لکھنا کوئی مشینی کام نہیں تخلیقی لکھاری کیلئے یہ ان کہی کو کہی میں ڈھالنے کا عمل ہے۔لکھنے والا اپنے احساس کے باطن سے اٹھنے والی لہریں گنتا اور ان لہروں سے سیپیاں چنتا ہے اس کا شعور، لا شعور، ماضی میں گزرنے والے حالات و واقعات سب لکھنے کے عمل میں شریک ہوتے ہیں ۔اسی لیے تو ساحر اپنے شعر میں اعتراف کرتا ہے کہ تجربات حوادث کی شکل میں زندگی نے جو کچھ مجھے دیا میں نے نظموں اور غزلوں کی صورت وہی کچھ لوٹایا ہے۔لکھنا ایک جادوئی عمل ہے لکھنے کے دوران کبھی ماضی کی یاد کا کوئی لمحہ چمکتا ہے تو لفظوں کے آئینوں میں ایک جھلملاہٹ سی پیدا ہوتی ہے اور یہ جھلملاہٹ لکھنے والے کے وجود کے اندر چمکتی ہے اور وہ اس عمل کے دوران کبھی مسکرا دیتا ہے کبھی اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ شاعر افسانہ نگار اور تخلیق کی تحریر لکھنے والا تو لکھنے کی عمل میں ایسے ہی جلتا بجھتا رہتا ہے۔اگر تخلیقی تحریریں لکھنےسے ہٹ کر ان لکھاریوں کی بات کی جائے جیسے ڈرامہ لکھنے والے، اخبارات کیلئے مضامین اور کالم لکھنے والے کالم نگار اور صحافی جنہیں ہفتے میں دو تین بار حالات حاضرہ پر لکھنا پڑتا ہے ان کیلئے بھی لکھنا مکمل طور پر میکانکی عمل نہیں ہوتا۔
ایسے پروفیشنل لکھاری بھی احساس کی ایک سطح پر سوچتے اور اپنے خیال کو لفظوں میں ڈھالتے ہیں۔ تمام تو نہیں مگر کچھ کالم نگار ایسے ضرور ہیں جن کا لکھا ہوا قاری کے دل تک پہنچتا ہے وہ اپنے احساس میں آگ جلائے بغیر اس آنچ کو پیدا نہیں کر سکتا جو پڑھنے والے کے دل تک پہنچتی ہے ۔وہ حالات پر کڑھتا ہے، سوچتا ہے پھر کہیں جا کر ہزار لفظوں میں بات مکمل ہوتی ہے ۔لکھنا ایک تھراپی اسی لیے ہے کہ اندر کے درداور تکلیف کو لفظوں کی صورت دے کر کاغذ پر انڈیل دیا جائے۔کاغذ کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے لیکن خالص لکھنے کا عمل جو احساس اور تخلیقی دیانت سے جڑا ہوا ہے وہ تبدیل نہیں ہوا وہ کبھی تبدیل نہیں ہوگا چاہے آج کے مصنوعی ذہانت کے دور میں جنریٹو اے آئی کے جدید اور مہنگے چیٹ بوٹس لائبریریوں کی لائبریریاں ہڑپ کر کے آنکھ جھپکنے کے وقفے میں تحریروں کے ڈھیر لگا دیں۔ چند سال پیشتر ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ناول کہانیاں فلمیں اور ڈرامے لکھنے والے تخلیق کاروں کے خون جگر سے کشید کام پر مشینیں ڈاکہ ماریں گی اور ان کے تخلیقی خزانے کو چرا لے جائیں گی۔
مارچ2026 میں لندن میں ہونے والے کتاب میلے میں دس 10 ہزار مصنفین نے اس ڈاکے پر احتجاج کیا جو مصنوعی ذہانت کے روبوٹس تخلیق کاروں کے خون جگر سے یہ کئےکام پر مار رہے ہیں۔ لندن کتاب میلے میں بطور احتجاج ایک کتاب بانٹی گئی جس پر لکھا گیا تھا اس کتاب کو چوری نہ کریں، اس کے صفحات اندر سے خالی تھے صفحات میں صرف ان مصنفین کے نام تھے جو اس احتجاج میں شامل ہوئے اس احتجاج میں کئی قد آور، نامور مصنفین بھی شریک ہوئے احتجاج کرنے والے مصنفین کا کہنا تھا کہ ہمارے تخلیقی کام کو ڈاکو روبوٹس سے بچایا جائے۔ ایسی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے جو ادیبوں کے تخلیقی کام کو چوری کر کے اپنے ربورٹس کو تربیت دیتے ہیں اور یہ اے آئی جنریٹو ربورٹس اسی مواد کو دوبارہ استعمال کر کے مضامین کہانیاں اور تحریریں لکھتے ہیں۔2025 میں بھی برطانیہ میں مصنفین نے میٹا ہیڈ کوارٹر کے سامنے اسی تخلیقی مواد کی چوری کیخلاف احتجاج کیا۔جنریٹو اے آئی کی کمپنیاں کئی ذرائع سے تحقیقی تعلیمی، تخلیقی اور معلوماتی مواد اکٹھا کرتی ہیں مختلف اوپن ویب سائٹ سے ،بلاگ سے، آن لائن مضامین سے اور کچھ ایسی ڈیجیٹل لائبریریاں ہیں جن پر لاکھوں کتابیں موجود ہیں اور جن تک رسائی بہت آسان ہوتی ہے بغیر اجازت کے یہ مواد حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے چھوٹے چھوٹے جملوں میں توڑا جاتا ہے، مشین کی ٹریننگ کی جاتی ہے اور ایک ٹریننگ لوپ بنایا جاتا ہے اسے ڈیپ لرننگ کہتے ہیں۔
اے آئی جنریٹو کمپنیوں کا موقف یہ ہے کہ چیٹ بوٹس مصنفین کے لکھے ہوئے مواد کو چوری نہیں کرتے بلکہ بس ان کے مواد پر تربیت حاصل کرتے ہیں۔ان کو پڑھنا سکھاتے ہیں یہ مشینیں اتنا پڑھ لیتی ہیں کہ پھر وہ جملوں کے پیٹرن کو سمجھ کر اس طرح کے جملے لکھنا سیکھ لیتے ہیں ۔برطانیہ میں اس حوالے سے قانون سازی ہونے جا رہی ہے۔کہ اے آئی جنریٹو کمپنیاں ڈیجیٹل لائبریری میں موجود مواد کو استعمال کر سکیں گی سوائے ان مصنفین کے جو خود اس میں شامل نہ ہونا چاہیںلیکن مصنفین اس کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس طرح ہر کوئی اپنے لکھے ہوئے کی حفاظت نہیں کر پائے گا کچھ مصنفین کا کہنا یہ ہے کہ قانون میں یہ بات شامل کر دی جائے کہ اے آئی کمپنی مصنفین کا مواد استعمال کریں تو ان کو ادائیگی کی جائے۔
امریکہ میں اے آئی جنریٹو کمپنی اینتھرپک کلاڈ کا مصنفین کے تخلیقی مواد کو چوری کرنے پر ایک معاملہ 1.5بلین ڈالر میں طے ہوا جو امریکہ کی تاریخ میں کاپی رائٹ کے حوالے سے سب سے مہنگا تصفیہ ہےہر چوری شدہ کتاب پر 3 ہزار ڈالر پبلشر اور مصنفین کو ادا کرنے پڑےیہ منظر نامہ تو امریکہ اور برطانیہ جیسے ملک کا ہے جہاںقوانین پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے اور تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظر نامے میں نئے قوانین بھی بنائے جا رہے ہیں۔ ان ملکوں میں مصنفین کو لکھے ہوئے کی بھاری ادائیگی ہوتی ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں منظر نامہ بالکل مختلف ہے اس کا ترقی یافتہ ملکوں سے کوئی موازنہ نہیں یہاں ساغر اور حبیب جالب جیسے نابغہ روزگار فاقوں میں بسر کرتے رہے ہیں۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ادبی جریدوں کے مدیروں کی ڈاک سے پہنچنے والی نوواردشاعروں کی اچھوتے مضامین کی غزلیں مدیر صاحبان اپنے نام سے بھی شائع کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے جیسے سماج میں جہاں روزی روٹی پیٹرول کی قیمتیں زندگی کی بنیادیں ہلائے رکھتی ہیں وہاں مصنوعی ذہانت کے تخلیقی مواد چوری کرنے کے حوالے سے کبھی کوئی قانون سازی ہوگی؟