پاکستان کی اکثریت پہلے سے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ اب امریکہ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی اقتصادی یلغار بھی اسی اکثریت پر ڈال دی گئی ہے۔ 80فیصد سے زیادہ پاکستانی آبادی اپنے پیاروں کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے میں مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
ہمارے مالیاتی حکمران آئی ایم ایف اور حالیہ عالمی صورتحال کے زیر اثر یہ تو سوچتے ہیں کہ بڑھتی کشیدگی ریاست کی معیشت اور سلامتی پر کیسے اثر انداز ہوگی۔ پھر وہ پہلے سے ہی ٹیکس کے جال میں پھنسے تنخواہ دار سرکاری اور پرائیویٹ ملازموں پر یہ بوجھ ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انکے بہی کھاتوں میں اخراجات اور آمدنی اس طرح برابر ہو جاتے ہیں۔
کیا انکی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ دیکھیں کہ جس اکثریت پر وہ یہ بوجھ ڈال کر خرچہ اورآمدنی برابر کر رہے ہیں، اسکی معیشت پر اس کارروائی کے کیا اثرات ہونگے؟ وہ اپنی بڑھتی فیملی گھٹتی آمدنی سے اس اضافی خرچے کو کیسے پورا کریں گے؟
مالیاتی محکمے اس اضافی خرچ کو اکثریت کی طرف منتقل کر کے ریاست کو تو ریلیف دیتے ہیں لیکن اس اکثریت کو ریلیف دینا بھی انہی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ وزن رکھنے والی قیادتیں اس طرح یکطرفہ فیصلے نہیں کرتیں۔ انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ اس طرح آبادی کی اکثریت پر اضافی بوجھ ڈال کر انکی صلاحیتوں کو سلب کیا جا رہا ہے وہ ملک و ملت کیلئے سوچنے کے بجائے صرف اپنے اپنے گھر کی پریشانیوں کا مداوا ڈھونڈیں گے اور خود غرض ہوتے جائیں گے ۔معاشرے میں ان کی باصلاحیت شرکت معطل ہو جائیگی۔ بعض ناقدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ زبردستی مسلط کیے گئے حکمرانوں کا تو بنیادی مقصدہی یہ ہوتا ہے کہ اکثریت کو انہی مسائل میں الجھائے رکھیں۔ وہ ملکی اور عالمی معاملات کی طرف توجہ ہی نہ دے سکیں۔
پاکستان کی آبادی تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق257916617 ہے۔ پاکستان ان ملکوں میں سر فہرست ہے جو اپنی آبادی تیزی سے بڑھا رہے ہیں ۔1985ء سے آبادی بڑھانے کے شوقین حکمرانوں کی جابرانہ پالیسیوں کے باعث اس وقت ملک کی آبادی کا 45فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہے یعنی گوادر سے واہگہ تک ہر سو پاکستانیوں میں سے 45انتہائی غریب ہیں۔ یعنی قریبا ًنصف آبادی سخت غربت کا شکار ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 55روپے کے اضافے سے سب سے زیادہ متاثر بھی یہی اکثریت ہو رہی ہے۔
کم تنخواہ اور آمدنی والے سرکاری ملازمین جو گریڈ ایک سے 12تک ہیں ان کی تعداد بھی 32لاکھ ہے یعنی 32لاکھ خاندان کم آمدنی رکھتے ہیں۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی سامنے رکھیں کہ کم آمدنی والے ہر خاندان کے ارکان کی اوسط تعداد آٹھ سے 10 افراد تو ہوتی ہی ہے ۔جن کا کفیل ایک ہی ہوتا ہے۔ کم آمدنی والے لوگ سب سے زیادہ بلوچستان میں ہیں47فیصد۔ سیاسی سماجی اقتصادی اور قانونی مسائل کا سامنا بھی سب سے زیادہ بلوچستان کے غریبوں کو ہی ہے ۔بھارت کی سازشی نظریں بھی بلوچستان اور کے پی کے پر ہیں۔ کے پی کے میں کم آمدنی والے 35فیصد ہیں، سندھ میں 32 فیصد، پنجاب میں 23فیصد۔ یہ سارا منظر نامہ بہت دکھ دینے والا ہے ۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے سامنے بھی یہ المیے ہوں گے۔ خاص طور پر قومی سیاسی جماعتیں بھی یہ مناظر دیکھتی ہوں گی ۔ان کے اپنے لاکھوں کارکن بھی کم آمدنی والے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ان جماعتوں کے سربراہ امیرملکوں کے حکمرانوں سے بھی زیادہ دولت مند ہیں۔
