• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرق ِوسطیٰ میںجو منظر نامہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ اب کسی مخصوص خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی امن اور انسانی تقدیر کا آئینہ دار ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے یہ ایک بے رحم اور پیچیدہ کھیل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس میں ہر دن نئی تباہی، خطرات اور عدم استحکام کا سامنا ہے۔ ایران کی توانائی ، جوہری اور میزائل تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کےتابڑ توڑحملےاور ایران کی جوابی کارروائیاںمسلسل سنسنی پیدا کر رہی ہیں ۔یہ دائرہ مشرقِ وسطیٰ کےکئی دوسرے ممالک تک بھی پھیل رہاہےاور محاذ تک محدود نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز کے راستے میں رکاوٹیں، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عوام کی زندگی پر اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

غیرجانبدارانہ تجزیہ تو یہی ہے کہ یہ جنگ فوجی محاذ کےعلاوہ انسانی ، معاشی بحران اورسیاسی کشیدگی کاایسامجموعہ بنتی جارہی ہےجو دھیرےدھیرے دنیا کے ہر کونے کو اپنی لپیٹ میں لےکراسےجھنجھوڑ رہی ہے۔ ایرانی عوام اندرونی سطح پر ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوکر مختلف مسائل اور روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ میں ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ امریکہ ہو، یورپی ممالک یا عرب دنیا کی بعض ریاستیں سب اس صورتحال کے اثرات سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔اس قدر خلفشاراورنفرتوںکےبیچ ، امیدوں کے چراغ بہرحال روشن ہیں یعنی مذاکرات کے امکانات بھی زندہ ضرور ہیں لیکن بہت نازک اور پیچیدہ ہیں۔ امریکہ نے ایران کو ایک 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا۔جس میں جنگ بندی، حملوں کی روک تھام اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے نکات وغیرہ شامل تھے۔ ایران نے اس منصوبے کو ایک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئےاپنی طرف سے پیش کردہ بعض شرائط کے ساتھ رد کر دیا ۔اس کے باجود جو اچھی اورحوصلہ افزا بات ہے وہ یہ ہے کہ ابھی سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے امن کے دروازے موجود ہیں لیکن انہیں کھولنے کیلئے صبر، حکمت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے اس منظر نامے میں ایک روشن اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ امن ہی ترقی، خوشحالی اور انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ پاکستان کے تعلقات ایران، عرب دنیا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معتدل اور متوازن ثالثی کی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔اسلام آباد نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی ٹیبل پرخلوص انداز میں سجانےکیلئے تیار ہے۔ پاکستان نے عرب دنیا اور دیگر مسلم ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ طاقت کے بجائے بات چیت، اعتماد سازی اور مشترکہ مفادات پر مبنی حل ہی خطے کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ موقف عالمی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہے ۔ دنیا کے دیگر ممالک پاکستان کی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اپنے پرائےسبھی اس بات کااعتراف کر رہے ہیں ،پاکستان کے کردار کی وجہ سے خطے میں تشدد کے بجائے مذاکرات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ جنگ کبھی کسی مسئلےکاحل نہیں ہواکرتی۔ عسکری طاقت پر انحصار کرنے کے بجائےحکمت، اخلاقیات اور عالمی تعاون کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جنگ بڑھے گی یا مذاکرات کامیاب ہوں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ ابھی کوئی یقینی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پورے خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ توانائی منڈیاں مزید متاثر ہوںگی۔ عالمی معیشت پر جنگ کے گہرےاثرات محسوس ہوں گے۔اسی طرح دوسری جانب اگر طاقتیں بات چیت، مذاکرات اور دانشمندی کا راستہ اختیار کریں تو ایک متوازن اور کم شدت والا حل ممکن ہےجو انسانی زندگی، عالمی معیشت اور خطے کے امن کیلئےدیرپااورنہایت مفید ثابت ہو گا۔موجودہ عالمی صورتحال کاتقاضا تویہ ہےکہ یہ وقت صرف انتظار کرنے کا نہیں بلکہ ایک فعال سوچ، فہم وفراست اور اخلاقی شعور کوبروئےکار لانےکا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تباہی سے بچا سکتا ہے اور دنیاکیلئے امن، خوشحالی اور ترقی کی ایک نئی صبح کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے؟ آنےوالاکل خدانخواستہ جنگ کی آگ میں جل کر تباہ ہوگا یا امن کے راستے پر چل کر انسانی، معاشی اور اخلاقی ترقی کا شاہکار بنے گا؟ اس کا جواب ہمارے اعمال، قیادت کے فیصلوں اور عالمی تعاون میں مضمر ہے۔پاکستان اورترکیہ سمیت کچھ دوسرے امن پسند ممالک کے مثبت کردار کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ امن کی داستاں ایک نئے باب میں رقم ہو جائے۔ اللّٰہ کرےایسا ہی ہو!

تازہ ترین