• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے: ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر علامات کے ہوتا ہے، ڈاکٹرز کا انتباہ

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

ہائی بلڈ پریشر یا ہائپرٹینشن کو طویل عرصے تک بڑھاپے کی بیماری سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ بیماری تیزی سے نوجوانوں، خاص طور پر 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے۔

بڑھتی ہوئی وجوہات

ڈاکٹرز کے مطابق غیر فعال طرزِ زندگی، بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ، ناقص خوراک، موٹاپا، نیند کی کمی، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور میٹابولک امراض نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی بڑی وجوہات ہیں۔

خاموش بیماری

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتا ہے۔ مریض برسوں تک معمول کی زندگی گزارتے ہیں لیکن اندرونی طور پر دل، گردے، دماغ اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے۔

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی 1: لوگ سمجھتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر ہمیشہ سر درد یا چکر جیسی علامات دے گا، جبکہ حقیقت میں یہ برسوں تک بغیر علامات کے رہ سکتا ہے۔

غلط فہمی 2: یہ صرف موٹے یا بوڑھے افراد کو نہیں ہوتا، بلکہ دباؤ، نیند کی کمی، سگریٹ نوشی اور خاندانی تاریخ نوجوان اور صحت مند نظر آنے والے افراد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

خطرات

غیر قابو شدہ ہائی بلڈ پریشر سے دل کا دورہ پڑنے، ہارٹ فیل ہونے، فالج، گردوں کی بیماری، خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنے اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے خطرات لاحق  ہوسکتے ہیںَ

باقاعدہ چیک اپ کی ضرورت

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہائی بلڈ پریشر اکثر علامات نہیں دکھاتا، اس لیے 30 سال کی عمر کے بعد یا خاندانی تاریخ رکھنے والے افراد کو باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کروانا چاہیے۔

بچاؤ کے طریقے

ڈاکٹرز کے مطابق چند سادہ طرزِ زندگی کی تبدیلیاں ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر قابو میں رکھنے میں مددگار ہیں جن میں نمک کا استعمال کم کرنا، باقاعدہ ورزش کرنا، وزن کو قابو میں رکھنا، ذہنی دباؤ کم کرنا، مناسب نیند لینا، سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا، شراب نوشی محدود کرنا ہے۔ 

متوازن غذا کھانا

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ بروقت تشخیص، باقاعدہ نگرانی اور درست علاج دل اور دیگر اعضا کو سنگین نقصان سے بچا سکتا ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید