اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبداللّٰہ درداری نے کہا کہ ایران جنگ کے ایک مہینے میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور مشرقی بُحیرۂ روم کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، ایک ماہ کی جنگ کے نتیجے میں عرب خطے کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا اندازہ ہے۔
عرب ملکوں میں تقریباً 37 لاکھ نوکریاں ختم ہو جائیں گی اور پچھلے ایک ماہ میں 40 لاکھ مزید افراد یا تو سطح غربت سے نیچے چلے گئے ہیں یا چلے جائیں گے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے بحران کے سبب اب تک 12 ملین بیرل یومیہ سے زائد آئل سپلائی ضائع ہو چکی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے چیف نے خبردار کیا ہے کہ اپریل میں تیل کا نقصان مارچ کے مقابلے میں دگنا ہونے کا خدشہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40 اہم توانائی کے اثاثوں کو نقصان پہنچا ہے، یہ بحران 1970 کی دہائی کے تیل کے دو بحرانوں اور 2022 میں روسی گیس کے نقصان سے بھی بدتر ہے۔