پاکستان میں زمینوں پر ناجائز قبضہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہمارے نظامِ حکمرانی کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔ یہ صرف جائیداد کے تنازعات کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی اس بنیادی ذمہ داری سے بھی جڑا ہوا ہے کہ وہ شہریوں کے سب سے بنیادی حق یعنی جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ بدقسمتی سے منظم قبضہ مافیا، جو اکثر محکمہ مال کے بعض بدعنوان عناصر کی ملی بھگت سے کام کرتے ہیں، زمینوں کے ریکارڈ میں ردوبدل، جعلی دستاویزات کی تیاری اور غیر قانونی انتقالات کے ذریعے قیمتی املاک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اس مسئلے کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، بیواؤں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور چھوٹے زمین مالکان کو ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر کے پاس نہ تو اثر و رسوخ ہوتا ہے اور نہ ہی اتنے مالی وسائل کہ وہ طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ لڑ سکیں۔ نتیجتاً متاثرہ افراد برسوں عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں جبکہ قبضہ مافیا بدستور زمینوں پر قابض رہتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کو شدید مالی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی کمزور کیا ہے۔اسی پس منظر میں حکومت پنجاب نے اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے ایک اہم قانون متعارف کروایا جس کا نام ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ 2025‘‘ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جائز مالکان کو غیر قانونی قبضوں، جعلی انتقالات اور منظم قبضہ گروپوں سے مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کے فوراً بعد لاہور ہائی کورٹ نے اس کے بعض پہلوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر عملدرآمد روک دیا۔ عدالت نے اس قانون کی چند شقوں کے حوالے سے آئینی نوعیت کے سوالات اٹھائے، خصوصاً یہ کہ کہیں اس کے ذریعے انتظامیہ کو ایسے اختیارات تو نہیں مل رہے جو مناسب عدالتی نگرانی کے بغیر استعمال ہو سکتے ہوں۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگرچہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی ایک نہایت اہم اور قابلِ تحسین مقصد ہے، تاہم کسی بھی قانون کو آئینی تقاضوں اور بنیادی حقوق کے دائرے میں رہ کر نافذ کیا جانا ضروری ہے۔ عدالت کی نشاندہی کے بعد حکومت پنجاب نے اس قانون کا تفصیلی جائزہ لیا اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اس میں ضروری ترامیم متعارف کروائیں۔ ان ترامیم کا مقصد طریقہ کار کو زیادہ شفاف بنانا، شہریوں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانا اور قانون کے نفاذ کے طریقہ کار کو آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ان اصلاحات کے بعد اس قانون کو مزید مضبوط شکل میں نافذ کیا گیا جسے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) ایکٹ 2026‘‘کا نام دیا گیا۔ اس ترمیم شدہ قانون میں بنیادی مقصد یعنی جائیداد کے مالکان کے حقوق کا تحفظ برقرار رکھا گیا جبکہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ قانون کا نفاذ مکمل طور پر آئینی حدود کے اندر ہو۔تاہم صرف قانون سازی کافی نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اس کے مؤثر اور دیانت دارانہ نفاذ میں ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے ایک اہم انتظامی فیصلہ کیا اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) پنجاب کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا۔حکومت نے سی سی ڈی کو ایک اضافی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ منظم قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔یہ فیصلہ قبضہ مافیا کیخلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمینوں پر قبضہ صرف ایک سادہ سول تنازعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے اکثر منظم جرائم پیشہ گروہ، جعلی دستاویزات، دھونس دھمکی اور غیر قانونی قبضہ شامل ہوتا ہے۔ ایسے جرائم سے نمٹنے کیلئے محض روایتی انتظامی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ مضبوط تفتیشی صلاحیت اور مؤثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔سی سی ڈی کویہ ذمہ داری دینا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ قبضہ مافیا کا مسئلہ ایک منظم جرم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔تاہم اس اقدام کی کامیابی کا انحصار ایک نہایت اہم عنصر پر ہےوہ ہےادارہ جاتی دیانت۔اگر یہ ادارہ اسی پیشہ ورانہ دیانت اور جرات کے ساتھ کام جاری رکھتا ہے جو اس نے سنگین جرائم کیخلاف کارروائیوں میں دکھائی ہے تو یہ فیصلہ پنجاب میں قبضہ گروپوں کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔اس مسئلے کی سنگینی کو ایک حقیقی واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ایک سابق سینئر بیوروکریٹ نے کم آمدنی والے افراد کے لیے ایک چھوٹی کوآپریٹو ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ اس منصوبے کیلئے متعلقہ بلدیاتی اداروں سے باقاعدہ این او سی حاصل کیا گیا اور پلاٹ خریداروں کو قسطوں پر قانونی طور پر الاٹ کیے جا چکے تھے۔لیکن حیرت انگیز طور پر اسکے اپنے ہی منیجر نے بعض نچلے درجے کے محکمہ مال کے اہلکاروں، جن میں ایک نائب تحصیلدار بھی شامل تھا، کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات تیار کیں اور پہلے سے الاٹ شدہ پلاٹ غیر قانونی افراد کے نام منتقل کر دیے۔اپنے وسیع انتظامی تجربے اور اثر و رسوخ کے باوجود اس بیوروکریٹ کو ان غیر قانونی انتقالات کو واپس کروانے کے لیے ایک طویل جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔اگر ایسے بااثر افراد بھی اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں تو عام شہریوں، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
نیا قانونی فریم ورک اور سی سی ڈی کی شمولیت اس بات کی امید پیدا کرتی ہے کہ شاید اس دیرینہ مسئلے کے حل کی سمت میں کوئی حقیقی پیش رفت ممکن ہو ۔مزید اہم بات یہ ہے کہ اگر پنجاب اس تجربے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پورے ملک کیلئے ایک مثال بن سکتا ہے۔ دیگر صوبوں کو بھی اس ماڈل کا جائزہ لے کر اپنے ہاں قبضہ مافیا کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات متعارف کرانے چاہئیں۔