• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ خاندان میں ہونے والی ایک دعوت کا تذکرہ ہے جہاں نوجوان بچے بھی موجود تھے جنہیں اب جین زی کہا جاتا ہے کھانے کی میز پر ہمارا کلاسیکی آلو گوشت کھانوں کا شہنشاہ دکھائی دیا، ساتھ بٹر چکن چائینزرائس ،منچورین اور رشین سیلڈ بھی موجود تھا گویا کہ پورا ایک گلوبل ولیج کھانے کی میز پر آباد تھا ۔ان میں سے ایک عینک والے ذہین لڑکے کو جسے کھانوں کا آبائی وطنOrigin))جاننے میںدلچسپی ہے کہنے لگا یہ آلو گوشت اور بٹر چکن بھارتی کھانا ہے،ہماری پاکستانیت نے تو جذباتی ہونا ہی تھا ہم نے فوراً کہا کہ بچپن سے ہماری ماں نے ہمیںآلو گوشت بنا کے کھلایا یہ خالصتاً پاکستانی کھانا ہے۔وہ بولا آپ اسے گوگل کریں اوردیکھ لیں ریسرچ کرنےکیلئے ہمیں اب کون سا لائبریریوں میں جانا پڑتا ہے ہاتھ میں وائی فائی سے جڑے اسمارٹ فون موجود ہیں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کےمصداق کھڑے کھڑے تحقیق کر ڈالی اور معلوم ہوا کہ ڈیجیٹل دنیا میں جب ہم گوگل کرتے ہیں ڈیجیٹل ریسرچ میں آلو گوشت ہویا دال چاول ان کھانوںکے ساتھ انڈیا کا لفظ جڑا ہوا ملتاہےیہ بات میرے مشاہدے میں بھی تھی کہ شلوار قمیض ڈیزائن لکھ کر گوگل کیا جائے تو ان کی شناخت انڈین لباس کے طور پر سامنے آتی ہے حالانکہ پاکستان میں ننانوے فیصد لوگ شلوار قمیض پہنتے ہیں مگر ڈیجیٹل دنیا میں ہمارے کھانے ہمارے لباس کو انڈین کھانے اور لباس کے نام کے ساتھ شناخت ملی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خطہ پہلے ایک ہی تھاتقسیم بعد میں ہوئی ہمارا کلچر اور ہمارے کھانے پکانے کے طریقے کم و بیش ایک جیسے ہیں لیکن الحمدللّٰہ پاکستان کے قیام کے بعد ہم ایک الگ ملک ہیں ہماری ایک الگ شناخت ہے اس شناخت کومسخ کرکے کوئی اور کیش کروا رہا ہے تو اس میں ہماری ناکامی ہے ۔اگرچہ کہ یہ وائٹ لیبل پروڈکٹ کا زمانہ ہے چائنہ سے پروڈکٹس بنوا کر دنیا کے کئی ممالک اسے اپنے نام کے ساتھ فروخت کر رہے ہیں لیکن کچھ پروڈکٹس ایسی ہیں جنکے ساتھ جغرافیائی شناخت (جیوگرافیکل انڈیکیشن۔ ٹیگ) کا نشان لگانا ضروری ہوتا ہے پاکستان کا کھیوڑا سے ملنے والا نمک بھی ہماری ایسی ہی ایک پروڈکٹ ہے جسے پوری دنیا میں انڈیا اپنے نام سے بیچ رہا ہے اور کیش کرا رہا ہے سب سے پہلے تو اس میں ہماری اپنی ناکامی ہے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاںاعلیٰ ترین گلابی نمک کے قدرتی ذخائر موجود ہیں اس خزانے کے باوجودبھارت دنیا میں گلابی نمک کو ایکسپورٹ کرنے والا دوسرا بڑا ملک کیوں ہے؟

ہم اپنے اتنے بڑے خزانےکے ساتھ دنیا میں اپنی شناخت بنانے میں ناکام رہے اس پر ابھی بات ہوتی ہے لیکن فی الحال ذرا بھارت کی ہٹ دھرمی پہ بات کر لی جائے کہ جو پاکستان کے گلابی نمک کو دنیا میں انڈین پنک ہمالین سالٹ کے طور پر بیچ رہا ہے پہلے پاکستان بھارت کے درمیان نمک کی تجارت ہوتی تھی ۔کھیوڑہ کانوں سے نکلنے والا نمک بھارت پاکستان سے درآمد کرتا2019 میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے بعد سے تجارتی راستے بند ہیں ۔اب بھارت گلابی نک متحدہ عرب امارات کی ریاستوں سے نمک کے ڈلوں (Rock)کی صورت خریدتا ہے انہیں پیس کر پرکشش پیکیجنگ کے بعد مصنوعات کو اضافی قدر کے ساتھ مارکیٹ کرکے ،اس پرمیڈ ان انڈیا لکھ کر مہنگا فروخت کرتا ہے۔