ایران پرحملے کے دو مقاصد تھے۔ایک تو یہ کہ لوگوں کی توجہ قیدی نمبر 804سے ہٹادی جائے۔دوسرے یہ کہ لوگ محکمہ اطلاعات کی طرف سے جاری ہونے والے ’اچھا جی‘ کانٹینٹ پر بات کرنا چھوڑ دیں۔میرے جیسے لوگ حملے والے دن ہی اس چال کو بھانپ گئے تھے۔میں نے سوچ لیا تھا کہ میں اسرائیل کو دوسرے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔آبنائے ہرمز کھلنے سے پہلے محکمہ اطلاعات کے سامنے یہ سوال رکھوں گا کہ اس کانٹینٹ کو مزاح کہنے والا کانفیڈنس آپ کہاں سے لائے تھے۔رشید صدیقی نے لکھا تھا، طنز و مزاح بڑے ہتھیار ہیں۔اس کا استعمال کسی سپہ سالار کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔یہاں سالار خود استرے کی کاٹ سے بے خبر نکلے۔ایک تو بندر کو استرا پکڑوانے میں مدد کی اوپر سے داد بھی طلب کی۔نصرت جاوید صاحب نے اس پر کمال تبصرہ کیا۔مزاح ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اسے سٹرگلنگ پروپیگنڈا بازوں کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ان کا اشارہ اسی الف انار مخلوق کی طرف تھا جسے کچھ لوگ جین زی کہتے ہیں۔ہر دور کے اپنے جینزی ہوتے ہیں۔انکی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔موجودہ زمانہ بھی اپنے حصے کے جینزیوں سے بھرا پڑا ہے۔مگر جنہیں جینزی باور کروایا جارہا ہے وہ تو کوئی عجیب ہی کاغذی پھول ہیں۔بالوں میں سیرم اور جملے میں bro لگا کر ارطغرل غازی ڈرامہ دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔
اگر آپکو لگتا ہے کہ اچھا جی والے کانٹینٹ میں مجھے نسل پرستانہ اشاروں سے مایوسی ہوئی ہے، تو یہ آپکی غلط فہمی ہے۔نسل پرستانہ حوالوں کا تو تقریباً پوری قوم نے ہی پوسٹ مارٹم کردیا تھا۔اس پر مزید کسی مایوسی کا اظہار کیا کرنا۔مجھ غریب کا سارا دکھ اس کیپشن سے جڑا ہوا ہے جو وزیر موصوف نے ویڈیو پرلگایا تھا۔فرمایا، انڈین وار ہو یا افغان، ہمارے لوگ مزاح نہیں بھولتے۔لاحول ولا۔ ایسی بدذوقی کا اظہار وہ بھی رمضان کے مقدس مہینے میں؟ مطلب اس اچھا جی کانٹینٹ کا ،اُس کانٹینٹ کے ساتھ تقابل بھی کیسے ہوسکتا ہے جو پاکستانیوں نے پاک بھارت جنگ کے دوران تخلیق کیا تھا۔کیسا لگے اگرچاہت فتح پرتبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا جائے، چاہت فتح علی خان میں نصرت فتح علی خان والی کوئی بات نہیں ۔بظاہر اس جملے میں چاہت کی نفی ہی ہورہی ہے مگر ایک ہی سانس میں چاہت اور نصرت کا نام لینا کتنی بڑی جسارت ہے۔سانس لیے بغیر ایک ہی جملے میں تو چاہت کے کانٹینٹ اورمحکمہ اطلاعات کے کانٹینٹ کا ذکر بھی نہیں کیا جاسکتا۔چاہت فتح کے پاس ٹیم، اسکرپٹ رائٹر، ڈائریکٹر اور سرمایہ کچھ بھی نہیں ہے۔اسکے باوجود وہ اپنے کانٹینٹ میں موسیقی کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔
