• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی معیشت کئی بیرونی عوامل سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر ہماری معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال اور امریکہ کی شمولیت نے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہل کر رہ جاتی ہے۔پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جو توانائی کے لیے بیرونی ذرائع پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو حالیہ صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوسطاً پچاس روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنا پڑا۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر عام آدمی پر پڑتا ہے، کیونکہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ، بجلی، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی اور قومی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار کرے۔ اس حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ اسٹرٹیجک تیل اور خوراک کے ذخائر کا قیام ہونا چاہیے۔دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اس مسئلے کو بہت پہلے سمجھ چکے ہیں۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک کے پاس کئی مہینوں کے لیے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں سپلائی متاثر ہو جائے یا جنگی صورتحال پیدا ہو جائے تو ملک کے اندر کم از کم چند مہینوں تک ضروریات پوری کی جا سکیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اس معاملے پر ہمیشہ کم توجہ دی گئی ہے۔ ہمارے پاس اس وقت تیل کے محدود ذخائر ہیں جو چند ہفتوں سے زیادہ نہیں چل سکتے۔ یہی صورتحال خوراک کے معاملے میں بھی کسی حد تک موجود ہے۔پاکستان کے لیے اس طرح کے ذخائر قائم کرنا بظاہر مشکل ضرور لگتا ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایک واضح پالیسی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ حکومت اکیلے یہ کام مکمل طور پر نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یعنی سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پاکستان میں کئی بڑے کاروباری گروپ، بینک اور سرمایہ کار ایسے ہیں جنہیں اگر مناسب پالیسی اور تحفظ دیا جائے تو اس منصوبے میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ حکومت اگر انہیں ٹیکس میں سہولت دے، طویل مدتی معاہدے اور مناسب منافع کی ضمانت دے تو یہ منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے۔اسٹرٹیجک تیل کے ذخائر کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں بڑے اسٹوریج ٹینک یا زیر زمین ذخیرہ گاہیں بنائی جا سکتی ہیں۔ ساحلی علاقوں جیسے گوادر، کراچی اور حب کے قریب اس طرح کے منصوبے نسبتاً آسانی سے بن سکتے ہیں کیونکہ وہاں بندرگاہوں تک رسائی موجود ہے۔ اسی طرح ملک کے اندرونی علاقوں میں بھی ذخیرہ گاہیں بنائی جا سکتی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔خوراک کے ذخائر کا معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے اور ہم گندم، چاول، چینی اور دیگر بنیادی اجناس پیدا کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ذخیرہ کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گندم کی پیداوار اچھی ہونے کے باوجود ذخیرہ کرنے کی ناقص سہولتوں کی وجہ سے لاکھوں ٹن اناج ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر جدید گودام اور سائیلوز بنائے جائیں تو نہ صرف اناج محفوظ رہے گا بلکہ اسے طویل عرصے تک استعمال کے قابل بھی رکھا جا سکے گا۔یہاں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت اگر نجی شعبے کو جدید سائیلوز بنانے کی اجازت دے اور ان کے لیے مالی مراعات فراہم کرے تو چند سالوں میں ملک بھر میں جدید ذخیرہ گاہوں کا جال بچھایا جا سکتا ہے۔ اس سے کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ ان کی فصل بہتر طریقے سے محفوظ ہو سکے گی اور مارکیٹ میں استحکام پیدا ہوگا۔پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عام آدمی کی فلاح اور معاشی استحکام کی بات کرتی آئی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں صنعتی ترقی اور قومی خودمختاری کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے تھے۔ اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی معاشی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر زور دیا۔ آج اگر ہم اسٹرٹیجک ذخائر کی بات کرتے ہیں تو یہ دراصل اسی سوچ کا تسلسل ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار بنایا جائے۔اگر ملک کے پاس ساٹھ دن کے تیل اور خوراک کے ذخائر موجود ہوں تو عالمی بحرانوں کا اثر کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے حکومت کو بھی وقت ملتا ہے کہ وہ بہتر فیصلے کر سکے اور فوری طور پر قیمتوں میں بڑا اضافہ نہ کرنا پڑے۔ عام آدمی کے لیے بھی یہ ایک بڑا سہارا ہوتا ہے کیونکہ اچانک مہنگائی کے جھٹکے کم ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت کئی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہر بحران میں ایک موقع بھی چھپا ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ہم اپنی توانائی اور خوراک کی سلامتی کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر آج ہم سنجیدہ منصوبہ بندی کریں تو آنے والے دس سے پندرہ سالوں میں پاکستان اس حوالے سے کافی مضبوط ہو سکتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسٹرٹیجک تیل اور خوراک کے ذخائر اب کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکے ہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی سیاست کے اثرات براہِ راست معیشت پر پڑتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ایک مضبوط اور مستحکم ملک بنانا ہے تو ہمیں مستقبل کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ساٹھ دن کے قومی ذخائر کا تصور اسی سمت میں ایک اہم قدم ہو سکتا ہے جو نہ صرف ہماری معیشت کو مضبوط بنائے گا بلکہ عام آدمی کو بھی مشکل وقت میں سہارا فراہم کرے گا۔

تازہ ترین