مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر معاشی بے یقینی کی صورتحال کے اثرات پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ محکمہ شماریات کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026ء میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جنوری کے مہینے کے مقابلے میں 24.6فیصد کم ہو کر1. 3 ارب ڈالر پر آ گئی ہیں۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں یہ کمی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں بھی سات فیصد کم ہیں۔
برآمدات میں حالیہ کمی کے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر اثرات کا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک مہینے میں نٹ ویئر سیکٹر کی برآمدات میں14.5 فیصد، بیڈ ویئر کی برآمدات میں 11.5فیصد، ٹاولز کی برآمدات میں16.37فیصد، سوتی کپڑے کی برآمدات میں10.9فیصد اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں 0.56فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ ماہ سوتی دھاگے کی برآمدات میں43.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال کی کھپت میں کمی آئی ہے۔
دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث ایندھن اور لاجسٹکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث آپریٹنگ چارجز میں اضافے کی وجہ سے برآمد کنندگان کو ایئر کارگو کی ترسیل پر اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں ائیر کارگو کمپنیوں کی طرف سے برآمدی مال کی بکنگ سے پہلے ہی اضافی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان اضافی اخراجات کی وصولی کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ اضافی چارجز کا اطلاق ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد ایندھن سے متعلقہ اخراجات میں اضافے کو پورا کرنا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ ائیرکارگو کی سہولت فراہم کرنے والی ان عالمی کمپنیوں کی جانب سے چارجز میں اضافہ حکومت یا ائیر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان سے کسی مشاورت یا پیشگی اطلاع کے بغیر نافذ کیا گیا ہے۔ اس طرح پہلے سے بحران کا شکار برآمدکنندگان کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ جنگی صورتحال کے باعث سمندری راستے سے برآمدی مال کی ترسیل کرنے والی شپنگ کمپنیوں کی طرف سے فی کنٹینر 3500سے 4000ڈالر اضافی سرچارج نے برآمد کنندگان پر مالی دبائو بڑھا دیا ہے۔
عالمی سطح پر موجود ان چیلنجز کے ساتھ ساتھ برآمدکنندگان کو وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کا بھی سامنا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کی عالمی مسابقت متاثر ہو رہی ہے بلکہ لاگت بڑھنے کے باعث پیداواری عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز سے ایکسپورٹ انڈسٹری پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کو بڑھا کر دو فیصد کر دیا گیا تھا حالانکہ پہلے سے عائد 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر نے ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے پیداواری استعداد میں اضافہ پہلے ہی مشکل بنا رکھا ہے۔ تاہم اب پنجاب حکومت کی طرف سے ایکسپورٹ انڈسٹری پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نفاذ کی اطلاعات ہیں جس سے برآمدکنندگان پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خطے میں سب سے بلند انرجی ٹیرف اور شرح سود کے ساتھ خام مال اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے پہلے ہی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ایسے میں ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر سیس عائد کرنا برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہو گا۔ ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان پہلے ہی عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کی کوشش میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں اس نوعیت کے صوبائی محصولات سپلائی چین میں بگاڑ پیدا کرنے اور برآمدکنندگان کی حوصلہ شکنی کا باعث بنیں گے۔ اس اقدام سے پنجاب کی صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی کوششیں متاثر ہوں گی اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے باعث بیروزگاری مزید بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔
موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں برآمدکنندگان پر عائد ٹیکسوں میں مناسب کمی کریں اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو کم از کم نئے ٹیکس لگانے سے گریز کیا جائے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس کا نظام اور ریگولیٹری فریم ورک برآمدکنندگان کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ایک طرف ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کو ہر لین دین پر دو فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف مقامی مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے اداروں سے سہ ماہی بنیادوں پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔
اس صورتحال کے باعث ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کے سرمائے کا بڑا حصہ ریفنڈز کی واپسی کے نظام میں پھنسا رہتا ہے جس کی وجہ سے انہیں سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ٹیکس حکام کو برآمدکنندگان سے ٹیکس کی وصولی کے نام پر وسیع اختیار دے دیئے گئے ہیں جو برآمدکنندگان کی ہراسمنٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ برآمد کنندگان پہلے ہی کاروبار کرنے کی بھاری لاگت کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لئے اگر حکومت انہیں کوئی ریلیف فراہم نہیں کر سکتی ہے تو کم از کم ان کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے اداروں کے مساوی سلوک کیا جائے اور ان کے پھنسے ہوئے ریفنڈز کی ادائیگی کا خودکار نظام فعال کرکے سرمائے کی قلت کو ختم کیا جائے۔
اس حوالے سے خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے وفد سے ملاقات میں دستیاب مالیاتی گنجائش کے مطابق جلد ضروری اصلاحات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات فوری شروع کئے جائیں تاکہ مشرق وسطی میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر پائی جانے والی معاشی بے یقینی کے باعث پاکستان کی برآمدات میں مزید کمی کا فوری سدباب ممکن ہو سکے۔