حکومت کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں تقریبا سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے تشویشناک ہے کہ رواں صدی کے آغاز سے پاکستان میں غربت کی شرح میں بتدریج کمی جاری تھی۔ تاہم 2018ء کے بعد سے اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران غربت کی شرح 21.9فیصد سے بڑھ کر 28.8فیصد ہو گئی ہے جو کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایک سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2015ء تک غربت کی شرح میں سالانہ تین فیصد کی کمی ہوئی۔ تاہم اس کے بعد غربت کی شرح میں کمی کا تناسب سالانہ ایک فیصد سے بھی کم ہو گیا تھا۔ اس عرصے کے دوران جہاں کووڈ 19 کی وبا کے باعث کاروبار زندگی شدید متاثر ہوا وہیں اس کی وجہ سے غربت کی شرح بھی 24.7فیصد تک بڑھ گئی تھی۔ بعدازاں 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے مزید ایک کروڑ 30لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا جبکہ گزشتہ سال پنجاب میں آنے والے سیلاب نے بھی لاکھوں لوگوں کے روزگار اور گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی میں تیز رفتار اضافے سے بھی ملک کے قدرتی و معاشی وسائل پر دباو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان آبادی کی تعداد اور اضافے کی شرح کے لحاظ سے دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر آ چکا ہے۔
ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کی کوششوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں زیادہ مربوط اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے انفرادی کی بجائے اجتماعی یا کمیونٹی ماڈل کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ اس طرح نہ صرف لوگوں میں اجتماعی طور پر احساس ذمہ داری پیدا ہو گا بلکہ مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کی ترقی میں تعاون کے کلچر کو بھی فروغ ملے گا۔ علاوہ ازیں لوگوں میں پائی جانے والی دکھاوے کی مصنوعی دوڑ کا خاتمہ کرکے انہیں ایک قومی مقصد کے تحت مشترکہ جدوجہد کے لئے تیار کیا جا سکے گا۔
اس حوالے سے غربت میں کمی کے لئے مختص فنڈز کو صرف انفرادی مالی امداد کی فراہمی تک محدود رکھنے کی بجائے اس سے لوگوں کو ہنرمند بنانے اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دیناہوگا۔ ماحول دوست انفراسٹرکچر کی تیاری پربھی توجہ دینی ہوگی تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کا شکار ہونے والے ممکنہ علاقوں اور کمیونٹیز کو تحفظ مل سکے۔ اس طرح ملک میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی لائی جا سکے گی اورپیداوار میں اضافے اور ملازمت کے مواقع بڑھا کر بیروزگاری پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ 2008ء میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو غربت میں کمی کے طور پر شروع کیا گیا تھا لیکن گزشتہ 20سال کے عرصے میں تقریبا 2607ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کرنے کے باوجود پاکستان میں غربت کم نہیں ہوئی۔ رواں مالی سال کے لئے بھی وفاقی حکومت نے اس پروگرام کے تحت 722ارب روپے مختص کئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 20فیصد زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومتیں بھی ہر سال رمضان پیکیج اور دیگر شعبوں میں سبسڈی کے ذریعے سالانہ سینکڑوں ارب روپے خرچ کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود غربت بڑھ رہی ہے۔
اس لئے اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں نقد امداد کی فراہمی کی بجائے مستحقین کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے انہیں کوئی ہنر سکھانے کا بندوبست کریں تو ان مستحقین کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ اس پروگرام کے تحت مقامی مارکیٹ اور آبادی کی ضرورت کے مطابق ہنر سیکھنے والے مستحق افراد کو اپنی دکان یا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس طرح ہر سال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اس طرح کی دیگر حکومتی اسکیموں کے ذریعے خرچ کی جانے والی سینکڑوں ارب روپے کی رقم سے آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے روزگار اور مستقل مالی تحفظ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
حتی کہ اگر مستحق خواتین کو ہر ماہ چند ہزار روپے نقد دینے کی بجائے سلائی کا ہنر سکھا کر ایک ایک سلائی مشین ہی دے دی جائے تو وہ نقد امداد میں ملنے والے چند ہزار روپے ماہانہ کی نسبت سلائی کرکے اپنا گھر بہتر طور پر چلا لیں گی۔ علاوہ ازیں اگر اس عمل کو زیادہ مربوط اور منظم کر دیا جائے اور ایسی مستحق خواتین کو ہنرمند بنا کر ان کا رابطہ صنعتی اداروں سے کروا دیا جائے تو بہت سی خواتین گھر بیٹھے اسٹچنگ، پیکنگ، کٹنگ یا اس طرح کے دیگر امور سرانجام دے کر مجموعی ملکی معیشت میں اپنا پیداواری حصہ ڈال سکتی ہیں۔
ہمارے ہاں اچھے پلمبر، کارپینٹر، رنگ ساز، الیکٹریشن اور دیگر ایسی خدمات فراہم کرنے والے افراد کی انتہائی زیادہ کمی ہے۔ اس وقت جو لوگ مارکیٹ میں یہ کام کر رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر ماہر نہیں ہیں جس سے نہ صرف ان کی خدمات کا معیار کمتر ہوتا ہے بلکہ لوگوں کو ان سے نان پروفیشنل روئیے کی بھی شکایت رہتی ہے۔ اس لئے اگر ہم سنجیدگی سے اس طرح کے ٹیکنیکل ہنر سکھانے کے لئے ادارے قائم کریں تو لاکھوں لوگوں کو ملک میں باعزت روزگار مل سکے گا اورایسے ہنرمند افراد کو بیرون ملک بھی اچھی ملازمتیں ملیں گی جس سے وہ اپنے گھرانوں کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں اگر سنجیدہ ہوں تو اس حوالےسے درجنوں ایسے کام ہیں کہ جن کے ذریعے غربت میں کمی لانےکے ساتھ بڑھتی ہوئی بیروزگاری پر قابو پا کر مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