امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کی بحالی سے مشروط کرتے ہوئے ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دے دی۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر پہلے والوں سے کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی نئی رجیم کے صدر نے ابھی امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی کی درخواست پر غور کریں گے۔ درخواست پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی اور مکمل طور پر محفوظ ہوجائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ یا پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیں گے۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران میں حکومت کی مکمل تبدیلی کردی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سے بہت جلد نکل جائیں گے لیکن ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں ہمارے ابھی کچھ اہداف باقی ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم واپس آ کر ان اہداف پر حملے کریں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا نہ ہی جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کی تقریر میں نیٹو کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کروں گا، امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جوہری مواد کے بارے میں پریشان نہیں، اس کی سیٹلائٹ سے نگرانی کریں گے۔