• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کی پیشانی پر لکھی ہوئی تحریریں شاید کبھی مٹتی نہیں صرف دھندلا جاتی ہیں۔ قومیں جب غفلت کاشکار ہوجاتی ہیں تواپنی تاریخ کے آئینے میں جھانکنا چھوڑ دیتی ہیں ۔پھر یہی دھندلاہٹ اُن کی بصیرت پر بھی چھا جاتی ہے۔ آج کاعالمی منظرنامہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بظاہر سب کچھ رواں ہے مگر باطن میں ایک ٹھہراؤ ہے۔ایسا سکوت جس میں آنیوالے طوفان کی آہٹ پوشیدہ ہوتی ہے۔عالمی سیاست کا مزاج ہمیشہ سے بےرحم مفاد پر استوار رہا ہے۔ اصول وہاں تک معتبر رہتے ہیں جہاں تک وہ طاقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اسکے بعد ہر شے محض تعبیر کا کھیل بن جاتی ہے۔ فی زمانہ جب دنیا کے بڑے مراکزِ اقتدار اپنے فیصلوں کو نئی ترتیب دے رہے ہیں تو اُن فیصلوں کی بازگشت اُن خطوں میں زیادہ شدت سے سنائی دیتی ہے جو خود اپنی تقدیر کے فیصلوں میں شریک نہیں ہوتےیاجواپنی کمزوریوں کےسبب اپنےفیصلےخود کرنےسےقاصرہیں۔بحرِ عرب کے پانی بظاہر ویسے ہی ہیں جیسے صدیوں پہلے تھے۔ لہریں اُسی تسلسل سے اٹھتی اور گرتی ہیں مگر ان لہروں کے نیچے اب دھیرے ،دھیرےایک اور دنیا آباد ہورہی کہ جس کاتصور بھی نہایت بھیانک اورخوفزدہ کردینےوالاہے۔ برطانیہ کی ایٹمی آبدوز کا اس خطے میں آنا محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ وقت کے متن میں ایک گہرا حاشیہ ہے۔جب سمندروں کی تہہ میں طاقت کا توازن ترتیب دیا جانے لگے تو زمین پر بسنے والوں کو اپنی صف بندی پر ازسرِ نو غور کرنا پڑتا ہے۔یہ خطہ جسے ہم مشرقِ وسطیٰ اور اسکے گرد و نواح کے نام سے جانتے ہیں فقط ایک جغرافیہ نہیں۔ یہ تاریخ کا وہ صفحہ ہے جہاں ہر دور میں کسی نہ کسی قوت نے اپناچیپٹر لکھنے کی کوشش کی۔ کبھی تجارت کے نام پر، کبھی تہذیب کے نام پر اور کبھی امن کے نام پر۔ نتیجہ ہمیشہ ایک سا رہا۔ طاقت نے اپنی جگہ بنائی اور کمزوری نے اپنی قیمت ادا کی۔مسلم دنیا کا المیہ یہ نہیں کہ اُس کے پاس وسائل کم ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اُسکے وسائل اُس کی ترجیحات کے تابع نہیں۔ قوت موجود ہے مگر منتشر۔ ارادہ موجود ہے لیکن غیر منظم۔ سوچ موجود ہے ،مشترک نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جسے بیرونی طاقتیں اپنے فیصلوں سے پُر کرتی ہیں۔تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے۔ یہ اُن قوموں کے ساتھ سختی سے پیش آتی ہے جو اپنی غلطیوں کو دہراتی ہیں۔ اندلس سے لے کر بغداد تک اور وہاں سے لیکر آج کے منتشر منظرنامے تک ایک ہی سبق بار بار دہرایا گیا ہے۔ اختلاف جب حد سے بڑھ جائے تو دراڑ بن جاتا ہے اور دراڑیں آخرکار دیواروں کو گرا دیتی ہیں۔آج بھی وہی سوال پوری شدت کےساتھ سامنے ہے۔ کیا مسلم دنیا اپنے داخلی انتشار سے اوپر اٹھ سکتی ہے۔ کیا وہ اپنے مفادات کو ایک وسیع تر دائرے میں دیکھ سکتی ہے۔ کیا وہ اس قابل ہو سکتی ہے کہ عالمی سیاست میں ردِعمل دینےکےبجائے اپنا مؤقف خود تشکیل دے؟معاشی میدان میں انحصار ایک ایسی زنجیر ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی مگر قدموں کو جکڑے رکھتی ہے۔ دفاعی میدان میں تنہائی ایک ایسی کمزوری ہے جو طاقت کو بھی غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ فکری میدان میں جمود ایک ایسی رکاوٹ ہے جو ترقی کے ہر راستے کو بند کر دیتی ہے۔ جب تک یہ تینوں دائرے ایک مرکز پر جمع نہیں ہوتے کوئی بھی اتحاد ایک نعرہ ہی رہتا ہے۔بحرِ عرب میں ایٹمی آبدوز کی خاموش موجودگی گویا ایک سوال ہے جو لہروں کے ذریعے ساحلوں تک پہنچ رہا ہے۔ یہ سوال کسی ایک ملک سے نہیں پورے خطے سے ہے۔ کیا تم تیار ہو۔ کیا تم نے اپنے اندر وہ نظم پیدا کیا ہے جو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔ کیا تم نے اپنی صفوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ تمہاری آواز ایک ہو سکے۔؟وقت کا مزاج یہ ہے وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو قومیں اس کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چل پاتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ جو پیچھے رہ جائیں اُن کے بارے میں فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں جو آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔یقینی طورپر یہ لمحہ غور و فکر کا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا ہے۔ ایسے فیصلے جو وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہوں اور جو آنے والی نسلوں کیلئے راستہ متعین کریں۔ حالات و واقعات اورخطےکی تیزی کےساتھ بدلتی صورتحال یہی تقاضا کرتی ہےکہ اس حوالے سے مزیدتاخیر نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

زیادہ دیریاتاخیر کامطلب یہ ہوتاہے کہ پھر وقت اپنے فیصلے خود لکھتا ہے کہ جن فیصلوں میں نہ کوئی اپیل ہوتی ہے نہ کوئی تاویل۔ایک خاموش انجام ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے ایک اور سبق بن جاتا ہے۔

تازہ ترین