اگلے سال کے فنانس بل میں 669 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سے 389 ارب روپے انفورسمنٹ کے ذریعے پورے کیے جائیں گے۔
ممبر ایف بی آر ڈاکٹر احمد عتیق سرور اور دیگر ممبران نے ٹیکنکل بریفنگ میں بتایا کہ اگلے سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔
فنانس بل میں 669 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سے 389 ارب روپے انفورسمنٹ کے ذریعے پورے کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سفر کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بڑی کمی کی تجویز ہے، امریکا کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار سے کم کرکے 50 ہزار، مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کے لیے ایک لاکھ 5 ہزار سے کم کرکے 25 ہزار اور یورپ جانے والے مسافروں پر ایف ای ڈی 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کرکے 40 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔
مشرقِ بعید اور آسٹریلیا کے لیے ایف ای ڈی 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کرکے 40 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، اس کمی کا مقصد پاکستان سے بین الاقوامی ٹکٹوں کی خریداری میں اضافہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس ریٹ میں ردوبدل کے مطابق کورئیر، لاجسٹکس، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ سروسز پر ٹیکس 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ایئر کارگو، کار رینٹل، ایچ آر آؤٹ سورسنگ اور آئل ڈرلنگ پر بھی ٹیکس شرح 6 فی سے بڑھا کر 7 فیصد کرنے کی تجویز ہے، دیگر مختلف سروسز پر عائد 15 فیصد ٹیکس کم کر کے 14 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ٹرمینل اور پورٹ سروسز پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کرنے کی تجویز ہے، ڈاکٹرز، وکلاء اور دسرے پروفیشنل سروسز پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