بھارت کی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ شخص کی جان ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن کے ذریعے بچا لی گئی۔
مریض کے سینے میں 13 سینٹی میٹر لمبا چاقو گہرائی تک پیوست تھا، جسے لکھنؤ کے ڈاکٹروں نے کامیابی سے نکال دیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق چاقو سینے کے دائیں حصے میں گہرائی تک داخل ہو کر پھیپھڑوں کی شریان کی ایک شاخ کو زخمی کر چکا تھا اور جسم کی ایک اہم رگ سپیریئر وینا کاوا سے چند ملی میٹر کے فاصلے پر رکا ہوا تھا۔
سرجنز نے بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر چاقو کو فوری طور پر نہیں نکالا کیونکہ جسم میں پیوست کسی نوکیلی چیز کو قبل از وقت نکالنے سے شدید اندرونی خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے پہلے خون بہنے کو قابو میں کیا، پھر تقریباً 500 ملی لیٹر جمع شدہ خون اور لوتھڑے نکالے، متاثرہ پلمونری آرٹری کی مرمت کی اور مریض کے پھیپھڑے کو محفوظ رکھا، جسے نکالنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
مریض اس وقت آئی سی یو میں زیرِ علاج ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔
ڈاکٹروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی حادثے یا حملے کے بعد جسم میں دھنسے ہوئے چاقو، لوہے کی سلاخ یا کسی بھی دوسری چیز کو خود سے ہرگز نہ نکالیں کیونکہ ایسی اشیاء بعض اوقات عارضی طور پر خون بہنے کو روکے رکھتی ہیں، انہیں صرف اسپتال میں ماہر سرجنز کی نگرانی میں نکالا جانا چاہیے۔