• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں: علی پرویز ملک

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک—فائل فوٹو
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک—فائل فوٹو

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پیٹرول مہنگا ہو گا یا نہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انہوں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک سے کروڈ آئل درآمد کرتا ہے، آبنائے ہرمز سے کروڈ آئل 4 سے 5 دن میں پہنچتا ہے اب سعودی عرب ینبو بندرگاہ سے پاکستان کو تیل فراہم کرے گا اور جو 15 سے 20 روز میں پاکستان پہنچے گا۔

علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پی این ایس سی کے 2 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، اب سعودی عرب سے تیل بردار جہاز عمان پہنچے گا اور ریفائنریز 15 سے 20 روز میں تیل سپلائی کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔

وزیرِ پیٹرولیم نے کہا ہے کہ تیل کی درآمد کے لیے جہاز نہیں مل رہے اور اگر کوئی جہاز مل جائے تو اس کی انشورنس نہیں مل پا رہی۔

انہوں نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت 149 اعشاریہ 87 ڈالرز تک پہنچ چکی تھی۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت 78 ڈالر سے بڑھ کر 120 ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں، اب اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 2022ء کی طرح طے کرنی ہیں تو خسارہ کون برداشت کرے گا جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی اوسط قیمت پر ہوتا ہے، اس فارمولے کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں مزید کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 15 روز کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جارہا ہے کیوں کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

وزیرِ پیٹرولیم نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کیا جائے گا اورپیٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید