جاپان اور امریکا قریبی اتحادی ہیں اور 1952ء کے معاہدۂ باہمی تعاون اور سلامتی کے تحت قائم طویل المدتی فوجی اور اقتصادی شراکت داری کو برقرار رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی جاپان نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر متاثرہ ممالک سے آبنائے ہرمز میں بحری افواج تعینات کرنے کے مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم جاپان اور جنوبی کوریا امریکا کے اتحادی ہونے کے باوجود اس معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
خیال رہے کہ جاپان میں بیرونِ ملک سیلف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے، کیونکہ ملک امن پسند پالیسی کا حامل ہے اور بہت سے ووٹرز امریکی نگرانی میں تیار ہونے والے جاپانی آئین کی حمایت کرتے ہیں، جو جنگ سے دستبرداری کے اصول پر مبنی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جاپان کے ایک سینئر پالیسی مشیر نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے شدید سنگین صورت میں ہی جاپانی جنگی جہاز بھیجے جا سکیں گے۔
جاپانی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی کی حکمراں جماعت کے پالیسی سربراہ تایوکی کوبایاشی کا کہنا ہے کہ موجودہ جاپانی قوانین کے تحت خطے میں جاپانی بحریہ کے جہاز بھیجنے کی حد کو انتہائی بلند سمجھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر ہم اس امکان کو رد نہیں کرتے، تاہم موجودہ صورتِ حال میں جب یہ تنازع جاری ہے، اس معاملے پر انتہائی احتیاط کے ساتھ غور کرنا ضروری ہے۔
دریں اثناء تیل کی فراہمی مستحکم رکھنے کے لیے جاپان کی نجی کمپنیوں نے ذخیرہ شدہ تیل جاری کرنا شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کی نجی کمپنیوں کے پاس 70 دنوں کے برابر اسٹاک موجود ہے، حکومت کے پاس علیحدہ قومی اسٹاک بھی ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی اس اپیل پر پوری توجہ دے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق ہم صدر ٹرمپ کی اپیل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس معاملے پر امریکا کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد محتاط انداز میں فیصلہ کریں گے۔
حکام کے مطابق جنوبی کوریا توانائی کی ترسیل کے راستوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر جامع غور اور جائزہ لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی مدد کی اپیل پر دنیا خاموش ہے۔ برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے امریکا کو انکار کر دیا جبکہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