موسمِ بہار کے استقبال کیلئے ہر قوم قبیلے میں تہواروں، میلوں ٹھیلوں اور جھوم جھملیوں کی روایت موجود ہے۔ہمارے نمائندہ تہواروں کا خطے میں آغاز ہوگیاہے۔لوہڑی اورہولی کا تہوار گزر گیا ہے۔نوروز کا تہوارآگیا ہے۔بسنت نہیں آتی تھی۔ اللہ اللہ کرکے اس سال لاہور میں آگئی۔ اگلے برس پورے پنجاب میں آجائیگی۔ بیساکھی بھی آجائیگی۔آنی بھی چاہئے۔ کسی نے کھرچ کھرچ کر سب اچھے رنگ ہمارے نصیب سے مٹا دیے ہیں۔یہ رنگ پھر سے درج ہونے چاہئیں۔
قدیم ایرانی شمسی کلینڈر کا آغاز یکم فروردین یعنی 21 مارچ سے ہوتاہے۔سو ایرانی تہذیب میں نوروز کا جشن مناکر محض بہار کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا، نئے سال کاآغاز بھی کیا جاتا ہے۔ایران سے کئی قومیں،تہذیبیں اورمذہبی دھڑے ہوکر گئے ہیں۔جو گیا نوروز کے آتشدان سے ایک چنگاری توڑ کرگیا۔ایران خود بھی کہیں سے ہوکرآیا تونوروز کی چھاپ چھوڑ کرآیا۔اسکی تاریخ حضرتِ مسیح کے عہد سے بھی بہت پہلے کی ہے۔زرتشتوں نے نوروز کوسرکاری سطح پرمنانے کی روایت ڈالی تو اسکے خاکے میں خوش رنگ علامتوں کا خوبصورت اضافہ ہوا۔آگ، روشنی، سورج، روایتی ملبوس، پھول پودے، رقص و موسیقی، عطر، چراغ، دھونی، میوے اور خوردے نوروز کی علامتیں ہیں۔دسترخوان پر سجائے جانے والے پھل پودے اور اوڑھے جانے والے رنگ در اصل انصاف، خوشحالی، مثبت سوچ اوردرگزر کی علامات ہیں۔
نوروز ایران سے ہی پارسیوں کے ساتھ چلتا ہوا ہندوستان کے بازاروں میں آیا۔مغلوں نے پھر اسکا اہتمام کیا۔مقامی ثقافتوں کو اسکے خال و خد اپنے جیسے لگے۔دل سے لگالیا۔اسمائیلیوں، پارسیوں، فاطمیوں اور بہائیوں کی ہی وجہ سے یہ چراغ کراچی میں جلتے تھے۔اب بھی جلتے ہیں، مگراب لو ذرا مدہم ہوتی ہے۔افغانستان میں بارود اورخون کی بو پھیلی تو نوروز کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔اس نے وہاں سے ہجرت کرلی۔یہ کوئی پہلی ہجرت نہیں تھی۔ایران سے اس نے کتنی بار ہجرت کی ہے۔ایران میں نوروز اب بھی موجود ہے۔ نئے رہبر نے نوروز پر نامعلوم مقام سے پیغام بھی جاری کیا ہے۔ہمایوں شجریان کا گیت 'نوروزاب بھی وہاں گونجتا ہے مگر وہاں نوروز کو عقیدے سے اپروول لینا پڑتا ہے۔نوروز چیزے دیگر است۔ اسے کسی پابند مذہبی تہوار کی طرح نہیں نبھایا جاسکتا۔بسنت کی طرح اسے بھی پورا آسمان اور کھلی فضا چاہیے ہوتی ہے۔بہت پہلے امیر عبد الرحمن نے یہ فضا اور آسمان جب ہرات اور بامیان کی ہزارہ قوم سے چھینا تو نوروز کی روایت پھولوں والی چادر لپیٹ کر یہاں کوئٹہ کی طرف آگئی تھی۔اسی لیے کوئٹہ کی ہوائوں میں نوروز کی مہک اب بھی محسوس کی جاتی ہے۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ نوروز کا حوالہ بلوچوں کیلئے نیا ہے۔ایک تو بلوچستان اور ایران سنگ بہ سنگ ہیں۔پھرعربوں کے تسلط اور انقلاب کے بعد جو پار سی اور بہائی یہاں وہاں فرار ہوئے وہ کوئٹہ بھی آئے۔پارسی اور بہائی آئیں نوروز ساتھ نہ آئے ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔نوروز کی روشنی ڈیورنڈ لائن کوعبور کرکے اکثر اِسطرف کے پشتون علاقوں میں نکل آتی تھی۔سپرلے کے میلوں میں گھل مل کر بہار کو ہرکلے کہتی تھی۔پاڑا چِنار اور اسکے اطراف میں نوروز کے رنگ اب بھی پھیکے نہیں پڑے۔
