ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک کو تیل کی سپلائی کے لیے متبادل راستوں کی تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال روسی تیل کی صنعت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، جو 2022ء میں یوکرین کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کا شکار ہے۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ماسکو کو کافی فائدہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران روس تیل کی فروخت سے بجٹ آمدنی میں 150 ملین ڈالرز تک روزانہ اضافی کما رہا ہے، اہم بات یہ ہے کہ روس کا خام تیل جو تقریباً 2 ماہ تک 52 ڈالرز فی بیرل میں فروخت ہو رہا تھا، اب 70 سے 80 ڈالرز فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت جو پہلے ہی روسی خام تیل کے بڑی خریدار تھے، اب امریکا و اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد ان دونوں ممالک کی روس سے تیل کی درآمدات میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ روس نے ایران جنگ کے پہلے 12 دن میں تیل کی برآمدات سے 1.3 بلین ڈالرز سے 1.9 بلین ڈالرز اضافی ٹیکس ریونیو حاصل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایران کی آبنائے ہرمز پر اسی طرح گرفت مضبوط رہتی ہے تو روس اس ماہ کے آخر تک 3.3 بلین ڈالرز سے 5 بلین ڈالرز کی اضافی آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کے دوران روسی تیل پر عائد پابندیاں 30 دن کے لیے اُٹھا لی ہیں۔