عمل سے بڑا ردعمل دینے والے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ردعمل کا شکار ہونے والے بڑے ہوجاتے ہیں۔لوگ ان کی پچھلی غلطیاں بھی بھول جاتے ہیں۔یہ فطرت کی اسکیم ہے۔سانحہ پہلگام میں 28 لوگ مارے گئے تھے۔بڑا سانحہ تھا۔اتنا بڑا نہیں تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ہی منسوخ کر دیا جائے۔سندھ طاس والے فیصلے پر انکی بھی ہنسی نکل گئی جو پہلگام کے سانحے پر دل سے رنجیدہ تھے۔جس معاہدے میں دنیا کے بڑے گارنٹرز شامل ہوں انہیں آپ کھڑے کھلوتے منسوخ نہیں کر سکتے۔اس رد عمل نے مودی سرکار کو چھوٹا کردیا۔اپنا قد فورا بحال کرنے کی انہیں ضرورت تھی۔کیلکولیٹر پہ بٹن ماری کی تو جواب آیا، سندھ طاس کو بھول جائو۔اب بہاولپور اور مریدکے میں دو مسجدوں پر حملہ کرکے بدلے اور فتح کا اعلان کردو۔اس کابڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دہشت گردی کیخلاف اٹھائے گئے قدم کوعالمی برادری سراہنے آجائیگی۔سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہوجائے گا۔ حملہ ہوگیا،مگر اس ایک حملے نے مودی سرکار کو بے برکت پودا بنادیا۔اتنابے برکت کہ برکھا دت جیسی صحافیوں اور ششی تھرور جیسے دانشوروں اور سیاست دانوں نے بھی اسے چھوا تو نام ڈوب گیا۔دوسری طرف جو پاکستان خطے میں تنہائی کا شکار نظر آرہا تھا وہ مقدر کا سکندر بن گیا۔
بلاشبہ 23اکتوبر کا واقعہ ایک سانحہ تھا۔اتنا بڑا سانحہ پھر نہیں تھا کہ پورے غزہ کو زمین کے ساتھ برابر کردیا جاتا۔کیلکولیٹر نے نیتن سرکار کو وہی جمع تفریق دی جو مودی سرکار کو دی تھی۔دنیا دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر ساتھ آجائیگی۔ مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔نیتن سرکار نے اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری کر تو دی مگر اس ردعمل نے نیتن سرکار کو بھی بے برکت پودا بنا دیا۔اسے جس نے چھوا وہ دھوبی کا جناور ہوگیا۔بے برکتی کا اندازہ دو واقعات سے لگائیں۔ایران میں رجیم کیخلاف اچھے بھلے احتجاجی مظاہرے ہورہے تھے۔نظام میں تبدیلی نہ سہی نظام کے رویے میں تبدیلی کے امکانات کم از کم پیدا ہوگئے تھے۔پھر نیتن سرکار ایرانی مظاہرین کیساتھ کھڑی ہوگئی۔ پلک جھپکتے میں سارے مظاہرے تیل ہوگئے۔ کمزور ہوتا ہوا نظام اور پائیدار ہوگیا۔دوسری طرف امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔زیتون کھا کے آتے تھے پھلجھڑی چھوڑتے تھے ذرا سا ٹھمکتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔پھر انہوں نے نیتن سرکار کا بازو پکڑ لیا۔جس رنگ ڈھنگ کے مظاہرے ایران میں رجیم کے خلاف ہورہے تھے وہ امریکا میں ٹرمپ کیخلاف شروع ہوگئے۔اب ٹرمپ تو جیسی تیسی گزار رہے ہیں، مگرجنگ مخالف بیانیے پر اگلے الیکشن کی طرف بڑھتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس کا بی پی سنبھلنے میں نہیں آرہا۔روز نیتن یاہو کو فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ اب بتائو میں نئے کپڑے بدل کر جائوں کہاں اور بال بنائوں کس کے لیے۔
