پاور ڈویژن نے حکومتی سرپلس پاور پیکیج کی 3 ماہ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دسمبر 2025ء سے فروری 2026ء کے دوران صنعتی اور زرعی شعبوں نے 23 فیصد اضافی بجلی استعمال کی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس عرصے میں دونوں شعبوں نے مجموعی طور پر 2,164 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی جس کے نتیجے میں صنعت اور زراعت کو مجموعی طور پر 20 ارب 83 کروڑ روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔
صنعتی صارفین نے 19 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ زرعی شعبے کو 1 ارب 14 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا۔
اعداد و شمار کے مطابق صنعتی صارفین میں بی تھری کیٹیگری نے سب سے زیادہ یعنی 8 ارب 76 کروڑ روپے کا فائدہ حاصل کیا جبکہ بی ٹو صارفین کو 5 ارب 34 کروڑ روپے اور بی فور کیٹیگری کو 4 ارب روپے سے زائد فائدہ ہوا۔
بی ون کیٹیگری کے صارفین نے 3 ماہ میں 1 ارب 48 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔
بجلی کے استعمال کے تناسب میں بی ون صنعتی صارفین 27 فیصد کے ساتھ سرِفہرست رہے، بی فور نے 25 فیصد، بی ٹو نے 24 فیصد، بی تھری نے 22 فیصد جبکہ زرعی شعبے نے 21 فیصد بجلی استعمال کی۔
بڑی صنعتوں میں بی تھری کیٹیگری کے 52 فیصد، بی ٹو کے 48 فیصد اور بی ون کے 43 فیصد صارفین نے پیکیج سے فائدہ اٹھایا جبکہ زرعی صارفین میں سے 34 فیصد اس سہولت سے مستفید ہوئے۔
پاور ڈویژن کے مطابق پیکیج کے تحت جنوری میں 12 فیصد اور فروری میں 11 فیصد اضافی بجلی استعمال کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے صنعتوں کو مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے نیشنل گرڈ پر انحصار بڑھانے کی ترغیب دی جس سے توانائی کے نظام کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوئی۔