اچھا سچی بات تو یہ ہے کہ پاک افغان جنگ کے دوران مزاح والے مورچوں پر مکمل خاموشی رہی۔کوشش کرکے بھی مزاح کا کوئی پہلو نہیں نکالا جا سکا۔دو چار جگتیں کہیں سے فائر بھی ہوئیں تو اس میں نسل پرستی کا بارود زیادہ تھا۔پیشے وغیرہ بھی کراس فائر کی زد میں آگئے۔ کسی نے نان بائی اور قالین فروش کو رگڑدیا تو کسی نے جوابی حملے میں شاہی محلے کا تذکرہ بدمزہ انداز میں کردیا۔بیچاری دال اور دھوتی بھی کولیٹرل ڈیمیج کا شکار ہوگئی۔اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ افغانستان اور پاکستان کے پاس مودی اور نیتن یاہو جیسے جگت مٹیریل ہی موجود نہیں ہیں۔اب ملا ہیبت اللہ پہ کوئی کیا جگت مارے۔جگت کی اپنی ہی سائنس ہے۔کم از کم بھی شمالی کوریا کا صدر سامنے کھڑا ہو تو جگت آگ پکڑتی ہے۔
جگت کی ٹریفک یکطرفہ نہیں ہوتی۔جگت لگانی بھی ہوتی ہے اورسہنی بھی ہوتی ہے۔جگت کوجگت سے ہی کاٹنا ہوتاہے۔منہ بسورنے اور سر پھوڑنے کی اسمیں گنجائش نہیں ہوتی۔جگت مارنے کا حق اسی کو ہوتا ہے جو جگت لگوانا بھی جانتا ہو۔خوداپنی ذات پر بھی جگت لگا سکتا ہو۔پاکستانیوں نے یہی کیا۔انہوں نے اپنی میمز میں بالی ووڈ کے کرداروں اور اداکاروں سے لیکر کچوری بیچنے والے لالا چنگانی تک سب کا احاطہ کیا۔جنگ کے خاتمے پر بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ایک ستم ظریف نےلکھا، پاک بھارت جنگ رکنے کے بعد کراچی میں حالات معمول پر آگئے ہیں، موبائل چھیننے کا پہلا واقعہ سامنے آگیا ہے۔اکثریت نے ہر چیز کو نشانے پر لیا،مگر مذہبی اور نسلی بنیادوں پر کہی گئی کوئی لائن کہیں سے کچھ خاص سنائی نہیں دی۔ پاکستانیوں نے غیر شعوری طور پرمزاح کو جذباتی ڈھال بنائے رکھا۔کرنل محمد خان اور کرنل شفیق الرحمن جیسے لوگ بھی یہی کرتے تھے۔تب ڈیجیٹل میڈیا نہیں تھا، سو یہ کام وہ اپنی ڈائریوں میں کر رہے ہوتے تھے۔
اسرائیل ایران جنگ میں بھی اول اول مزاح والے مورچوں پرخاموشی رہی۔شاید آیت اللہ خامنہ ای کی وجہ سے ماحول کچھ زیادہ سوگوار ہوگیا تھا۔مگر جوانوں نے زیادہ دیر یہ ماحول رہنے نہیں دیا۔میمز والے ہتھیار نکل آئے۔نیتن یاہو کو اتنا نقصان ایران کے میزئلوں نے نہیں پہنچایا جتنا میمز اور جگتوں کے پے درپے وار نے پہنچایا۔شہاب تھری میزائل کو اسرائیل ڈوم ٹیکنالوجی کی مدد سے روک رہا ہے مگر مزاح تھری کا اسکے پاس کوئی توڑ نہیں ہے۔اسکے حملے اتنے جان لیوا ہیں کہ نیتن یاہو سنبھل ہی نہیں پا رہے۔ ٹھیک سے اپنی خیریت بھی نہیں بتا پا رہے۔ایک کے بعد ایک وڈیو آتی ہے،کچھ جوان اسے اے آئی جنریٹڈ ثابت کر کے مزاح کے تنور پر کھڑے تندورچی کی طرف پھینک دیتے ہیں۔وہ الٹے توے پہ رکھ کر وڈیو کا وہ حشر کر دیتے ہیں کہ AI بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیتی ہے کہ یہ میں کہاں نکل آئی ہوں۔جنگ کے ماحول میں پچھلے چھ دن سے انہی جوانوںکی حس مزاح جذباتی ڈھال بنی ہوئی ہے۔یہاںاس مزاح کی بات نہیں ہو رہی جو اسپانسرڈ پروپیگنڈا باز یا کسی نظریے کے ایجنٹ زور لگاکر بنا رہے ہیں۔اس مزاح کی بات ہورہی ہے جوحالات اور احساس کے تال میل سے سرزد ہو رہا ہے۔