ترقی پذیر ممالک، خصوصاً تیسری دنیا کی حکومتوں کا تمام تر ارتکاز عموماً ایسے منصوبوں پر ہوتا ہے جو فوری طور پر نظر آئیں۔ سڑکیں، پل، میٹرو بسیں، ایئرپورٹس اور بلند و بالا عمارتیں بلاشبہ معاشی سرگرمی کے لیے اہم ہیں، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہی حکومتیں انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری سے کتراتی ہیں۔ وجہ بالکل واضح ہےکہ اینٹ اور گارے سے بنے منصوبے جلد مکمل ہو کر ووٹر کو دکھائی دیتے ہیں، جبکہ انسانوں پر کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتائج آنے میں وقت لگتا ہے اور اس کا سیاسی کریڈٹ فوری حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ جدید معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ انسانی سرمایہ ہی کسی قوم کی ترقی کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، جو اسے پسماندگی سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔اکیسویں صدی میں قوموں کی اصل طاقت قدرتی وسائل نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، ہنر مند اور صحت مند افراد ہیں۔
جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ممالک اس کی روشن مثال ہیں، جنہوں نے انسانی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ ان ممالک نے یہ حقیقت جلد سمجھ لی تھی کہ علم اور مہارت ہی وہ سرمایہ ہے جو قوموں کو عالمی معیشت میں ممتاز بناتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس بنیادی اصول کو مسلسل نظر انداز کرتا رہا ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی بڑی نوجوان آبادی موجود ہے، مگر ہم اس افرادی قوت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث یہ ممکنہ اثاثہ آہستہ آہستہ بوجھ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر اس نوجوان قوت کو صحیح سمت دی جائے تو یہی پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کا تعلیمی بحران ہے۔ 2025-26 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے (عمر 5 تا 16 سال) اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری بڑی تعداد ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خوابوں کی داستان ہے جو ادھوری رہ گئی۔ تقریباً 28 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ اسکول جانے والے بچوں میں سے بھی 77 فیصد دس سال کی عمر تک سادہ عبارت پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نہ صرف رسائی بلکہ معیار کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال مستقبل کی افرادی قوت کو کمزور کر رہی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک وسیع تر منظم ناکامی کی علامت ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر خرچ جی ڈی پی کے محض 0.8 سے 1.7 فیصد کے درمیان ہے، جو عالمی معیار (کم از کم 4 فیصد) سے بہت کم ہے۔ نتیجتاً ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ 34 فیصد میں بجلی نہیں جبکہ 21فیصد میں صاف پانی دستیاب نہیں۔ اس کے ساتھ اساتذہ کی غیر حاضری اور گھوسٹ ٹیچرز جیسے مسائل نظام کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ جب بنیادی ڈھانچہ ہی کمزور ہو تو معیار کی بہتری ممکن نہیں رہتی۔
تعلیمی نظام کا ایک اور بڑا مسئلہ معیار کی کمی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری ہولڈرز تو پیدا کر رہے ہیں مگر پروفیشنلز نہیں۔ طلبہ میں تجزیاتی سوچ اور عملی مہارتوں کی شدید کمی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں کے اس دور میں ہمارا نصاب فرسودہ ہو چکا ہے، جس کے باعث تعلیم یافتہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں کے پاس ڈگری تو ہے مگر مارکیٹ کے مطابق ہنر نہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہنر پر مبنی تعلیم ناگزیر ہے۔
یہ بحران صنفی عدم مساوات کو بھی بڑھا رہا ہے۔ تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کی تعلیم، صحت اور تربیت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ خواتین کی تعلیم کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ معاشرے کی نصف آبادی کو نظر انداز کرنا دراصل اپنی ترقی کو روکنے کے مترادف ہے۔آبادی میں تیز رفتار اضافہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 70 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے، جو تعلیم، صحت اور روزگار کے نظام پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ تاہم اس کا حل سخت اقدامات نہیں بلکہ تعلیم، خصوصاً خواتین کی تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں خواتین کی تعلیم، معاشی شمولیت اور خاندانی منصوبہ بندی کی بہتر سہولیات نے شرحِ پیدائش کو نمایاں طور پر کم کیا اور معیشت کو مستحکم بنایا۔ یہ ایک عملی ماڈل ہے جس سے پاکستان کو سیکھنا چاہیے۔
اصلاحات کا لائحہ عمل
پاکستان کے لیے راستہ واضح ہے۔ سب سے پہلے تعلیم کے بجٹ کو بڑھا کر کم از کم 4 فیصد جی ڈی پی تک لانا ہوگا۔ یہ خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ دوسرا، قومی مالیاتی کمیشن کے تحت ایک ایسا نظام متعارف کروایا جائے جس میں صوبوں کو تعلیم اور آبادی کے اشاریوں میں بہتری پر مراعات دی جائیں۔ تیسرا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات کو بچوں کی اسکول حاضری سے مشروط کیا جائے۔ چوتھا، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔ پانچواں، خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک جامع قومی مہم شروع کی جائے جس میں علماء اور سماجی رہنما بھی شامل ہوں۔ ان اقدامات کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
آخر میں ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ انفراسٹرکچر ترقی کو سہارا دیتا ہے مگر انسانی سرمایہ ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے نوجوانوں میں سرمایہ کاری نہ کی تو یہی آبادی کل ہمارے لیے معاشی اور سماجی بوجھ بن جائے گی۔پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہماری نوجوان آبادی یا تو ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے یا سب سے بڑا چیلنج۔ یہ فیصلہ آج کے اقدامات پر منحصر ہے۔ وقت کا تقاضا واضح ہے’’انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ہی پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے‘‘۔