انڈیا ایک ایسا ہمسایہ ہے جسکے ساتھ لڑی گئی باقاعدہ جنگوں اور جنگی کشیدگیوں کی ایک پوری تاریخ موجود ہےانڈیا،ایک بدنیت کم ظرف اورمکار دشمن ہے اوروہ دشمنی صرف جنگ کے میدان میں نہیں دکھاتا وہ ہر جگہ پاکستان کو شکست دینے کی کوشش کرتا ہے جہاں ممکن ہو۔پاکستان کی شناخت مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تجارت کی دنیا میں بھی انڈیا پاکستان کو ہر جگہ شکست دینے کی کوشش کرتا ہے یہ بات ہمیں تسلیم کرنی چاہیے اور فوری طور پر جنگی بنیادوں پر انڈیا کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ پاکستان کے صوبے پنجاب کے خوبصورت علاقے ضلع خوشاب کی تحصیل کھیوڑا سے نکلنےوالاگلابی نمک کا یہ خزانہ ہمارا ہے،جسکی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے کیونکہ یہ نمک صحت کے قدرتی اجزاسے بھرا ہوتا ہے، سفید نمک کے مقابلے میں گلابی نمک فشار خون میں بھی اضافہ نہیں کرتا۔اگرچہ پاکستان نے گلابی نمک کو ،جسے دنیا بھر میں پنک ہمالین سالٹ کہا جاتا ہے،جغرافیائی شناخت(GI) کے ساتھ رجسٹر کروا رکھا ہے لیکن اسکے باوجود بھارت اس نمک کو عالمی منڈیوں میں اپنے نام سے فروخت کر کے ری برینڈنگ نہیں بلکہ مس برینڈنگ کررہا ہے یہ جغرافیائی شناخت کے قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ فوری طور پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اس معاملے کولیکر جائے، پاکستان کو یورپی یونین میں، متحدہ عرب امارات کے تجارتی اداروں کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانا چاہیے، اپنی جغرافیائی شناخت کو مستحکم کرنا چاہیے اسکے علاوہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ پاکستان خام گلابی نمک کو متحدہ عرب امارات کی منڈیوں میں بھی فروخت نہ کرے کیونکہ سب سے زیادہ خام نمک بھارت متحدہ عرب امارات سے خریدتا ہے، سستا خرید کر اسے پراسیس کرتا ہے، پیستا ہے، مارکیٹ کرتا ہے اور اس پر میڈ ان انڈیا لکھ کر مہنگا بیچتا ہے۔بھارت کا جھوٹ اور دھوکہ دہی کا یہ وطیرہ پرانا ہے اس سے پہلے وہ پاکستان کی خوبصورت تحصیل حافظ آباد کی مٹی سے پیدا ہونے والے خوشبودار باسمتی چاول کو بھی میڈ ان انڈیا کی شناخت لگا کر عالمی منڈیوں میں فروخت کرتا رہا ہے اس پر پاکستان کی طرف سے ایکشن لیا گیا اور باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت کو مستحکم کیا گیا۔اسی طرح کی حکمت عملی گلابی نمک کی جغرافیائی شناخت کو مستحکم کرنے کیلئے بھی اپنائی جانی چاہیے۔خام نمک کے طور پر سب سے پہلے اس کی ایکسپورٹ بند کرنی چاہیے اور اس نمک کے جدید پروسیسنگ پلانٹس لگانے چاہئیں، اس کی پیکیجنگ بہتر کرنی چاہیے عالمی سطح پرعالمی ضرورتوں کے مطابق اسکی پیکیجنگ ہونی چاہیے پھر اس پر بڑے واضح الفاظ میں’’میڈ ان پاکستان‘‘لکھا ہوپاکستان کی وزارت تجارت کو اب جاگ جانا چاہیے اور اپنے حصے کا کام کرنا چاہیےاگر ہمارے کھانے، ہمارا لباس،ہمارا گلابی نمک اورباسمتی چاول ڈیجیٹل دنیا میںمیڈ ان انڈیا کی شناخت کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں تو ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کم کیاہے۔

تازہ ترین