زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایران کسی بھی وقت آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنیوالا صرف کوئی بحری بیڑا یا میزائل نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ کام ایک اور طاقت کرتی ہے، انشورنس کا نظام۔ دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہ تقریباً رک سی گئی۔ آئیے دیکھتے ہیں کیسے۔عام حالات میں روزانہ تقریباً 107 کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔ یہ جہاز عالمی معیشت کیلئے توانائی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔لیکن پچھلے ہفتے صرف 19جہاز اس راستے سے گزرے۔ یعنی جہاز رانی میں 81فیصد تک کمی۔ کوئی میزائل نہیں چلا۔ کوئی جنگی ناکہ بندی نہیں ہوئی۔صرف ایک فیصلہ ہوا: انشورنس کمپنیوں نے کوریج واپس لے لی۔ عالمی جہاز رانی کا نظام دراصل اسی پر چلتا ہے۔دنیا کے تقریباً 90 فیصد بحری جہاز صرف چند میری ٹائم انشورنس کلبز کے ذریعے بیمہ شدہ ہوتے ہیں۔اور یہ کلبز مزید انشورنس یعنی ری انشورنس کے لیے زیادہ تر لندن کی مالیاتی منڈیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی کا خطرہ بڑھتا ہے تو ری انشورنس کمپنیاں کوریج روک سکتی ہیں۔اور جب ایسا ہوتا ہے تو سلسلہ کچھ یوں چلتا ہے:انشورنس ختم، جہاز سفر نہیں کرتے، عالمی تجارت سست یا رک جاتی ہے۔150ملین ڈالر کا ایک آئل ٹینکر بغیر انشورنس کے سمندر میں نہیں نکلتا۔ یوں بعض اوقات آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے کسی بحری ناکہ بندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک معاشی فیصلہ ہی کافی ہوتا ہے۔ لیکن اس صورتحال سے متاثر کون ہوتا ہے؟سب سے پہلے ایران۔
ایران کی تقریباً تمام تیل برآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔اگر جہاز رانی رک جائے تو ایران اپنی تیل کی برآمدات جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش سب سے پہلے خود ایران کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دوسرا بڑا متاثر ہونے والا ملک چین ہے۔ چین بڑی مقدار میں اپنے لیے تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔ ایرانی تیل کی زیادہ تر برآمدات بھی چین جاتی ہیں۔ جبکہ قطر کی ایل این جی بھی اسی راستے سے چین تک پہنچتی ہے۔ اگر یہ راستہ غیر محفوظ ہو جائے تو چین کی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لئے چین ہمیشہ کشیدگی کم کرنے پر زور دیتا ہے۔تیسرا متاثر ہونے والا پورا خلیجی خطہ ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور عراق، ان سب کی تیل برآمدات بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر منحصر ہیں۔ اس راستے سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل دنیا تک پہنچتا ہے۔ اور اسکا کوئی مکمل متبادل راستہ موجود نہیں۔یہاں ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ صدیوں سے لندن سمندری انشورنس اور ری انشورنس کی عالمی منڈی کا مرکز رہا ہے۔ اسی وجہ سے جب لندن کی مالیاتی منڈیاں خطرہ زیادہ سمجھتی ہیں تو عالمی جہاز رانی پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ کسی بحری ناکہ بندی کے بغیر بھی تجارت رک سکتی ہے۔
مختصر مدت میں اس صورتحال سے روس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر خلیجی ممالک کا تیل کم ہو جائے تو عالمی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور روسی تیل زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ بھارت کیلئے بھی چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔بھارت اپنی توانائی کی بڑی ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے۔اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھے تو شپنگ اخراجات اور تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ البتہ بھارت کی ایک برتری یہ ہے کہ وہ مختلف ممالک سے تیل خریدتا ہے۔
آخر میں ایک اہم سبق سامنے آتا ہے۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ عالمی سیاست کو صرف صدور، جرنیل یا میزائل کنٹرول کرتے ہیں۔لیکن بعض اوقات اصل طاقت ان نظاموں کے پاس ہوتی ہے جو خطرات کا حساب لگاتے ہیںانشورنس، توانائی اور مالیاتی نظام۔ میزائل سرخیاں بناتے ہیں۔لیکن اصل میں یہ نظام فیصلہ کرتے ہیں کہ دنیا میں کیا حرکت کریگا اور کیا رک جائے گا۔