مختلف دفاعی نظام بڑی حد تک خود تیار کرتا ہے۔ اس کی میزائل ٹیکنالوجی خطے میں ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔اس کے برعکس خلیجی ممالک کی دفاعی طاقت زیادہ تر درآمدی ہتھیاروں پر مبنی ہے۔معیشت کے میدان میں بھی ایک دلچسپ تضاد موجود ہے۔ خلیجی ممالک دولت مند ہیں، ان کے پاس تیل کی آمدنی ہے، جدید شہر ہیں، بلند و بالا عمارتیں ہیں اور شاندار انفراسٹرکچر بھی موجود ہے۔ درحقیقت یہ معیشت بڑی حد تک عالمی تجارت اور درآمدات پر قائم ہے۔ ایران کی معیشت پابندیوں کا شکار رہی ہے، اسی پابندی نے اسے اندرونی صنعتیں کھڑی کرنے پر مجبور کیا۔ گاڑیوں کی صنعت، دفاعی صنعت، کیمیکل اور فارماسیوٹیکل سیکٹر میں ایران نے خاصی ترقی کی۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود خود انحصاری کا راستہ اختیار کیے رکھا۔سیاسی پہلو بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بھی ہے۔ تیل، گیس، بحری راستے اور علاقائی اتحاد اس خطے کو عالمی سیاست کا اہم میدان بناتے ہیں۔ اگر کسی بڑی جنگ کا آغاز ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایران اور عرب ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ، ایشیا اور امریکہ تک پہنچیں گے۔اسی لیے اس خطے میں اکثر طاقتیں براہِ راست جنگ کے بجائے محتاط حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جس سے پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتی۔ جنگ دراصل برداشت، وسائل، سپلائی لائنز اور حکمت عملی سے جیتی جاتی ہے۔