• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں جو جنگ شروع ہوئی ہے اس سے پاکستان سمیت پوری دنیا پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے نے جہاں شہریوں کے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں ذرائع نقل و حمل اور پیداواری عمل کی لاگت میں اضافے سے اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں اگر یہ جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے تو پاکستان کو ایک نئے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ خلیجی ممالک ہمارے لئے نہ صرف توانائی کی درآمد کا بنیادی ذریعہ ہیں بلکہ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بھی ان ممالک میں ہے۔

جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک پر حملوں کے باعث تیل کی عالمی سپلائی پہلے ہی متاثر ہے جسکی وجہ سے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ بنا ہوا ہے کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مناسب قیمت پر تیل کی بلا تعطل سپلائی کس طرح ممکن بنائی جائے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والے تیل کی درآمدات کا 81 فیصد آبنائے ہرمز سے آتا ہے جسکی مجموعی مالیت 14 سے 17ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ان حالات میں تیل کی قیمت میں مزید اضافہ پاکستانی معیشت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں شپنگ کمپنیوں کی جانب سے انشورنس پریمیم میں اضافے اور مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

اسی طرح خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر بھی پاکستان کیلئے زرمبادلہ کے حصول کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2025ءمیں تقریباً38.3بلین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

ان میں سب سے زیادہ 35.9 ارب ڈالر سعودی عرب سے موصول ہوئے۔ تاہم موجودہ غیر یقینی صورتحال سے ان ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے روزگار پر بھی خطرات کے بادل منڈلانا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پاکستانی ورکرز کا تعلق مزدور طبقے یا نیم ہنر مند پیشوں سے ہے جو تعمیرات اور اس سے منسلک شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اسلئے جنگ کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی اقتصادی غیر یقینی اس نوعیت کی سرگرمیوں کو سست کر سکتی ہے جس سے ان شعبوں میں کام کرنے والے تارکین وطن کو برطرفی یا کم آمدنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماضی میں 1990ء کی دہائی میں اس طرح کی صورتحال کے باعث ملازمت کے مواقع کم ہونے، ترسیلات زر میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کے باعث بہت سے پاکستانی کارکنوں کو وطن واپس آنا پڑا تھا جس سےجہاں انکے معاشی حالات دگرگوں ہو گئے تھے وہاں پاکستان کو زرمبادلہ کے حصول میں بھی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیںمشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات تیل کے حصول اور ترسیلات زر سے کہیں بڑھ کر گہرے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنےکیلئے بھی فنڈز کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس وقت بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کردہ اربوں ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع ہیں جبکہ تیل کی ادائیگی کی موخر سہولت اس کے علاوہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نومبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے نے ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا معاشی مستقبل مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اگرچہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے لیکن تاحال یہ جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنی سفارتکاری کے ذریعے ایران اور خلیجی ممالک کے مابین کوئی فوری تصفیہ کروا سکتا ہے تو اس کیلئےضرور کوشش کی جانی چاہیے تاکہ کم از کم ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر حملے بند ہو سکیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا سعودی عرب کی قیادت میںمشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی شمولیت سے ایک وسیع تر دفاعی معاہدے پر اتفاق بھی صورتحال میں بہتری لانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو چند ممالک پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنے کی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے برآمدی اور درآمدی منڈیوں میں تنوع لانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں تک توانائی کے حصول کا تعلق ہے اس کیلئے سولر انرجی کو فروغ دے کر تیل کی درآمد کے بل میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح روس یا سنٹرل ایشیا کے ممالک سے بھی سستی گیس اور تیل کا حصول ممکن ہے اسلئے ان ممالک سے تجارتی تعلقات بھی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز میں کمی لائی جا سکے۔ علاوہ ازیں بیرون ملک ملازمت کی غرض سے جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو ہنرمند بنانے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے علاوہ دنیا بھرکے دیگر ممالک میں بھی روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح ہم مشرق و سطی ٰکی موجودہ صورتحال کے چیلنج کو مستقبل کی بہتر تشکیل کے مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

تازہ ترین