ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں زیادہ توجہ میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور فضائی بمباری پر مرکوز تھی مگر اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اس تصادم کا اختتام کس طرح ممکن ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تین شرائط نے اس بحران کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ایران کی پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کے آئینی اور خودمختار حقوق کو تسلیم کیا جائے، بالخصوص اس کے دفاعی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ دوسری شرط جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ہے، جس کے تحت ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے شہری انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی جائے۔ تیسری شرط مستقبل میں ایران کے خلاف جارحیت نہ کرنے کی عالمی ضمانت کی ہے تاکہ اس طرح کے حملے دوبارہ نہ ہوں۔بظاہر یہ شرائط ایک جنگ بندی کے فریم ورک کے طور پر پیش کی گئی ہیں لیکن درحقیقت یہ ایران کی سیاسی حکمت عملی کا بھی حصہ ہیں۔ ایران اس طرح دنیا کے سامنے یہ مؤقف رکھنا چاہتا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے لڑ رہا ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے وہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم ان شرائط پر امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل کافی حد تک متوقع تھا۔ واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کسی رسمی قبولیت کا اشارہ نہیں دیا گیا ۔اسرائیل کا ردعمل اس سے بھی زیادہ سخت تصور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے اس جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ اس لیے تل ابیب فوری جنگ بندی کو اپنی حکمت عملی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اسرائیلی قیادت کے نزدیک اگر اس مرحلے پر جنگ روک دی گئی تو ایران کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
دوسری طرف عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کا ردعمل نسبتاً مختلف ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔ یورپی ممالک بھی عمومی طور پر تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی توانائی کے بحران اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔یہاں ایک اہم پہلو عالمی توانائی کی منڈیوں کا بھی ہے۔ خلیج فارس میں واقع Strait of Hormuz دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس آبنائے کے اردگرد کشیدگی بڑھنے سے عالمی مارکیٹوں میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ اگر یہاں آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
اس جنگ کے مستقبل کے بارے میں اب تک پانچ بڑے ممکنہ منظرنامے سامنے آ رہے ہیں۔ پہلا امکان یہ ہے کہ شدید دباؤ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نئے سفارتی معاہدے کی راہ نکل آئے۔دوسرا منظرنامہ ایران کے اندر سیاسی تبدیلی کا ہے۔ اگر جنگ طویل ہو گئی اور معاشی دباؤ بڑھا تو ایران کے اندر سیاسی اختلافات یا عوامی احتجاج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران کے ریاستی ادارے خصوصاً پاسداران انقلاب اس وقت بھی مضبوط سمجھے جاتے ہیں، اس لیے فوری تبدیلی کا امکان محدود نظر آتا ہے۔تیسرا امکان یہ ہے کہ جنگ ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو جائے۔ ایران کے اتحادی گروپس، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی تحریک، اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ گروپس مکمل طور پر جنگ میں شامل ہو گئے تو اسرائیل کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑ سکتا ہے۔چوتھا منظرنامہ زمینی جنگ یا بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھیں کہ فضائی حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو وہ ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے زیادہ بڑی کارروائی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک انتہائی خطرناک قدم ہوگا کیونکہ اس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔پانچواں اور نسبتاً زیادہ زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ محدود فوجی کارروائیوں کو کامیابی قرار دے کر یکطرفہ فتح کا اعلان کر دے۔ اس حکمت عملی کے تحت واشنگٹن یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کر دیا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ طویل جنگ سے بچتے ہوئے داخلی سیاسی فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔
ان تمام امکانات کے درمیان ایران کی حکمت عملی کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایران واضح طور پر ایک طویل جنگ کے تصور کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جسے عسکری زبان میں ’’جنگِ استنزاف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد فوری فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ دشمن کو مسلسل دباؤ میں رکھنا اور اس کی سیاسی و معاشی برداشت کو کمزور کرنا ہے۔ مسلسل میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں اور علاقائی اتحادیوں کی متحرکی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ یہ تصادم صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طاقت کے توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی اور عالمی نظام کی آزمائش بھی ہے۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہو جاتی ہے تو شاید خطہ ایک بڑے بحران سے بچ جائے۔ لیکن اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