• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دشمن نے ایرانی طاقت کا غلط اندازہ لگایا، انہیں لگتا تھا عوام دو دن میں حکومت گرا دیں گے، مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام جاری کر دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے درمیان اتحاد نے دشمن کی صفوں میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا ۔ امریکا اور اسرائیل کو لگتا تھا کہ ایک یا دو دن کے حملوں کے بعد ایرانی عوام ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیں گے ۔ لیکن ان کے یہ سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن نے جنگ اِن بھیانک غلط اندازوں کے ساتھ شروع کی کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور کچھ بااثر فوجی شخصیات کے قتل سے وہ ایرانیوں کے دلوں میں خوف بھر دیں گے  اور اس طرح ان کا ایران پر قبضے اور ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ  اس کے بجائے ایرانیوں نے مذہبی، نظریاتی، ثقافتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا، جبکہ دوسری طرف دشمن کی صفوں میں دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد اللّٰہ کی طرف سے نعمت ہے ہم آہنگی کو برقرار رکھیں، ایک سال میں ہمارے لوگوں نے تین فوجی اور حفاظتی جنگوں کا تجربہ کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کروانے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے اس کے برادر پڑوسی ملک بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران اپنے دونوں برادر ملکوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، ایران چاہتا ہے کہ مسلمان ملک آپس میں بہتر اور اچھے تعلقات قائم رکھیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران نے ایک بار پھر عالمی استعمار کی مخالفت اور انتھک ہمت کا مظاہرہ کیا، ایران نے ایسی ضرب لگائی کہ دشمن سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ صرف میزائلوں، ڈرونز سے نہیں۔

مجتبیٰ خامنہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کی فرنٹ لائن دشمن کے حقیر اور تنگ نظر تصور سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید