رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے، ہر سال کی طرح عید الفظرکی تیاریاں زور وں پر ہیں اور ہر خاص و عام کی دلچسپی کا یہی محور ہے کہ عید کا خوشیوں بھرا دن کب آئے گا؟کیا اٹھائیس رمضان کی رات عید کا چاند نظر آجائے گا اور عید جمعے کے دن ہوگی یا پھر پاکستان میں عید الفطر ہفتے کے دن منائی جائیگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر سال رمضان المبارک کے اختتام کے موقع پر نہایت شدت سے اُٹھائے جاتے ہیں، ماضی میں بعض مواقع پر تو یہ تنازع اتنی شدت اختیار کرجاتا کہ ملک کے کچھ حصے اپنے طور پر عید منانے کا اعلان کردیتے جبکہ سرکاری سطح پر روزہ رکھا جاتا ، اکثر و بیشتر یہ کنفیوژن عید کے دن پر بھی رہتی ہے کہ کہیں عید منانے کے ریاستی فیصلے میں غلطی تو نہیں ہوگئی؟تیس روزے ہونے کی صورت میں ہر سال سوشل میڈیا پر عید کی شام آسمان پر نظر آنے والے چاند کی جسامت کی تصاویر پوسٹ کرکے چہ میگوئیاں کی جاتی ہیں، کم و بیش ایسی ہی صورتحال کا سامنا رمضان المبارک کی آمد پر بھی کرنا پڑتا ہے۔یہ امر نہایت دلچسپی کا باعث ہے کہ ماضی میںجب کبھی چاند نظر آنے پر تنازع کھڑا ہوا ، میری رمضان المبارک کی آمد اور عید الفطر کی تاریخوں کے حوالے سے پیش گوئیاں سو فیصد درست ثابت ہوئیں ،میں اپنے حلقہ احباب میں گفتگو کے دوران نہایت وثوق سے چاند نظر آنے یا نہ آنے کی پیش گوئی کردیتا ہوں بلکہ میرا یہ دعویٰ ریکارڈ پرہے کہ میں صرف رواں سال نہیں بلکہ آئندہ ہزار سال تک کے چاند کی تاریخوں کی درست معلومات فراہم کرسکتا ہوں۔ میرے یقین کی وجہ ہزاروں سال سے ہمارے خطے میں بسنے والوں کی زندگی کا حصہ رہنے والا دنیا کا قدیم ترین ہندو کیلنڈر وکرم سموَت ہے جو 57قبلِ مسیح میں ہندوستانی راجا وکرم دتیہ کے دورِ حکومت میں رائج ہوا ، ہندوستان میں انگریز سامراج کی آمد سے قبل صدیوں تک یہی کیلنڈر سرکاری سطح پر ہندو راجا مہاراجاؤں کے درباروں میں رائج رہا ، ہندو جوتشی ہر خاص موقع پر زائچہ بناکر شبھ گھڑی کا تعین کیا کرتے تھے جبکہ مغل دربار میں بھی اس کیلنڈر کو خصوصی اہمیت اس بناء پر حاصل تھی کہ یہ صرف تاریخوں کا حساب رکھنے کا نظام نہیں بلکہ ایک مکمل سائنسی، مذہبی اور ثقافتی مستند فریم ورک ہے۔زمانہ قبل مسیح کے قدیم ہندو نجومیوں اور رشیوں نے سورج، چاند اور ستاروں کی حرکت کابغور جائزہ لیتے ہوئے انکی آسمان پرگردش کو سمجھا، اس زمانے میں جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، ہندو جوتشیوں نے وقت کی پیمائش، رات دن کی تقسیم، مہینوں کے تعین ، چاند گرہن، سورج گرہن اور موسموں کےآنے جانےکا ایسا زبردست نظام وضع کیا جو آج بھی جدید سائنس کیلئے باعث حیرت ہے ۔ ہندوستانی نجومیوں نےآسمانوں پر گردش کرتے ستاروں کے انسانوں کی زندگی پر پڑنے والے اثرات سےآگاہ کیا ، تقریباً ساڑھے انتیس دن پر مشتمل مہینہ دو حصوں میںمنقسم چاند کے مراحل کے مطابق مکمل ہوتا ہے،اماوس کی رات جب ہر طرف گھُپ اندھیرا چھا جاتا ہے اور پورنیما جب رات مکمل چاند کی روشنی سے جگمگا اُٹھتی ہے، ہندوکیلنڈر میں چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کا عمل نہایت اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح سورج کے ایک برج سے دوسرے برج میں داخل ہونے سے موسمی تبدیلیوں کی جانکاری ملتی ہے، کبھی کبھار شمسی اور قمری فرق کو پورا کرنے کیلئے ایک اضافی تیرہواں مہینہ شامل کیا جاتا ہے ۔