سوال بار بار یہی ہے کہ حکمران اپنے ہم وطنوں کی حالت زار سے چشم پوشی کس کے اشارے پر کرتے ہیں ۔اپنے ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں تو اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ انہیں اعلیٰ عہدوں پر بڑی تنخواہوں کے ساتھ فائز بھی کرتے ہیں ۔لیکن کم آمدنی والے عام پاکستانیوں پر وہ ریاستی بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی ہدایت پر حکمران پٹرول جیسی ضروری چیز کی قیمت میں ایک دم اتنا اضافہ کر دیتے ہیں لیکن وہی عالمی بینک جب معیشت کا حل روزگار کے50 لاکھ مواقع پیدا کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوتی ۔
پٹرول کی قیمت میں حالیہ بڑے اضافے سے سبزی ،آٹے ،دال، گوشت ،نمک مرچ، چائے اور ہر ضروری شے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان بہت ہی بنیادی ضرورتوں کی قیمت 20 سے 25 فیصد بڑھی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے 40 فیصد زیادہ ہوئے ہیں۔ اور یہ سارا بوجھ کم آمدنی والے گروپوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ کسی نے سوچاکہ یہ ہم وطن اس صورتحال میں اپنا گھر کیسے چلاتے ہوں گے۔ وزیر خزانہ اور دوسرے حکمران ملک چلانےکیلئے تو بڑے بڑے اجلاس کرتے ہیں ۔غریب اکثریت کے گھر چلانے کیلئے بھی کیا کبھی سوچتے ہیں۔ کیا کوئی وزیر اپنے ڈرائیور خانساماں نائب قاصد اور کلرکوں سے پوچھتا ہے کہ گھر کیسے چل رہا ہے۔ میڈیا والے بھی تو اس اکثریت کیلئے کوئی ہمدردانہ آواز بلند نہیں کرتے ہیں ۔ آمدنی میں عدم توازن کا رحجان 21ویں صدی کے آغاز سے ایک ہی ادارے میں بڑی تنخواہوں اور اکثریت کی کم تنخواہوں کے درمیان شروع ہو گیا ہے۔ زیادہ تر تنخواہیں 25سے 45ہزار ماہانہ کے درمیان ہیں اور ان کے کام کے گھنٹے بھی زیادہ ہیں اور وہ بہت ضروری بنیادی کام کرتے ہیں لیکن چند افراد کی تنخواہیں 20 لاکھ سے کئی کئی کروڑ تک ماہانہ ہیں ۔ان کا کام بھی مختصر ہوتا ہے۔ حکومت کی طرح بڑی تجارتی کمپنیاں بھی اپنے نفع میں نقصان یا کمی کا بوجھ صارفین تک منتقل کر رہی ہیں اسے بجا طور پر Social cruelity کہا جا رہا ہے۔ یعنی سماجی سفاکی۔اب تو زیادہ تر بڑی کمپنیوں میں کنٹریکٹ سسٹم ہے ۔بندھی تنخواہ ۔مراعات کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔
امریکہ اسرائیل نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے دو سال سے غزہ پر بربریت جاری رکھی۔ اس میں صرف ایران نے مزاحمت کی تو ایران ان دونوں طاقتوں کا نشانہ بن گیا ۔ایران نے جوا باََ عرب ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو اپنا نشانہ بنایا ان میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جہاں پاکستان کے کم تعلیم یافتہ محنت کش کم اجرت پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں مگر انکی ترسیلات انکے گھروں کے مسائل بڑی حد تک حل کر دیتی ہیں۔ اب جب ان ریاستوں میں معیشت کمزور ہوگی تو ان میں سے بڑی تعداد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے ۔
25کروڑ پاکستانیوں میں سے کم از کم 20کروڑ موجودہ جنگی حالات سے اعصابی ذہنی اورمالی بحران میں مبتلاہیں۔ ان میں بیماریاں بھی بہت زیادہ ہیں۔ علاج معالجہ ،دو وقت کی روٹی ،بچوں کا دودھ، اسکول یونیورسٹی کی فیسیں اسی کم آمدنی میں سے ادا کرنا ہیں ۔کیا ان کیلئے کوئی ریلیف ہے؟