عراق میں سرگرم مزاحمتی گروپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اربیل میں واقع امریکی زیرِ انتظام ہریر ایئر بیس کے تین اہم اور حساس مقامات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد وہاں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بغداد میں موجود ایک نمائندے نے بتایا کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اس اڈے سے امریکی فوجی نقل و حرکت تقریباً رک گئی ہے۔
عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’اسلامک مزاحمتی گروپ عراق‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مربوط حملوں میں اڈے کے اہم انفرااسٹرکچر کو بارہا نشانہ بنایا گیا، جن میں مرکزی ریڈار سسٹم بھی شامل ہے، جسے متعدد بار حملوں کے بعد تباہ کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں اربیل اڈے پر امریکی فضائی سرگرمیاں تقریباً 95 فیصد تک کم ہو گئی ہیں، جبکہ لاجسٹک پروازیں بھی بڑی حد تک معطل ہو چکی ہیں۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج اب محدود نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز کے بجائے ڈرونز پر انحصار کر رہی ہیں۔
اسی طرح بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اندر واقع وکٹوریہ بیس پر بھی میزائل حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر امریکی اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچنے کی بات بھی کی گئی ہے، تاہم ان دعووں کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی۔