ہندو کیلنڈر کا سب سے موثراستعمال مذہبی وثقافتی تہواروں کے تعین میں ہوتا ہے مثلاََکارتک مہینے کی اماوس کی رات کو دیوالی، پھالگن کی پورنیما رات کو ہولی اوربسنت تہوارنہ صرف مذہبی عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی شناخت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔چونکہ مذکورہ کیلنڈر مکمل طور پرسال کے چار موسموں سے ہم آہنگ ہے، اسلئےہمارے دیہی سماج میں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے وقت کے تعین میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی کیلنڈراور ہندو کیلنڈر دونوں میں قدرِ مشترک چاند کی اہمیت ہے ، اسلامی کیلنڈر 354دن پر مشتمل ہونے کے باعث ہر سال رمضان المبارک، عید اور دیگر تہوار وں میں موسم کا بدلاؤ ہوتا ہے جبکہ ہندو کیلنڈر میں شمسی عنصر کے باعث مذہبی و ثقافتی تہوار ہر سال ایک ہی موسم میں آتے ہیں، چاند مہینوں کا تعین کرتا ہے جبکہ سورج سال اور موسموں کو ترتیب دیتا ہے،ہندو کیلنڈر میں ریاضی کا حساب کتاب استعمال ہوتا ہے جبکہ اسلامی تقویم میں چاند کا بصری مشاہدہ (رویت) فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ہندو فلکیاتی حساب کے مطابق رواں مہینہ پاکستان میں بسنے والی ہندو کمیونٹی کیلئے سالِ نو کی خوشیاں بھی لیکر آئے گا، ایک طرف ملک بھر میں عید الفطر منائی جارہی ہوگی اور دوسری طرف ہندو وکرمی کیلنڈر کا2083واں سال شروع ہوجائے گا جو نئی امیدیں، خوشحالی اور روحانی تجدید کا سندیسہ لائے گا، نئے سال کے پہلے دن گھروں مندروںکی صفائی اور سجاوٹ کی جاتی ہے،خصوصی پوجا اور پراتھنا کی جاتی ہیں،نئے کام شروع کرنے کو مبارک سمجھا جاتا ہے جبکہ اپنے آس پاس بسنے والے غریب مستحق افراد کی مالی مدد کی جاتی ہے،ہندو عقیدے کے مطابق دھرتی کے مالک نےاس دن کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا، لہٰذاسال کے پہلے دن کو وقت کی علامتی شروعات اور کائناتی چکر سمجھ کر دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ہر سال کی طرح میں آج بھی یہ پیش گوئی ہندو کیلنڈر کی مدد سے کرسکتا ہوں کہ بیس مارچ کو چاند رات ہے اور ہندو فلکیاتی حساب کے رُو سے اکیس مارچ کو عید الفطر ہونی چاہیے ، تاہم اسلام میں مذہبی طور پر عید منانے کے احکامات چاند کے نظر آنے سے مشروط ہیں ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عید منانے کا حتمی فیصلہ رویت ہلال کمیٹی پاکستان کی جانب سے چاند دیکھنے کی شہادت پر ہی کیاجانا ضروری ہے۔ میری دھرتی کے مالک سے پراتھنا ہے کہ عید الفطر کا دن اور ہندو سالِ نو پاکستان بھر میں بسنے والے تمام ہم وطنوں کیلئے خوشیاں، رحمت اور برکتوں کا دن ثابت ہو۔