اسرائیلی فوج کے کمیونیکیشن سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی، جس کے بعد سیکیورٹی بحران اور حساس معلومات لیک ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کے مواصلاتی نظام میں سنگین سیکیورٹی خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد جنگی حکمت عملی کے انتظام میں بحران پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مواصلات کے شعبے سے وابستہ کچھ ماہر گروپس نے اسرائیلی فوج کے محفوظ کمیونیکیشن کوڈز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ممکن ہوئی جب متعلقہ ماہرین کو فوج میں استعمال ہونے والی کمپنیوں اور ہارڈویئر سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا مواصلاتی نظام یورپی ممالک کے ٹیلی کمیونیکیشن ہارڈویئر پر انحصار کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق فوج کی اندرونی گفتگو اور رابطے خاص طور پر ریموٹ وائرلیس سسٹمز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک ایک محفوظ انٹرنیٹ ٹیلی فون سسٹم کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب اس انفرااسٹرکچر کی تفصیلات لیک ہوئیں، تو اس سے متعلقہ انکرپشن کوڈز بھی سائبر ماہرین کے ہاتھ لگ گئے، اس کے نتیجے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی حساس مواصلات کسی حد تک مانیٹر یا انٹرسیپٹ کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اس لیک ہونے والی معلومات سے آگاہ ہے، اور ایک نیا مواصلاتی نظام متعارف کروانے پر غور کر رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا نظام تبدیل کرنا ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے اور اسے قلیل مدت میں مکمل کرنا ممکن نہیں۔