دنیا نے دیکھ لیا، اسلامی ملکوں پر بھی واضح ہو گیا اور خاص طور پر عرب ملکوں پر کہ انکا اصل دشمن کون ہے۔ اگر عرب ممالک میں امریکی اڈے نہ ہوتے تو ایران کے حملے ان پر نہ ہوتے۔ اور جب حملے ہوئے ہیں تو امریکہ ان عرب ممالک کے دفاع کیلئے کیوں آگے نہیں آیا۔ اس جنگ نے تو یہ واضح کر دیا کہ دنیاکے امن کیلئے اسرائیل سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ ہے۔ اب یہ سچائی بھی مسلم ہو گئی ہے کہ نومبر 2024ء میں امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو دوسری معیاد دے کر انتہائی غلط فیصلہ کیا تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان اور کانگرس یہ طے کرنیوالے ہیں کہ ٹرمپ کا بدستور صدر رہنا امریکہ کے عظیم تر جمہوری اقتصادی اور سماجی مفادات کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔اس وقت دنیا میں اور بالخصوص عالم اسلام میں امریکہ نفرت کا نشان بن کر رہ گیا ہے۔ پوری دنیا میں ایران ایک نہ جھکنے اور نہ بکنے والی قوم کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ بالکل ویتنام کی طرح جہاں امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں سمیت ایک عبرت کی مثال بنا تھا۔ ویتنام امریکہ کے ضمیر پر اب بھی ایک بدنما داغ ہے۔ سائیگان جہاں امریکہ برسوں غاصب بن کر قابض رہا اب وہاں ہوچی منہ کا نام جگمگاتا ہے۔ خیال یہی تھا کہ نکسن کے بعد آنے والے امریکی صدور ویتنام کی شکست سے سبق حاصل کریں گے لیکن امریکہ کو اپنی عسکری طاقت اور اقتصادی قوت پر ایسا غرور ہے کہ یہ بدمست بھینساکہیں نہ کہیں سینگ پھنسا لیتا ہے۔ ہمارے پڑوس افغانستان میں2001 ء میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر اسامہ بن لادن کی تلاش میں دو دہائیوں تک اپنے لاؤ لشکر اور نیٹو کے اتحادی فوجیوں کیساتھ سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ اربوں ڈالر خرچ کر دیے۔ ایک فوج بھی کھڑی کر دی ۔جاپان سے کینیڈا تک کے فوجیوں کو اپنی اس مبینہ صلیبی جنگ میں شامل کیا ۔پاکستان بھی اس کا نان نیٹو اتحادی رہا ۔پھر وہاں سے 2021ء میں اس طرح فرار ہوا کہ اپنے افغانی مدح خواں، مترجم اعلیٰ، افسروں سب کو چھوڑ کر اپنے امریکیوں کو لیکر چلا گیا۔ یہ ہے امریکہ کی عظمت و شوکت کی عبرت ناک کہانی۔ اب فروری مارچ 2026 ء میں خلیج میں رسوا ہو رہا ہے کہ جن ملکوں نے اسے اربوں ڈالر کا نذرانہ دیا۔ کھلے بالوں سے خواتین کا رقص بھی پیش کیا۔ اربوں ڈالر کا ایک سجا دھجا قیمتی جہاز بھی تحفے میں دیا وقت آیا تو یہ ان دولتمند ریاستوں کی دفاعی ڈھال بننے کے بجائے اسرائیل کا باڈی گارڈ بنا رہا۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ ایران، عمان میں امریکہ سے مذاکرات کر رہا تھاعمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات بہت اچھے ماحول میں ہو رہے ہیںپرامن نتیجے کی توقع ہے لیکن اسی دوران مذاکرات ختم کیے بغیر اسرائیل کے واویلے پر امریکہ نے ایران پر رات گئے حملہ کر دیا ۔دنیا حیران رہ گئی۔ایران نے ویتنام کی طرح بلکہ اس سے زیادہ شدید مزاحمت کی ۔جدید ٹیکنالوجی پر اسرائیل اور امریکہ کو بہت زعم تھا لیکن کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے بھی اس جدید دور کی جنگ کی پوری تیاری کر رکھی تھی۔ 14 روز مسلسل ایسی مزاحمت کی کہ اب امریکہ مذاکرات کیلئے کہنے پر مجبور ہے تو ایران صاف انکار کر رہا ہے ۔امریکہ اسرائیل کا یہ خیال بھی باطل ہو گیا کہ ایران کی قیادت کو جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا تو ایران میں تبدیلی آجائیگی۔ مگر دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں بھی دیکھ رہی ہیں کہ ایرانی انقلاب کے تحفظ کیلئے کتنے حصار باندھے گئے ہیں ایران کی اس غیر متوقع مزاحمت نے دنیا کا رحجان ہی بدل دیا ہے۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ عرب ملکوں پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ انہیں اصل خطرہ کس سے ہے۔ جنگ اب زیادہ طول نہیں پکڑ سکتی کیونکہ امریکی رائے عامہ مزید جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ جنگ بندی کے بعد بہت سی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔خلیجی ریاستوںبالخصوص متحدہ عرب امارات میں احساس زیاں ہے۔ جسے علامہ اقبال نے متاع کارواں قرار دیا تھا۔ ایران نے اس خطے میں اپنی استقامت سے اپنا وجود تسلیم کروا لیا ہے جدید ٹیکنالوجی جس طرح جنگ میں بہت کام آئی ہے یہ امن کے قیام میں بھی اس سے زیادہ مددگار ہوسکتی ہے۔ پھر خلیج میں عرب ریاستوں کو خود بھی بدلنے کا خیال ہے ۔ان کے پاس زر مبادلہ کے بڑے ذخائر بھی ہیں بصیرت بھی ہے اور تبدیلی کا عزم بھی اطلاعات کے مطابق وہاں بعداز جنگ حکمت عملی کی تیاریاں شروع بھی ہو چکی ہیں۔ حکمران کمپنیاں، ماہرین، پروفیسرز سب آنے والے دنوں کی اقتصادی سماجی اور سیاسی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے تجربے سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے کیونکہ انہیں سیکھنے کی عادت ہے۔ ان خطرناک دنوں میں بھی انہوں نے اپنے لوگوں کو اعتماد میں لیا ۔سب سے بڑی سوچ یہ نظر آرہی ہے کہ خلیجی ملکوں کی کونسل اپنا دفاعی حصار خود بنائے گی امریکہ پر انحصار نہیں کریگی اور جب امریکہ پر پہلے کی طرح انحصار نہیں ہوگا تو ایران بھی ان عرب ملکوں سے اپنی مخاصمت ختم کر سکتا ہے۔ دفاعی حصار کی مضبوطی کیلئے عرب ممالک دو اسلامی ملکوں پاکستان اور ترکیہ سے عملی معاونت لے سکتے ہیں ۔ یہ دونوں ملک ایران کے پڑوسی بھی ہیں اور ایران سے انکے اچھے تعلقات بھی ہیں۔پاکستان کیلئے سنہری موقع ہے کہ جب تک یہ خلیجی ممالک اپنا اصلاحی پروگرام طے کر کے نافذ کرتے ہیں اس وقت تک ہم متبادل کے طور پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کو پیش کریں، دنیا کی اہم بندرگاہ گوادر سے تجارت بڑھائیں۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک پل بنیں۔ چین پہلے سے ہی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی ختم ہوتو پاکستان کو بھی چاہیے کہ افغانستان سے مذاکرات کا راستہ ہموار کرے ۔ ہمیں بھی امریکہ کی قربت سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ایران سے پابندیاں ہٹانے کیلئے آواز بلند کریں۔ اپنے ازلی دشمن انڈیا سے خبردار رہیں کہ وہ پاکستان ایران، پاکستان افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے دن رات مصروف ہے۔ رائے عامہ کو بیدار کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور کھل کر ان چار سوالات پر بحث کی جائے 1۔کیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے تابڑ توڑ حملوں کا کوئی جواز تھا 2۔ عرب ملکوں میں جب امریکی اڈے نہیں تھے اس وقت بھی کیا ایران اور ان ملکوں میں ایسی ہی دشمنی تھی 3۔ ایران نے عرب ممالک پر امریکی اڈوں اور اقتصادی مراکز کے موجب حملے کر کے صحیح قدم اٹھایا یا غلط 4۔ امریکہ اور اسرائیل کی اس کھلی جا رحیت کے بعد کیا پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں کو بورڈ آف پیس میں شرکت پر نظر ثانی نہیں کرنی چاہئے....