پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت تاریخی طور پر قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ یہ برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالتی ہے، لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور جننگ، اسپننگ، ویونگ، ڈائینگ اور گارمنٹس سمیت متعدد ذیلی صنعتوں کے وسیع نیٹ ورک کو سہارا دیتی ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان کو ایک بڑے کپاس پیدا کرنیوالے ملک کے طور پر قدرتی برتری حاصل رہی جس نے مضبوط ٹیکسٹائل بنیاد قائم کرنے میں مدد دی۔ تاہم ان فوائد کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت بتدریج عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت کھوتی چلی گئی ہے۔ اس زوال کے پیچھے کئی ساختی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ وقت کیساتھ پالیسیوں میں بگاڑ، مالی وسائل کی غلط تقسیم، تکنیکی جمود اور زرعی تحقیق کی کمزوری نے اس شعبے کی بنیادوں کو کمزور کیا۔ ایک بڑا مسئلہ ایکسپورٹ ری فنانس سہولتوں کے غلط استعمال کا تھا جو تقریباً تین فیصد کی رعایتی شرح سود پر دستیاب تھیں۔ ان فنڈز کا مقصد صنعتی توسیع، جدت کاری اور ٹیکسٹائل یونٹس کی بی ایم آر کیلئے مالی معاونت فراہم کرنا تھا۔ بدقسمتی سے اس سہولت کا بڑا حصہ مشینری اپ گریڈ کرنے کے بجائے رئیل اسٹیٹ میں منتقل ہو گیا۔ٹیکسٹائل صنعت کو ایک بڑا نقصان 1988ء میں قائم ہونیوالی حکومت کے دور میں پہنچا جب ہر ایم این اے کو غیر علانیہ رعایت کے طور پر ایک اسپننگ مل لگانے کی اجازت دی گئی۔ متعدد ممبران نے صنعتکاروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے شروع کیے جن میں بہت سے افراد کا حقیقی صنعتی یونٹ قائم کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے یہ لائسنس مارکیٹ میں فروخت کر دیے اور منصوبوں کیلئےمالیات کا بندوبست کرنے کے وعدے کیے۔ اس عمل نے منصوبوں کی فزیبلٹی کو مصنوعی طور پر بڑھا دیا اور ایسی ملوں کے قیام کا سبب بنا جو نہ تکنیکی طور پر مؤثر تھیں اور نہ مالی طور پر قابل عمل۔ وقت کے ساتھ یہ منصوبے بینکاری نظام پر بوجھ بن گئے اور صنعتی ڈھانچہ کمزور ہوتا چلا گیا۔اسی دوران جب پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت عروج پر تھی تو پاکستانی صنعتکاروں نے جدید مشینری میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مغربی ممالک سے سستے داموں پر متروک پرنٹنگ اور ڈائنگ مشینیں درآمد کر لیں۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر فائدہ مند محسوس ہوا مگر بعد میں دور اندیشی سے خالی ثابت ہوا۔ جب عالمی حریف جدید روٹری پرنٹنگ اور جدید ڈائنگ ٹیکنالوجی نصب کر رہے تھے تو پاکستان کی صنعت فرسودہ مشینری کیساتھ رہ گئی۔جیسے جیسے عالمی مسابقت میں اضافہ ہوا، پرانی مشینری پر چلنے والی فیکٹریاں مشکلات کا شکار ہونے لگیں۔ پیداواری صلاحیت کم رہی، توانائی کی کھپت زیادہ تھی اور مصنوعات کا معیار بھی حریف ممالک سے پیچھے رہ گیا۔ نتیجتاً کئی ٹیکسٹائل یونٹس بند یا مالی بحران کا شکار ہو گئے۔ تاہم اس بحران کی جڑ صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں بلکہ کھیتوں تک پھیلی ہوئی ہے کیونکہ کپاس پوری ٹیکسٹائل ویلیو چین کا بنیادی خام مال ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان دنیا کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل رہا اور مقامی پیداوار مقامی ملوں کی ضروریات پوری کرتی تھی۔ مگر اب موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملوں، کمزور تحقیق اور غیر مؤثر زرعی پالیسیوں کے باعث کپاس کی پیداوار کم ہو چکی ہے۔ نتیجتاً پاکستان کو کپاس اور حتیٰ کہ کاٹن یارن بھی درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔کپاس کی پیداوار میں کمی کی ایک اور اہم وجہ کپاس کے علاقوں میں بااثر شخصیات کی جانب سے شوگر ملوں کا قیام بھی ہے۔ ان ملوں کے قیام کے بعد جنوبی پنجاب اور سندھ کے متعدد اضلاع میں کاشتکاروں نے کپاس کے بجائے گنے اور دھان جیسی فصلوں کی کاشت شروع کر دی۔ نتیجتاً وہ علاقے جو کبھی پاکستان کے کپاس کے مضبوط ترین مراکز سمجھے جاتے تھے آج کپاس کی پیداوار میں واضح کمی کا شکار ہیں۔کپاس کی پیداوار میں کمی کی ایک اہم وجہ ہائبرڈ بیجوں کی تحقیق میں سست رفتاری بھی ہے۔ بھارت اور چین جیسے ممالک نے ہائبرڈ اور بی ٹی کپاس کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی جبکہ پاکستان پالیسی کے عدم تسلسل اور کمزور تحقیقی اداروں کے باعث پیچھے رہ گیا۔ بھارت نے ہائبرڈ بی ٹی کپاس اپنانے کے بعد اپنی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا۔اسکے برعکس پاکستان میں بیج کے ضابطہ جاتی نظام کی کمزوری اور غیر معیاری یا جعلی بیجوں کی گردش نے کسانوں کو بہتر اقسام اپنانے سے بددل کر دیا۔ ایک اور مسئلہ توانائی کی بلند قیمتیں اور صنعتی پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے۔ ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو بجلی اور گیس کے نرخوں میں بار بار تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اسکے مقابلے میں بنگلہ دیش، ویتنام اور چین نے اپنی صنعتوں کو زیادہ مستحکم توانائی پالیسی اور برآمدی سہولتیں فراہم کی ہیں۔پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلےکپاس کے شعبے میں زرعی تحقیق کو ترجیح دی جائے، خصوصاً ہائبرڈ بیجوں اور جدید بائیوٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔دوسراقدم کپاس کے علاقوں کی کراپ زوننگ ہے تاکہ تاریخی کپاس کے علاقوں میں گنے اور دھان جیسی زیادہ پانی استعمال کرنیوالی فصلوں کی کاشت محدود کی جا سکے۔تیسرا بیج کے ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ کسانوں کو معیاری اقسام دستیاب ہوں۔ چوتھا ٹیکسٹائل صنعتکاروں کو مشینری کی جدت کاری اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر توجہ دینی چاہیے ۔پانچواں رعایتی مالی سہولتوں کی سخت نگرانی ضروری ہے تاکہ صنعتی ترقی کیلئے مختص فنڈز واقعی تکنیکی بہتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر خرچ ہوں۔آخر میں پاکستان کو صرف خام یا نیم تیار ٹیکسٹائل برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینی ہوگی۔ برانڈڈ گارمنٹس، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور اعلیٰ معیار کی تیار شدہ مصنوعات پر توجہ دے کر برآمدی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت دوبارہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت بحال کر سکتی ہے ۔