• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے 30 ممالک میں اینتھرکس، ایبولا، سارس، طاعون کی 120 لیبز کو فنڈنگ دی: تلسی گبارڈ کا انکشاف

تلسی گبارڈ ---فائل فوٹو
تلسی گبارڈ ---فائل فوٹو

امریکی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ماضی میں 30 سے زائد ممالک میں قائم 120 سے زیادہ حیاتیاتی تجربہ گاہوں (Biolabs) کو مالی معاونت فراہم کی۔

امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان میں سے کئی تجربہ گاہوں میں خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والے جراثیم پر تحقیق کی گئی جن میں متنازع تحقیق ’Gain-of-Function‘ بھی شامل ہے جبکہ نگرانی کا نظام محدود تھا۔

غیر خفیہ قرار دی گئی دستاویزات کے مطابق یوکرین میں 40 سے زائد تجربہ گاہیں سابق سوویت حیاتیاتی جنگی جراثیم پر تحقیق میں مصروف تھیں، ان مراکز میں اینتھرکس، ایبولا، مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (MERS)، سارس (SARS) اور طاعون (plague) جیسے خطرناک جراثیم پر کام کیا گیا۔

تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ سابق حکام اور بعض صحت کے ماہرین نے امریکی عوام کو ان امریکی معاونت یافتہ تجربہ گاہوں کے بارے میں گمراہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان مراکز اور وہاں موجود جراثیم سے متعلق معلومات جمع کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ عالمی صحت کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

تلسی گبارڈ کے بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں متنازع تحقیق ’Gain-of-Function‘ کے لیے وفاقی فنڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

امریکی انٹیلیجنس اداروں کو بیرونِ ملک موجود ان تجربہ گاہوں اور وہاں جاری سرگرمیوں کی نگرانی بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید