دنیا بھر میں جہاں زیادہ تر توجہ برقی گاڑیوں پر مرکوز ہے، وہاں امریکی ریاست یوٹاہ کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک غیر معمولی کار تیار کی ہے جو صرف ایک گیلن (3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ کار جسے ’سپر مائلیج‘ کہا جاتا ہے، انتہائی ہلکی، کمپیکٹ اور ایروڈائنامک ڈیزائن کی حامل ہے۔ اس کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے اور یہ کاربن فائبر سے بنی ہے۔ اس میں محض 30 ملی لیٹر کا ایندھن ٹینک نصب ہے، جو ایک ٹیسٹ ٹیوب سے کچھ بڑا ہے اور صرف 20 میل کے سفر کے بعد دوبارہ بھرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
سپر مائلیج کو سالانہ شیل ایکو-ماراتھون مقابلے کے لیے بنایا گیا ہے، جہاں شرکاء کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کار میں روایتی گاڑیوں کی تمام جدید سہولیات نکال دی گئی ہیں، حتیٰ کہ ڈرائیور کے قد اور وزن کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ اس میں صرف وہی شخص بیٹھ سکتا ہے جس کا قد 163 سینٹی میٹر (5.4 فٹ) اور وزن 54 کلوگرام (119 پاؤنڈ) تک ہو۔
کار سازوں نے حساب لگایا ہے کہ یوٹاہ سے نیو یارک تک کا سفر صرف ایک گیلن ایندھن سے ممکن ہے۔ تاہم یہ سفر نہایت مشکل ہوگا کیونکہ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس کا ٹینک انتہائی قلیل ہے ہر 20 میل کے بعد ٹینک دوبارہ بھرنا پڑے گا۔
یہ بات اہم ہے کہ سپر مائلیج کسی تجارتی مقصد کے لیے نہیں بلکہ صرف ایک تجرباتی گاڑی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ مخصوص حالات میں فوسل فیول گاڑیاں بھی انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