• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے پڑوس میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے،اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ عالمی میڈیا کی زینت بنا ہے کہ ایران کے آسمانوں پر امریکہ کا راج ہے،امریکی فوجی کارروائیاںدو یا تین ہفتوں میں مکمل ہو جائیں گی۔امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ کا اس حوالے سے کہناہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی دفاعی صلاحیت روزبروز کمزور ہورہی ہے، ایران جنگ آنے والے چند روز میں فیصلہ کُن ثابت ہوگی۔دوسری طرف ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نےانکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں شدت لانے کیلئے آٹھ نکات پرمشتمل ایک کثیر مرحلہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ایران کی خفیہ ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے سمیت محدود پیمانے پر ایٹمی حملہ بھی شامل ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونےسےلیکر اب تک چارسوسے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے ہیں،ایران جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے بعد بھی ایرانی شہروں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران کی جانب سےاسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر میزائل داغنے کی صلاحیت بدستور برقرار ہے، رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) کی رپورٹ میں اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 16 ایام کے دوران بھاری مقدار میں چھبیس ارب ڈالر مالیت کا دفاعی گولہ بارود استعمال کیا ہے،تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خلیجی ممالک میں ایرانی میزائلوں کو روکا نہیں جاسکا جبکہ اسرائیل کی جانب سے نصب کردہ آئرن ڈوم دفاعی سسٹم بھی مسلسل تابڑتوڑفضائی حملوں کے باعث تھکاوٹ کا شکار نظر آرہا ہے۔ایسے حالات میں قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں طول آنے کے باعث جھنجھلاہٹ کا شکار ہوکر ایران کو ایٹمی حملے کا نشانہ بناسکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں معروف امریکی ادارے ایم آئی ٹی سے وابستہ پروفیسر تھیوڈورے پوسٹل کاایک ویڈیو انٹرویو منظرعام پر آیا ہے جس میں انہوں نے ایران جنگ میں ایٹمی حملوں کے خدشات پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے، یہودی پس منظر کے حامل پروفیسر پوسٹل جوہری ہتھیاروں، میزائل ٹیکنالوجی اور فضائی دفاعی نظام پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہر سمجھے جاتے ہیں، پنٹاگون جیسے دفاعی اداروں میں بطور سائنسی مشیر خدمات سرانجام دینے کے باعث امریکہ کی قومی سلامتی کے حوالے سےاُنکی رائے کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔اپنے باون منٹ دورانیہ کے انٹرویو میں پروفیسر پوسٹل کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے پاس ممکنہ طور پر کم از کم دس عدد جوہری ہتھیاروں کی تیاری کیلئے جوہری مواد موجودہے، انہوں نے اسرائیلی اور ایرانی رویے کو مدنظر رکھتے ہوئےاندازہ لگایاہے کہ اگرحالیہ تصادم میں جوہری ہتھیار استعمال ہوئے تو پہل کرنیوالے اسرائیلی ہونگےکیونکہ وہ ایرانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ لاپروا اور جارحانہ ہیں،پروفیسر پوسٹل نے اپنے انٹرویو میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران ایٹمی حملے کا جواب نہیں دے سکے گا تو وہ غلطی پر ہے، فی الحال ایرانی اپنے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حکم کی پیروی کر رہے ہیں کہ انہیں جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہئیں ،تاہم پروفیسر پوسٹل کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کا حکم نامہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ایران کو جارحیت کا نشانہ بنایا جائےاور ایران کا وجودخطرے میں پڑ جائےتو پھر جوہری ہتھیاروں کاجوابی استعمال جائز ہوگا ۔امریکی پروفیسر نےدوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہر ناگاساکی پر ایٹمی حملے کا نقشہ کھینچتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ ایٹمی حملے کے باعث بننے والا فائر اسٹورم پھر سرحدیں نہیں دیکھے گابلکہ تیزرفتاری سےخطے میں گردش کرتے ہوئے آس پاس کے ممالک کو بھی راکھ کا ڈھیربنادے گا، زیرزمین بنکرز آگ کی بھٹی میں تبدیل ہو جائیں گے، اگر کوئی ہولناک ایٹمی حملے سے بچ گیا تو اسکا سامنا جوہری تابکاری کے تباہ کُن اثرات سے ہوگا، بچ جانے والے ہفتوں تک ناقابلِ برداشت اذیت میں مبتلا رہیں گے، علاوہ ازیں ایٹمی حملے میں بچ جانے والوں کوشدید تباہی لانے والی ریڈیو ایکٹو بارش کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، آگ اور خون کی یہ تابکاری بارش کہاں پر برسے گی؟ اسکا دارومدار ہوا کے رُخ پرہوگا۔ پروفیسر پوسٹل کے بقول اسرائیلی اور امریکیوں کے نقطہ نظر سے یہ جنگ پہلے ہی ہاری جاچکی ہے، تاہم اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل بطور ریاست ختم ہوجائے گا بلکہ اسرائیل کو اب اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی، اسرائیل کو"جیو اور جینے دو" کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ایٹمی سائنسدان پروفیسر پوسٹل کا ویڈیو انٹرویو یوٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ امریکی یہودی شہری ہونے کے ناطےایران کے خلاف جارح قوتوں کو خبردار کررہے ہیں کہ ہمیں ایران کا نظام حکومت پسند آئے یا نہ آئےلیکن اسرائیل اور امریکہ کو ایرانیوں کو بطور عظیم قوم تسلیم کرکے انکے وجود کے حق کا احترام کرنے کی ضرورت ہے،اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صورتحال مزید خراب ہوگی اور اسکا نتیجہ اسرائیل کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا،جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو نقصان نہیں ہوگا، وہ حقیقت نہیں سمجھ رہے،اسرائیل کی معیشت تباہ حال ہے، امریکی عوام اب اسرائیل سے تنگ آ چکے ہیں،بہت سے امریکی کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کیلئے جنگ نہیں لڑیں گے، یہی وجہ ہے کہ اب اسرائیل کو یہ سوچنا چاہیےکہ اسے ماضی کے برعکس مددبالکل نہیں ملے گی ۔پروفیسر پوسٹل نے اپنے انٹرویو کے اختتامی کلمات میں اسرائیلی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ کسی صورت ایران پر ایٹمی حملہ نہ کیا جائے ورنہ جوابی ایٹمی حملے کے نتیجے میں اسرائیل کو نہایت بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہندو ویدک علم نجوم کی روُ سےرواں برس 23فروری سے شروع ہونے والایہ 39روزہ انگرک دوش آج کے دن 2 اپریل کو ختم ہورہا ہے،اس دوران سیارہ مریخ اور راہو کا آتشگیر ملاپ زمین پر جنگ و جدل، انتشار، تناؤ اور تنازعات کا باعث بنتا ہے، جوتشیوں کا کہنا ہے کہ انگرک دوش کے بعد کی مدت غیرمعمولی حالات کونارملائز، غصے میں کمی اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں میں بتدریج بہتری کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

تازہ ترین