پاکستان کی سیاسی و سفارتی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھرتے ہیں جنہوں نے نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خارجہ پالیسی کو بھی ایک واضح نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ 4 اپریل کی آمد ہر سال ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ بھٹو صاحب کا فکری ورثہ محض ماضی کا حصہ نہیں بلکہ آج کے پاکستان کے لیے بھی ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ہم ان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی سوچ دکھائی دیتی ہے جو خودمختاری، توازن، علاقائی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر فعال کردار کے اصولوں پر مبنی تھی۔
بھٹو صاحب نے 1960 کی دہائی میں بطور وزیر خارجہ پاکستان کی سفارت کاری کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کو کسی ایک عالمی طاقت کے زیر اثر رہنے کے بجائے اپنی خودمختار پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان اسٹرٹیجک شراکت داری مضبوط ہوئی۔ یہ تعلقات آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہیں اور اس کی بنیاد بھٹو کے دور میں ہی رکھی گئی تھی۔
بھٹو صاحب کی خارجہ پالیسی کا ایک نمایاں پہلو اسلامی دنیا کو متحد کرنے کی کوشش تھی۔ 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس اس کا عملی مظہر تھی، جس میں متعدد مسلم ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی بلکہ اس نے مسلم دنیا میں پاکستان کے کردار کو بھی مستحکم کیا۔ بھٹو صاحب سمجھتے تھے کہ ایک متحد اسلامی دنیا عالمی سیاست میں ایک مؤثر قوت بن سکتی ہے، اور یہی سوچ آج بھی پاکستان کیلئے اہم ہے۔بھٹو کی خارجہ پالیسی میں تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ یکجہتی بھی ایک اہم عنصر تھا۔ انہوں نے اسلامی سوشلزم اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ عالمی نظام میں انصاف اور برابری کیلئے ضروری ہے کہ ترقی پذیر ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اسی تناظر میں انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کو فعال بنانے میں کردار ادا کیا۔
ایٹمی پروگرام کا آغاز بھی بھٹو صاحب کی دوراندیشی کا ایک اہم پہلو تھا۔ 1971 کی جنگ کے بعد انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ ان کا مشہور قول تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کی کمزوری کے قائل نہیں تھے۔ آج پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اسی وژن کا نتیجہ ہے، جو ملک کو ایک مضبوط دفاعی حیثیت فراہم کرتی ہے۔
بھٹو صاحب نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک متوازن رویہ اختیار کیا۔ اگرچہ انہوں نے مغربی دنیا کے ساتھ روابط برقرار رکھے، مگر وہ کسی بھی قسم کی غلامی یا دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز پاکستانی عوام کے مفادات ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کی خواہشات۔ یہی اصول آج بھی پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
آج جب ہم بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کی قیادت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بھٹو ازم کی وہی جھلک نظر آتی ہے جو عوامی مفادات، جمہوریت اور خودمختار خارجہ پالیسی پر مبنی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا، خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا اور علاقائی امن کے حوالے سے۔ ان کی سفارت کاری میں بھٹو صاحب کے وژن کی واضح جھلک موجود ہے، جہاں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اسی طرح آصفہ بھٹو زرداری بھی ایک ابھرتی ہوئی سیاسی آواز کے طور پر عوامی مسائل اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کر رہی ہیں۔ ان کی سوچ میں بھی وہی اصول کارفرما ہیں جو بھٹو صاحب نے متعارف کروائے تھےیعنی عوامی فلاح، عالمی سطح پر وقار، اور ایک خودمختار ریاست کا قیام۔
بھٹو صاحب کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ نہ تو کسی عالمی طاقت کے دباؤ میں آنا چاہیے اور نہ ہی کسی غیر ضروری تنازع میں الجھنا چاہیے۔ ایک متوازن، خودمختار اور اصولی پالیسی ہی پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلا سکتی ہے۔4 اپریل ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم نہ صرف بھٹو صاحب کو خراج عقیدت پیش کریں بلکہ ان کے نظریات کو بھی سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ آج کے پیچیدہ عالمی حالات میں، جہاں سفارت کاری ایک نازک توازن کا کھیل بن چکی ہے، بھٹو صاحب کا وژن پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم بھٹو کے اس پیغام کو دوبارہ زندہ کریں کہ پاکستان کی طاقت اس کی خودمختاری، عوامی حمایت اور اصولی مؤقف میں مضمر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کی قیادت میں یہ نظریہ ایک نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھٹو ازم محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو پاکستان کے مستقبل کو روشن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