بہت ساری چیزیں ہیں جو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کا پیچھا کررہی ہیں۔جیسے ڈس آرڈر کو ورلڈآرڈر بنانا۔طاقت کو اپنی ذات میں مرتکز کرنا۔سیاست اور سفارت کا تمسخر اڑانا۔اجلاس کے ڈیکورم کو جانتے بوجھتے خراب کرنا۔گفتگو میں سلینگز کا استعمال کرکے ثابت کرنا کہ ہم منافقت سے پاک ہیں۔بات یہ ہے کہ روایت سے نکلنے اور ضابطے سے نکلنے میں ایک فرق ہے۔ضابطے سے نکلتا ہوا شخص انجام کار بند گلی میں چلا جاتا ہے۔کوئی سلام کرتا ہے نہ کوئی سلام کا جواب دیتا ہے۔زندگی بند گلی میں آجائے تو ضابطے ہی یاد آنے لگتے ہیں مگر تب ضابطے کی بات کرنا شکست کا اظہار بن جاتا ہے۔چار دوستوں کا حکومتی گروہ دنیا کے ہر سفارتی ضابطے اور سیاسی اخلاقیات کو ہنسی میں اڑاتے چلے جارہے تھے۔اب ٹائی ٹینک آبنائے ہرمز میں پھنسا ہے تو مارکو روبیو کہہ رہے ہیں، عالمی قوانین پر یقین رکھنے والے ممالک اپنا کردار اداکریں۔لائیک سیریسلی؟ یونیسیف کو خط لکھ کر یہ کہنا بالکل جائز ہے کہ اسرائیل میں بچے بھی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن رہے ہیں، مگر خط کے آخر میں بقلم خود نیتن یاہو لکھا ہو تو خط کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ڈس آرڈر والے رویے کیساتھ پہلے بھی اچھی زندگی ہی گزار رہے تھے۔اب اچانک سب گلے میں فٹ ہوگیا۔ کیوں؟ صرف اسلئے کہ انہوں نے عمل سے بڑا رد عمل دیدیا ہے۔جو بات مذاکرات کی میز پر تھی اسے وہ جنگ کے میدان میں لے آئے۔لوگ جنگوں کے دوران علامتوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ اپنے حق میں جانے والی بنیادی دلیل ملبے میں نہ دب جائے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ کیا اور پھر پہلے ہی ہلے میں آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنادیا۔اس ردعمل نے مناسب سائز کے آیت اللہ خامنہ ای کو امام خمینی سے بھی بڑا کردیا اور ناقابل تسخیر نظر آنے والے ٹرمپ کا پائوں اتنا سکیڑ دیا کہ چھوٹی عید کا جوتا اب انہیں بڑی عید پہ بھی پہننا پڑے گا۔ایران میں رجیم مخالف لوگ تو رجیم کے ساتھ کھڑے ہوئے ہی یورپ کو بھی امریکا کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع مل گیا۔اب امریکا میں جو ڈیڑھ کروڑ لوگ No Kings in America کا عنوان لیکر سڑکوں پر نکل آئے ہیں وہ بونس ہے۔
اس پوری مارا ماری میں نیتن یاہو کا کچھ گیا نہیں اور ٹرمپ کا کچھ بچا نہیں۔ٹرمپ کے پاس ایک جنگ مخالف بیانیہ تھا اس کا سنتولن بھی بگڑ گیاہے۔کہتے ہیں، میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں اور ایک جنگ جیتی ہے۔پھر کہتے ہیں، ایران میں آیت اللہ خامنہ ای اور علی لاریجانی کی جگہ دوسرے لوگ آچکے ہیں،یہ رجیم چینج نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔اس غزل پہ سامعین سے داد نہیں مل رہی۔ ایک پاپولسٹ جینزی دماغ بھی یہ محسوس کر رہا ہے کہ غزل کے ہر شعر میں کوئی گڑ بڑ ہے۔رجیم چینج والی بات کرتے وقت ٹرمپ سرکار یہ بھی نہیں سوچتی کہ رضا پہلوی پہ کیا گزرتی ہوگی۔ ہائے اسکی سی وی، جو وہ روز اپڈیٹ کرتا تھا۔ہائے اسکی ٹائی، جو وہ روز سیدھی کرتا تھا۔