فرانس میں حجاب یا جلباب، برقع یا جو بھی کہہ لیں پر پابندی کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی پیرس میں اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ قانون پر عمل درآمد کے پہلے روز دو برقع پوش خواتین کو گرفتار کر کے ان پر جرمانہ کیا گیا ہے تا ہم فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو برقع پہننے کے جرم میں نہیں بلکہ مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت عوامی مقامات سکولوں کالجوں دفتروں اور عدالتوں میں چہرہ چھپانے پر پابندی لگائی گئی ہے ایسا کرنے والے کسی بھی شخص (عورت مرد) کو پولیس اسٹیشن لے جا کر نقاب اتارنے کو کہا جائے گا۔حکم عدولی پر ڈیڑھ سو یورو جرمانہ کیا جائے گا اور ایسے افراد جو خواتین کو چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کریں گے انہیں تیس ہزار یورو جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس خبر کے ساتھ ہی گریٹر مانچسٹر کے علاقے بری سے خبر آئی ہے کہ برقع پہنے ایک شخص نے جیولری کی دکان لوٹ لی جبکہ برقعے کے نیچے اس نے شاٹ گن بھی چھپائی ہوئی تھی ۔گریٹر مانچسٹر میں مسلم کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے اور خواتین میں روایتی برقعے کا رواج عام ہو رہا ہے ادھر فرانس کے ہمسایہ ملک بیلجیم کی حکومت نے برقع پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے برسلز کے میئر کونسلر نے احتجاجی پروگرام کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے برسلز کے مکینوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہوگا اور ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہونگے یہاں میں یہ بات بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بیلجیم کی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت نے مسلم خواتین کی طرف سے برقع پہننے کی پابندی کی حمایت کر دی ہے اس لیے پابندی کا قانون بیلجیم میں بھی نافذ کر دیا گیا ہے اس سے پہلے یہ خبر آ چکی ہے کہ بیلجیم کے شمال میں ایک ٹاؤن نے ان مسلمان خواتین کو جرمانہ کرنا شروع کر دیا ہے جو عوامی مقامات میں روایتی برقع اوڑھتی ہیں اب تک پانچ خواتین کو ایک سو یورو تک جرمانہ کیا گیا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں عورتیں جن کو جرمانہ کیا گیا ہے کوئی کام وام نہیں کرتیں اور سوشل سکیورٹی مراعات اور بینیفٹ لیتی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ہونے والا جرمانہ بھی حکومت ہی کو بھرنا پڑے گا اس لیے یہ خواتین حکومت اور قوانین کو برا بھلا کہنے کی بجائے جرمانہ بھرنے کو ہر دم تیار ہیں ابھی کچھ عرصہ پہلے یورپ ہی کے ملک اٹلی کے شمالی شہر نوارہ میں ایک بازار میں مکمل برقع میں ملبوس خرید و فروخت کرنے والی ایک خاتون (ظاہر ہے مسلم) کو اطالوی پولیس نے جرمانہ کر دیا۔ اٹلی میں اپنی نوعیت کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے پولیس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ میونسپل پولیس نے تیونس کی ایک خاتون کو 5 سو یورو جرمانہ کیا ہے اب ذرا یورپ سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا کو دیکھتے ہیں۔
آسٹریلیا کے اپوزیشن سینٹ کے رکن کو ری برنار ڈی نے برقع کو آسٹریلیا کے مزاج اور کلچر کے خلاف قرار دیا ہے اس نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ جب موٹر سائیکل سوار اپنی شناخت کروانے کیلئے اپنا ہیلمٹ ہٹاتے ہیں لیکن ایک برقع پوش یا نقاب پوش خاتون مذہبی اصولوں کے تحت نقاب ہٹانے سے انکار کرتی ہے کہ مسلم عورت کو ایسا کرنے سے اسلام روکتا ہے اور وہ اس لیے کہ اسے مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے میرے حساب سے آج مسلم معاشرے میں جوپیچیدگیاں اور برائیاں در آئی ہیں بد قسمتی سے ان پر کم توجہ دی گئی ہے ان میں ایک پردہ ،حجاب ،جلباب یا برقع کا مسئلہ بھی ہے اس موضوع بحث بنے ہوئے مسئلے کو پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف ٹھہرا بہت کم اہل علم ہیں جنہوں نے اس گھتی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے کسی چیز کا جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہو جانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں اجتہاد کی ضرورت ہے ۔مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل کرنا دشوار ہو جاتا ہے اس وقت ایسی راہ تلاش کرنا پڑتی ہے کہ اس حکم کا پورا پورا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جا سکے اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے اس کو پُر کیا جا سکے۔ ایک بنیادی سوال جس نے میرے ذہن میں سر اٹھایا ہے یہ ہے کہ پردے کی غایت و غرض کیا ہے؟ اس پر میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے......
خود تو بیٹھے ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت لگا رہے ہیں ہوا کے دباؤ پر