• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج ایک بار پھر عرب ممالک کا امتحان ہے آج ایک بار پھر حملہ آور اسرائیل اور امریکہ ہے جبکہ نشانہ 40سال سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والا ایران ہے۔ بات محض جنگ بندی کی نہیں ظالم کو ظالم اور جارح کہنے کی ہے۔ ’’جنگ بندی‘‘ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی صف بندی کی بھی ضرورت ہے۔ کیا اسرائیل نے غزہ میں بمباری روک دی ،کیا وہاں آئے دن فلسطینی نہیں مارے جا رہے ،کیا بیروت یا لبنان ایک بار پھر تباہی کے دہائے پر نہیں پہنچ گئے۔؟ یہ اور ایسے ہی بے شمار سوالات ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا دنیا بشمول عرب اور اسلامی ممالک دنیا کو ممکنہ طور پر کسی خوفناک تصادم سے روک سکتے ہیں۔ ایسے میں حال ہی میں اسلام آباد میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس خاص اہمیت کا حامل ہے گو کہ یہ ابتدا ہے۔ ایک ماہ سے زائد شروع ہونے والی امریکہ اسرائل کی ایران سے جنگ میں آنے والا ہفتہ یا پندرہ دن انتہائی اہم ہیں اور اگر پاکستان کی جنگ روکوانے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی طاقت کی اہمیت اور بڑھ جائیگی بس فرق کرنا ہے تو اتنا کے ایک طرف اک سپر پاور اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والا بدترین دہشت گرد اسرائیل ہے تو دوسری طرف قربانیوں کی لازوال مثالیں قائم کرنے والے ’ایران‘ جسکے سپریم لیڈر سمیت صف اول کی قیادت نے جانوں کی قربانی دے کر امریکہ کے رجیم چینج کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا اور ثابت کیا کہ کون مر کر بھی زندہ ہے اور کون مار کر بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔

اس جنگ نے مجھے ایک بار پھر 1973ءمیں ’عرب۔ اسرائیل‘ جنگ کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کی یاد دلا دی۔ جب پہلی بار اس وقت کی عرب اور اسلامی دنیا کو ’تیل‘ کے طاقت کا احساس ہوا کے ان کے ہاتھ میں ایک انتہائی مضبوط ہتھیار موجود ہے بس اس کو استعمال کیسے کرنا ہے۔یہی ان کا اصل امتحان تھا۔ اس وقت خوش قسمتی سے ان ممالک کی بیشتر قیادت اسرائیل ہی نہیں امریکہ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت رکھتی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ چند ماہ بعد ہی لاہور میں اسلامی سربرا کانفرنس منعقد ہوئی تو کوئی 38 ممالک کے سربران مملکت نے نہ صرف شرکت کی بلکہ باضابطہ طور پر ایک ’اسلامک بلاک‘ کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ اس بلاک کی سربراہی بھی اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حصہ میں آئی اور چند سال بعد جب ان کو پھانسی دی گئی تو یہ عہدہ انہی کے پاس تھا۔ 1974 کی اس اسلامی سربراہی کانفرنس میں پہلی بار PLO کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم اور فلسطین کو اک آزاد ریاست تسلیم کیا گیا۔ اس اتحاد کو امریکہ اور اسرائیلی لابی نے پسند نہ کیا جبکہ کمونسٹ روس نے اس کا خیر مقدم کیا۔

اس کانفرنس کی کامیابی کے ساتھ ہی اس گہری سازش کا آغاز ہوا جس کے تحت اس میں شامل چند انتہائی متحرک رہنمائوں کو یا تو جسمانی طور پر نشانہ بنایا گیا یا ’رجیم چینج‘ کی کوششیں شروع ہوئیں۔ پاکستان میں یہ دونوں کوششیں کامیاب ہوئیں۔ ایک منتخب حکومت کا خاتمہ ایسے وقت جب الیکشن پر حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق ہو گیا تھا دوئم، بھٹو کی سزائے موت اور تقریباً تمام اہم اسلامی اور عرب سربراہانِ مملکت کی اپیلیں مسترد۔ اس کی پھانسی سے وہ تمام کاوشیں ماند پڑتی چلی گئیں جو ایک مضبوط ’اسلامک بلاک‘ کیلئے 1974 کے بعد سے کی جا رہی تھیں۔

