عالمی سیاست کے موجودہ ہنگامہ خیز دورمیں ویدک جوتشی کچھ ایسے فیصلہ کُن لمحات کی پیش گوئی کررہے ہیں جب فیصلے صرف زمینی حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ وقت کی نزاکت، حالات کے تقاضوں اور ستاروں کی چال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے ضروری ہیں، اس حوالے سےمیں نے ڈیلی دی نیوز میں شائع ہونے والے اپنے ہفتہ وار انگریزی مضمون بتاریخ 13 مارچ 2026ء میں پیش گوئی کی تھی کہ فلکیاتی نقل و حرکت اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ پاکستان سمیت عالمی برادری کو اکیس مارچ تک صورتحال کا صبر و تحمل سےبغور جائزہ لینا چاہیے۔ماہرین نجوم کی نظر میںرواں برس اکیس مارچ وہ تاریخ ہے جب دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے، یہ موقع دراصل روشنی اور تاریکی کی قوتوں کے درمیان ایک علامتی توازن کی نشاندہی کرتاہے، یہ وہی وقت تھا جب زمین پر دنیا دَم سادھے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا الٹی میٹم ختم ہونے کا انتظار کررہی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کا راستہ نہ کھولا تو پھر ایران کو کونسے ہولناک نتائج بھگتنا ہونگے اورایران کا جوابی حملہ خلیجی ممالک کیلئے کیا نئے خطرات لیکر آئے گا؟ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سےایران پر حملہ پانچ روز کیلئے موخر کرنے کےحیران کن اعلان نے خطے میں امن کی امیدوں کو بڑھا دیا۔ آج جب عالمی میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ تمام امکانات اب حقیقت کا روپ دھارتے جا رہے ہیں جنکے متعلق جوتشی پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں، اس وقت دنیا بھرکے عالمی میڈیا پر ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کی ثالثی کے ممکنہ کردار کی خبریں چھائی ہوئی ہیں، ایک زمانہ تھا جب کوئی معمولی امریکی عہدے دار بھی پاکستانی قیادت کو لفٹ نہیں کراتا تھا اور آج سپرپاور امریکہ کا طاقتور صدر ٹرمپ وزیراعظم پاکستان کا ٹوئٹ ری ٹوئٹ کررہا ہے۔تاہم اصل سوال جوں کا توں ہے کہ کیاایک دوسرے کے مدمقابل امریکہ اور ایران کو قریب لانے کیلئے اسلام آباد کامیاب ہوسکتا ہے؟میری نظر میں اگر پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب مذاکرات کی میزبانی کرتا ہے اور جنگ بندی یا کسی معاہدے تک پہنچنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہےتو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں یقینی طور پر غیر معمولی اضافہ ہوگا، عالمی قیادت پاکستان کو ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور موثر ثالث کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیگی،امریکہ ایسی صورتحال میں پاکستان کو مختلف شعبوں میں سہولت فراہم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، جس میں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، دفاعی شراکت داری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں حمایت وغیرہ شامل ہو سکتی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا،شدید سیکیورٹی خطرات سے دوچار خلیجی ممالک پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھیں گے اور پاکستانی عوام کیلئے مزید روزگار کےمواقع میں اضافہ کرسکتے ہیںجبکہ ترقی یافتہ دنیا کے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط مزید مضبوط ہونگے ۔کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں ایران پرعالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستان اپنے پڑوسی سے سستا تیل حاصل کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کا بحران کم ہوگا بلکہ صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا، اسی طرح ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، مذکورہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کو مستقل اور سستی گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، علاوہ ازیںدوطرفہ تجارت میں اضافہ اور سرحدی روابط کی بہتری بھی دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔تاہم ستاروں کی چال پر نظر رکھنے والے جوتشیوں کا خبردار کرنا ہے کہ رواں برس اپریل کے مہینے کا آغاز نئی شروعات اور جرات مندانہ فیصلوں سے منسلک ہے، آگ سے منسوب برج حمل والا ماہِ اپریل توانائی، قیادت اور آزادی کے حوالے سے جانا جاتا ہے، اس مہینے فلکیاتی کائنات کا مرکز سورج اپنی شناخت اور قیادت کو متحرک کرے گا، نظام شمسی میں سورج کے قریب ترین سیارہ عطاردانسانی فیصلوں کودرپیش کنفیوژن اور تاخیر کو دور کرے گا جبکہ سیارہ مریخ تیزی سے بدلتی صورتحال کی رفتار کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گا۔ عالمی میڈیا میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی غیرمعمولی پذیرائی کے حوالے سے ویدک جوتشیوں نے جو زائچہ بنایا ہے اسکے مطابق دونوں عالمی راہنماؤں کو قریب لانے والا انکا مشترکہ ستارہ جیمینی (برج جوزا)ہے جسکا حکمران سیارہ عطارد آئندہ ماہ اپریل میں عالمی سطح کی غلط فہمیوں کو دور کرے گا، برج جوزا میں جنم لینے والے افراداپنے آپ کوزندگی کے ہر موڑ پر لیڈر، نہایت ذہین اور متحرک ثابت کرتے ہیں۔نجومیوں نے مزید خبردار کیاہے کہ اپریل میں برج حمل کی منفی خصوصیات اَکڑ، گھمنڈاور جلدبازی سے محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے، پاکستان کو عالمی سطح پراہمیت ملنے سے پاکستان مخالف عناصر کے سرگرم ہونے کے بھی شدید خدشات ہیں، اس حوالے سے پاکستان کے کچھ پڑوسی ممالک خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سبوتاژ کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اگر پاکستان اس نازک موقع پر جلد بازی یا غرور کا شکار ہو کر کوئی غیر محتاط قدم اٹھاتا ہے تو اس کے نتائج نہایت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں یا پاکستان ثالثی میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو عالمی سطح پرہمیں بہت زیادہ سبکی کا سامنا کرنے پڑسکتا ہے،ایسی صورت میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا تیز ہوسکتا ہے کہ اسے ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی لیکن پاکستانی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرسکی۔ مزید برآں، اگر صورتحال بہتری کی جانب نہیں جاتی اور خلیجی جنگ شدت اختیار کرتی ہےتو پاکستان زیادہ دیر تک اپنے آپ کو نیوٹرل نہیں رکھ پائے گا اور ہمیں اپنے دیرینہ اتحادیوں خصوصاً سعودی عرب کے شانہ بشانہ ایران کے مدمقابل کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔ خدانخواستہ پاکستان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایک بڑے علاقائی تنازعے کا حصہ بننے کے معاشی اور سکیورٹی اثرات اتنےسنگین نوعیت کے ثابت ہوسکتے ہیں جنکا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ پاکستان کیلئےضروری ہے کہ وہ مذاکرات کو کسی بھی قسم کے ڈیڈ لاک سے بچانے کیلئے نہایت محتاط حکمت عملی اختیار کرے، سفارتی سطح پر توازن برقرار رکھنا، تمام فریقین کا اعتماد حاصل کرنا ،غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا اور سب سے بڑھ کر پاکستان مخالف قوتوں کے پراپیگنڈا کا
بروقت سدباب کرنا ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ستاروں کی چال کے مطابق پاکستان کو پانچ اپریل تک سست روی سے اسٹیٹس کَو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے صبر، احتیاط اور تدبر کو ترجیح دینی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج مالک نے پاکستان کو سنہری موقع ہی نہیں دیا بلکہ امتحان میں بھی ڈال دیا ہے کہ اگر پاکستانی قیادت اس نازک مرحلے کو دانشمندی سے عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو دس اپریل کے بعد دنیا پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور موثر ریاست کے طور پر تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