• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل پر تحفظات ہیں، پشتونخوا نیپ

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے بیان میں حکومت کی جانب سے پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیوں سے متعلق مجوزہ قانون ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ قانون کے تحت ان اکیڈمیوں کو درپیش اصولی، انتظامی اور قانونی خدشات نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا نہ صرف علمی و ادبی حلقوں کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ صوبے کی زبانوں اور ثقافتی ورثے کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں بیان میں واضح کیا گیا کہ پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیاں دراصل سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ خودمختار علمی و ادبی ادارے ہیں ان اداروں نے نہ صرف مقامی زبانوں کے ادب کو محفوظ کرنے میں اہم خدمات انجام دی ہیں بلکہ نئی نسل میں مادری زبانوں کے احترام اور فروغ کے لیے بھی قابل قدر کام کیا ہے مجوزہ قانون کے تحت ان اداروں کو بیوروکریسی کے براہِ راست انتظامی کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہےیہ اقدام نہ صرف ان اکیڈمیوں کی خودمختاری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اگر حکومت خطے کی زبانوں اور ثقافت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو ان اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کی بجائے انہیں مزید خودمختاری، وسائل اور سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ اپنی خدمات کو مزید وسعت دے سکیں اور نئی نسل کو اپنی زبانوں اور ثقافتی ورثے سے جوڑ سکیں بیان میں تمام شاعروں، ادیبوں اوردانشوروں سے اپیل کی گئی ہے کہ اس حساس مرحلے پر خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ اپنی آواز بلند کریں۔
کوئٹہ سے مزید