آج سے چند سال پہلے میں نے اُس امریکی سفارتکار کا انٹرویو کیا تھا جس نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور بھٹو کے درمیان اس تلخ ملاقات اور گفتگو کو سنا تھا جس میں بھٹو کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر پاکستان نے ایٹمی پروگرام ترک نہ کیا توانہیں نشانِ عبرت بنادیا جائیگا۔ امریکہ صرف ایٹمی پروگرام سے ہی پریشان نہیں تھا بلکہ پاکستان کے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم اور تھرڈ ورلڈ کے اتحاد میں شمولیت سے اس کو ماضی کا اتحادی روسی بلاک میں جاتا نظر آ رہا تھا۔ بس یوں سمجھیں یہ ابتدا تھی ’’کوئے یار سے سوئے دار‘‘ کے سفر کی جو 4؍اپریل 1979کو تکمیل تک پہنچا۔ وہ تاریخ کا طالب علم تھا اور تاریخ میں ہی زندہ رہنا چاہتا تھا۔ اس کو تاریخ کا ادراک تھا اسی لیے ڈیتھ سیل سے لکھی جانے والی اپنی کتاب،" اگر مجھے قتل کیا گیا" میں اس نے آنے والے وقت میں عرب اور اسلامی دنیا کو خبر دار کر دیا تھا۔ اس نے لکھا ’’ہمیں پتا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے۔ بھارت کے پاس موجود ہے اگر نہیں ہے تو اسلامی ممالک کے پاس نہیں ہے۔ مگر اب یہ تبدیل ہونے جارہا ہے۔‘‘ ایک اور جگہ لکھا ’’جب میں حکومت سے اس ڈیتھ سیل میں آیا پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کرلی ہے۔‘‘

ان چالیس برسوں میں دنیا بدل گئی وہ تمام ممالک نشانہ بنے جو فلسطینی کاز کی حمایت میں کھڑے رہے۔ ان کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا کہ یہ ’’ملک ہتھیار‘‘ بنا رہے تھے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ایک فراڈ تھا۔ عراق، لیبیا، شام اور لبنان تباہ کر دیے گئے اور اب نشانہ ایران ہے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ 1980 میں افغانستان میں روس کے آنے کے بعد پاکستان امریکہ کی مجبوری بن گیا، جہاں افغانستان کے نام پر نہ صرف اربوں ڈالرز ملے بلکہ ایٹمی پروگرام بھی جاری رہا اور یوں 1998میں ہم ایٹمی طاقت بن گئے۔ آج غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر عرب اور اسلامی ملکوں کی خاموشی نے امریکہ کی پشت پناہی میں جارح اسرائیل نے ایران پر یہی کہہ کر حملہ کیا کہ وہ ایٹمی قوت بنے جارہا تھا۔ بس ایران کے جواب نے ان دونوں کو ’لاجواب کردیا ور اسکی پوشیدہ حکمت عملی کی دنیا داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ پاکستان ایک بار پھر میزبان ہے اور مہمان ہیں عرب ممالک گو کہ یہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس تھا مگر ان کوششوں کو ایران، روس، چین اور خود امریکہ کی حمایت بھی حاصل رہی۔ البتہ یہ ایک سخت امتحان ہے کہ اول ، امریکہ اور ایران مذاکرات پر تیار ہونگے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کن شرائط پر ۔ دوئم کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور سب سے اہم نیتن یاہو کسی بھی معاہدہ کو عملی شکل دینے پر تیار ہونگے ہمارے سامنے غزہ کا تجربہ موجود ہے۔

بہرکیف ہر جنگ کا اختتام تباہی کے بعد مذاکرات پر ہی ہوتا ہے بس دیکھنا یہ ہے کہ کس کا کتنا نقصان ہوتا ہے۔ قومیں اپنے اتحاد اور تہذیب پر ثابت قدم بھی رہتی ہیں اور دوبارہ کھڑی بھی ہو جاتی ہیں۔ بس یہی ایران کی طاقت ہے۔

تازہ ترین