نوروز نے اب سینٹرل ایشیا کو اپنا مرکز بنا لیاہے۔آذر بائیجان، آرمینیا اور تاجکستان میں نوروز کے ڈنکے ہفتے دو ہفتے پہلے ہی پِٹ جاتے ہیں۔رونقیں،تحفے تحائف،میل جول، عشوے رمزے اور ہر طرح کے اظہاریے ماحول میں سال بھر کیلئے مثبت انرجی اسٹاک کر رہے ہوتے ہیں۔تاجک گلوکارہ نوزیہ کرامت ہندی گیت گاکر برصغیر کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کررہی ہوتی ہے۔تاجکستان کی وجہ سے یہ روایت ساتھ کے علاقے گلگت بلتستان میں اب بھی بھرپور نظر آتی ہے۔اسکا یہ مطلب نہیں کہ بلتستان کیلئے یہ کوئی نئی روایت ہے۔زمانے سے یہ روایت کشمیر میں ہولی اور دیوالی کے ساتھ ساتھ موجود تھی۔وہیں سے اس نے بلتستان کی راہ لی اور پھر ہنزہ پہنچی۔پھر اس خطے میں اسماعیلی بھی تو ہیں۔نوروز کا پانی اسی چینل سے گزر کر شندور اور اسکے پار تک جاتا ہے۔شندور کے اس پار چترال میں بہار ہی کا ایک قدیم میلہ ’چِلم جوش‘ بھی سجتا ہے۔کالاش میں اس کے رنگ ڈھنگ آپ دیکھ چکے ہیں۔یوں سمجھیں یہ نوروز ہی ہے۔
بڑی بات یہ نہیں ہے کہ شمالی علاقوں میں یہ روایت بہت پہلے سے موجودہے۔بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایت اب بھی موجود ہے۔در اصل انکی ریت روایت اور تہذیب وتمدن پاکستان کے کلچر سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔مناسبت جوڑنے کی انہیں کوئی آرزو بھی نہیں ہے۔انکی ثقافت کو لپیٹنے کیلئے تبلیغی سلیبرٹیز کو بھیجا توجاتاہے مگر نصرت نہیں ملتی۔وہاں ایک درجہ ثقافتی مزاحمت موجود ہے۔بات یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی معلوم ثقافت وجود نہیں رکھتی۔ثقافتیں دراصل یہاں بسنے والی قومیتوں کی ہیں۔ان ثقافتوں کا خاتمہ کرکے یہاں ایک قومی نصاب کی طرح عرب کلچر رائج کردیا گیا ہے۔اسکا نقصان ہوا ہے۔رنگا رنگی جیسی نعمت کو سراہنے کا مزاج نہیں پنپ سکا۔وبا کے دنوں میں جب لوگ گھروں تک محدود ہوگئے تھے، تب دنیا بھر کے انسانوں کو درد اور موسیقی کے علاوہ نوروز نے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تھا۔امریکا تک میں یہ جشن بھرپورانداز میں آن لائن منایا گیا تھا۔نو روز کی یہ خوبصورتی ہے کہ اسکی آنکھ میں مقامی تہذیبوں، قومیتوں اور مذاہب نے اپنے اپنے حصے کا سرمہ بھر کر اپنا کرلیا۔اس خطے میں ہولی سے چِلم جوشت تک بہار کے ہر میلے کا رنگ نوروز میں نظرآتا ہے۔یہ سورج اور آگ کی روشنی ہے، جو سرحد کے آر پار ہر طرف برابر اترتی ہے۔اب یہ سات پانیوں کے اُس پار بھی اترچکی ہے۔تبھی یو این نے اسے کُل انسانیت کا ثقافتی ورثہ قرار دیدیا ہے۔اس سال نوروز اور عید الفطر ہاتھ میں ہاتھ دیکر شہر میں داخل ہوئے۔ان کا خیال تھا کہ ہماری خوبصورت جوڑی دیکھ کر لوگ نظر اتاریں گے۔کسی نے مگر خبر ہی نہیں لی۔شہر میں کچھ ہوا ہے۔لوگ اب باد نو بہار کا تذکرہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔اکثر قفس میں رہتے ہیں اور اداس رہتے ہیں۔گلشن کے کاروبار میں انویسٹ بھی نہیں کرتے۔انہیں خدشہ رہتا ہے سرمایہ ڈوب جائے گا۔خدشہ غلط بھی نہیں ہے۔خوشیوں کے کاروبار اور رنگوں کے تہوار ایک ایک کرکے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ایسے ہر تہوار کی یاد میں سب کو نوروز مبارک۔عید مبارک۔!!