• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چار اپریل پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جو صرف ایک عدالتی فیصلے کی یاد نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک مزاحمت اور ایک قومی خودداری کے استعارے کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ وہ دن ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو ہم سے جدا کر دیا گیا، مگر ان کے خیالات، ان کی سیاسی بصیرت اور ان کا دیا ہوا شعور آج بھی پاکستان کی سیاست میں سانس لے رہا ہے۔ اس سال جب ان کی برسی قریب ہے اور میرا کالم اکتیس مارچ کو شائع ہونا ہے، تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ اگر بھٹو آج زندہ ہوتے اور دنیا ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کے دہانے پر کھڑی ہوتی تو پاکستان کا کردار کیا ہوتا؟یہ ایک حقیقت ہے کہ بھٹو صاحب نے پاکستان کو صرف داخلی طور پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار شناخت دی۔ ان کا ماننا تھا کہ پاکستان کو کسی طاقت کے زیرِ اثر نہیں بلکہ ایک خودمختار ریاست کے طور پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ آج جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور United States اس خطے میں اپنی روایتی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے، تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے۔ اگر بھٹو آج ہوتے تو وہ کبھی بھی پاکستان کو کسی جنگی بلاک کا حصہ نہ بننے دیتے بلکہ ایک فعال اور متوازن سفارتی کردار ادا کرتے۔بھٹو صاحب کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان کو مسلم دنیا کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے چاہئیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کو گروی رکھ دے۔ ایران کیساتھ ہمارے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، اور بھٹو صاحب ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے حامی ہوتے۔ وہ یقیناً یہ چاہتے کہ پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہے، مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی یقینی بناتے کہ پاکستان کسی ایسی محاذ آرائی کا حصہ نہ بنے جو اس کیلئے معاشی یا عسکری نقصان کا باعث بنے۔اسی طرح اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہمیشہ اصولی رہا ہے، اور وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ بھٹو صاحب اس مؤقف کے سب سے بڑے داعی تھے۔ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں ایک بھرپور سفارتی مہم چلاتے، جیسا کہ انہوں نے ماضی میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے ذریعے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔ ان کا وژن یہ تھا کہ ایک متحد مسلم دنیا ہی عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

آج کے حالات میں آصف علی زرداری کی سیاست اسی بھٹو ازم کا تسلسل نظر آتی ہے، جہاں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ زرداری صاحب نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ پاکستان داخلی استحکام حاصل کرے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک کمزور اندرونی ڈھانچہ کسی بھی ملک کو بیرونی دباؤ کے سامنے بے بس کر دیتا ہے۔ اگر بھٹو آج ہوتے تو وہ یقیناً زرداری کی اس حکمت عملی کو سراہتے اور اسے عالمی سطح پر بھی اپنانے کی کوشش کرتے۔اسی طرح بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان کی سفارتکاری ایک نئے انداز میں سامنے آئی ہے۔ بلاول نے عالمی فورمز پر نہ صرف پاکستان کا مؤقف پیش کیا بلکہ فلسطین، اسلاموفوبیا اور علاقائی امن جیسے اہم مسائل پر بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ اگر بھٹو آج زندہ ہوتے تو وہ بلاول کی اس جراتمندانہ سفارتکاری کو مزید تقویت دیتے اور انہیں ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھارتے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آج پاکستان کو صرف خارجی خطرات ہی نہیں بلکہ داخلی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے مسائل شامل ہیں۔ بھٹو صاحب کا وژن یہ تھا کہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے، اور یہی فلسفہ آج بھی پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اسی نظریے کے تحت عوامی فلاح، جمہوریت اور خودمختاری کے اصولوں پر کاربند ہے۔اگر ہم موجودہ عالمی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، اور ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری برقرار رکھے۔ بھٹو صاحب کبھی بھی پاکستان کو کسی ایسی جنگ میں نہیں جھونکتے جو اس کے مفاد میں نہ ہو۔ وہ سفارتکاری، مذاکرات اور علاقائی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے تھے۔آج ہمیں اسی بھٹو ازم کی ضرورت ہے، جہاں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی امن کیلئے کردار ادا کرے۔ ہمیں نہ صرف اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن اور باوقار پالیسی اپنانا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو بھٹو صاحب نے ہمیں دکھایا تھا، اور یہی راستہ آج بھی پاکستان کے لیے سب سے موزوں ہے۔چار اپریل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ رہنما جسمانی طور پر رخصت ہو سکتے ہیں، مگر ان کے نظریات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی اسی نظریے کی امین ہے، اور آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان کو ایک مستحکم، خودمختار اور باوقار ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔اگر ذوالفقار علی بھٹو آج زندہ ہوتے تو وہ شاید یہی کہتے کہ پاکستان کو اپنی طاقت اپنی عوام، اپنی خودمختاری اور اپنی دانشمندانہ سفارتکاری میں تلاش کرنی چاہیے، نہ کہ کسی اور کی جنگ میں حصہ بن کر۔ یہی پیغام آج کے پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے، اور یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

تازہ ترین