بلاشبہ سمندر کی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے۔ وہ لہروں کی سرگوشیوں میں بولتا ہے،افق کی خاموشی میں سوچتا ہے اور وقت کے سینے پر اپنے نقوش چھوڑتا جاتا ہے۔ کبھی اس کے پانیوں پر تجارت کے قافلے تیرتے ہیں،کبھی جنگی بیڑے اس کے سینے کو چیرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ خلیج کی وسعتوں میں کھڑا ایک خاموش جزیرہ بھی ایسی ہی ایک داستان کا امین ہےجسےدنیا جزیرہء خارگ کےنام سے جانتی ہے۔یہ جزیرہ بظاہر ریت، پتھر اور نمکین ہوا کا ایک مختصر سا ٹکڑا ہے، مگر حقیقت میں یہ معیشت، سیاست اور طاقت کے پیچیدہ رشتوں کا ایک زندہ استعارہ ہے۔ یہاں سے اٹھنے والی تیل کی مہک دراصل اس معیشت کی سانس ہے جو ایران کے وجود کو حرکت دیتی ہے۔ خارگ کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے جہاز صرف تیل نہیں لے جاتے بلکہ ایک قوم کی امیدیں اور اسکی خودمختاری کی تمنا بھی اپنے ساتھ لے کر نکلتے ہیں۔تاریخ کا عجیب مزاج ہے۔ یہ اکثر بڑی کہانیاں چھوٹے مقامات سے شروع کرتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹا سا قلعہ سلطنتوں کے عروج و زوال کا مرکز بن جاتا ہے اور کبھی ایک خاموش جزیرہ عالمی سیاست کی بساط پر مرکزی مہرہ بن کر ابھرتا ہے۔ جزیرہءخارگ بھی آج تقدیر کی اسی دہلیز پر کھڑا ہے۔یہی وہ راستے ہیں جہاں سے صدیوں پہلے عرب تاجروں کے قافلے گزرے، یہی وہ سمندر ہے جسکے کناروں پر تہذیبوں نے جنم لیا اور یہی وہ پانی ہے جو آج بھی عالمی معیشت کی نبض کو حرکت دیتا ہے۔ اس سمندر کا نام خلیج فارس ہے۔اگر کوئی مسافر خلیج کی لہروں کے درمیان کھڑا ہو کر اس جزیرے کو دیکھے تو اسے شاید محسوس ہو کہ یہ زمین کا ایک ٹکڑا ہےلیکن عالمی سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ جزیرہ دراصل طاقت کے توازن کا ایک اہم ستون ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ایران کے تیل کا بڑا حصہ دنیا کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتوں کی نظریں اکثر اس خاموش جزیرے کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کبھی امریکہ نے اس جزیرے کو غیر فعال بنانے یا اس کی بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو یہ فقط ایک عسکری کارروائی نہیں ہوگی بلکہ ایران کی معیشت کیلئے ایک سخت امتحان بن جائیگی۔ کیونکہ خارگ دراصل اس اقتصادی نظام کی شہ رگ ہے جسکے بغیر ملک کی توانائی کی تجارت مفلوج ہو سکتی ہے۔ خلیج فارس کی کہانی صرف ایران تک محدود نہیں۔ اس سمندر کے کناروں پر کئی ریاستیں آباد ہیں جن کی تقدیر بھی گویاانہی لہروں سے جڑی ہوئی ہے۔ان میں سب سے نمایاں نام سعودی عرب کا ہے۔ ریت کے وسیع صحراؤں میں پھیلا یہ ملک تیل کی دولت کا سب سے بڑا خزانہ رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت بھی اسی سیاہ سونے کے گرد گھومتی ہے جس نے صحراؤں کو شہر اور بستیوں کو عالمی تجارتی مراکز میں بدل دیا۔ ریاض کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے دراصل عالمی توانائی کی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔اسی طرح قطر بھی ایک چھوٹا سا ملک ہےاور قدرتی گیس کے بے پناہ ذخائر کا مالک ہے۔ قطر کی معیشت خلیج کے پانیوں سے نکلنے والی اسی توانائی کے سبب عالمی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ایک اورملک کویت ہے ۔تیل کی دولت نے اس چھوٹے سے ملک کو عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔اسی سمندر کے کنارے بحرین بھی آباد ہے۔رقبے کے لحاظ سے چھوٹا مگر تاریخی اعتبار سے اہم۔ بحرین صدیوں سے تجارت اور سمندری راستوں کا مرکز رہا ہے۔ آج بھی اس کی بندرگاہیں خلیج کی اقتصادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پھر عمان ہے،وہ سرزمین جو صدیوں سے سمندری روایت کی امین رہی ہے۔ عمان کے ساحلوں سے نکلنے والے ملاح کبھی ہندوستان اور مشرقی افریقہ تک تجارت کے قافلے لے جایا کرتے تھے۔ آج بھی عمان کا جغرافیہ خلیج اور بحرِ ہند کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ان تمام ریاستوں کی معیشت اور سیاست ایک ایسے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے جس کا نام ہے تیل۔جب زمین کے سینے سے یہ سیاہ مائع نکلنا شروع ہوا تو دنیا کی سیاست کا رخ ہی بدل گیا۔ طاقت کے مراکز بدلنے لگے، معیشتوں کے توازن تبدیل ہونے لگے اور وہ علاقے جو کبھی صحرا سمجھے جاتے تھے عالمی سیاست کے مرکز بن گئے۔عالمی تیل کی سیاست دراصل مفادات کا ایک ایسا پیچیدہ جال ہے کہ ایک طرف مغربی صنعتی دنیا ہے جس کی فیکٹریاں اسی توانائی پر چلتی ہیں دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک ہیں جن کی زمین اس دولت سے مالا مال ہے۔ جزیرہء خارگ کی اہمیت ایک بندرگاہ تک محدود نہیں۔ یہ دراصل اس عالمی توانائی کی شاہراہ کا اہم سنگِ میل ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل دنیا کے مختلف حصوں تک ہوتی ہے۔ اگر کبھی اس جزیرے کے گرد کوئی بڑا تصادم ہوا تو اس کے اثرات ٹوکیو کے صنعتی علاقوں سے لے کر یورپ کے کارخانوں تک محسوس کیے جائیں گے۔تاریخ کا ایک باب اس جزیرے سے اور بھی وابستہ ہے۔ ایران۔عراق جنگ کے دوران خارگ جزیرہ جنگی حکمت عملیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ عراق نے کئی مرتبہ اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تاکہ ایران کی اقتصادی شہ رگ کو کاٹا جا سکے۔ مگر اسکے باوجود یہ جزیرہ ایران کی توانائی کی ترسیل کا مرکز بنا رہا۔ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر کسی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ جیسے پرانے زمانوں میں سمندری راستوں پر قبضے کی جنگیں سلطنتوں کی تقدیر بدل دیتی تھیں ویسے ہی آج توانائی کے راستے عالمی سیاست کے فیصلوں کو متعین کر رہے ہیں۔سمندر کی لہروں کے بیچ کھڑا جزیرۂ خارگ بظاہر خاموش ہے مگر اس کے گرد عالمی سیاست کی سرگوشیاں گونج رہی ہیں۔ شاید آنے والے برسوں میں مورخ یہ لکھیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹے سے جزیرے نے بڑی طاقتوں کے خوابوں، خوف اور مفادات کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا تھااور اس وقت خلیج فارس کی لہریں خاموشی سے تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر رہی تھیں۔