وقت تو عجیب ہی کوئی الٹی چال چل رہا ہے۔ہم دیکھنا کچھ چاہ رہے ہیں اور ہو کچھ رہا ہے۔ہم اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ٹرمپ سرکار کی مدد سے ایران میں جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا مگر امریکا سے سنائی دینے لگتا ہے کہ یہاں جمہوریت خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ہم ٹکٹکی باندھ کر ایران کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ لوگ اب نکلیں گے تب نکلیں گے، پلٹ کر دیکھتے ہیں تو لوگ ٹرمپ کے خلاف نکل چکے ہوتے ہیں۔ہم سانس روک کر کان لگاتے ہیں کہ ایران سے رجیم چینج کی آواز آئیگی مگر امریکا سے ہی خبر آجاتی ہے کہ ٹرمپ سرکار نے آرمی چیف سمیت درجن بھر تھری اسٹار اور فورا سٹار جرنیلوں کو گھر بھیج دیا ہے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ بتاتے ہیں کہ ایران کی فوجی طاقت زیرو ہوگئی ہے تو ہم چادر سمیٹ کر گھر نکل لیتے ہیں۔رستے میں ہی ہوتے ہیں کہ خبر آجاتی ہے کہ ایران نے امریکا کا F.15طیارہ مار گرایا ہے۔ٹرمپ خاموش ہو جاتے ہیں ہم مایوس ہوجاتے ہیں۔امریکی فضائیہ ایران کی سرزمین سے پائلٹ کو اچکنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ جاتی ہے۔کامیاب آپریشن کے حوالے سے وہ ایک شاندار سوشل میڈیا پیغام جاری کرتے ہیں۔ہم اچھا محسوس کرنے لگتے ہیں۔انتظار کرنے لگتے ہیں کہ ٹرمپ اب ذرا فریش ہوکر فاتحانہ موڈ میں سامنے آئیں گے۔مگر ٹرمپ تو کفن ہی پھاڑ دیتے ہیں۔بے شمارویں دھمکی میں وہ ایران کوبے حسابویں بار ڈیڈلائن دیدیتے ہیں۔ڈیڈلائن میں وہ ایران کو پونے دو انگریزی گالیاں بھی دیدیتے ہیں۔یوں ہم پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہوجاتے ہیں کہ یار یہ کیا۔
جھوٹ نہیں بولوں گا، ہم ایک اور موقع پر بھی کافی جذباتی ہوگئے تھے۔جب صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ وہ ایران کو پتھر کے زمانے میںپہنچا دیں گے۔میری عمر کے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے کسی کو پتھر کے زمانے میں جاتا ہوا نہیں دیکھا۔ہم نے غور سے دیکھنا شروع کردیا کہ دیکھتے ہیں کوئی پتھر کے زمانے میں جاتا ہوا دکھتا کیسے ہے۔مگر ہم رہے نصیب کے کچے۔اس سے پہلے کہ ایران کو اسٹون ایج میں جاتا دیکھتے امریکا کو ڈارک ایج میں جاتا ہوا دیکھ لیا۔ڈارک ایج ہم اس تاریک زمانے کو کہتے ہیں جب چرچ سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا تھا۔معاملے کو سیاسی لینز سے دیکھنے کی بجائے عقیدے کی آنکھ سے دیکھا جاتا تھا۔صدیوں بعد ٹرمپ اس زمانے کو واپس کھینچ لائے۔پہلے ہی الیکشن میں وہ مذہبی ٹچ کیساتھ اترگئے تھے۔ایوینجلیکلز انکے ہمنوا تھے۔ایوینجلیکلزہماری مذہبی تنظیموں کی طرح کیوٹ ہوتے ہیں۔لبرل اقدار کو امریکا کی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔امریکا کی بقا کیلئے کرسچن نیشنلزم کو ضروری مانتے ہیں۔صنفی اور جنسی تنوع وہ معاشرتی اقدار کے خلاف جانتے ہیں۔گریٹر اسرائیل کو مسیحیت کی بقا کیلئے بھی ضروری سمجھتے ہیں۔یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انسانی حقوق کا تعین امریکی گورنمنٹ نے نہیں بلکہ مسیحیت نے کیا ہے۔
ایوینجلیکلز کے لیے ٹرمپ پہلی حکومتی مدت میں بھی ہیرو تھے۔اب تو وہ خدائی اسکیم بن گئے ہیں۔ایوینجلیکلز سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ محض انسان نہیں ہیں۔وہ ایک آسمانی واقعہ ہیں جو زمین پر رونما ہواہے۔انکی جیت میں اہم کردار خداوند یسوع مسیح نے ادا کیا ہے۔ٹرمپ پر تمام زمینی راستے بند ہوچکے تھے۔انکے راستے روک دیے گئے تھے۔قاتلانہ حملہ بھی ہوگیا تھا۔تمام مخالفتوں کے باوجود وہ سرخروٹھہرے۔یہ خدا وند یسوع مسیح کی منشا تھی۔جو کام کسی سے نہیں ہوئے وہ خداوند نے ان سے لینے تھے۔ٹرمپ نے اپنی پہلی اسٹیٹمنٹ میں جب مرد اور عورت کے علاوہ کسی بھی تیسری جنس کو مسترد کیا تو ایوینجلیکلز نے ایک دوسرے کو کہنی مار کر کہا، دیکھا پھر؟ شروع ہوگیا خدا کی منشا پر کام۔اب جب ٹرمپ نے ایران پرحملہ کردیا ہے تو انہوں نے ٹرمپ کی کرسی سینٹ پال کے بالکل برابر میں لگا دی ہے۔
ایوینجلیکلز کی کیوٹنس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو وہ ٹرمپ کی سنجیدگی کا سب سے بڑا ثبوت سمجھتے ہیں۔ہیگسیتھ نے سینے پر پورے پانچ صلیبی ٹیٹوز بنوائے ہوئے ہیں۔مذہبی اور روایتی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں۔ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانے کا شوق انہیں بچپن سے تھا۔انہوں نے فوج ایران بھیجی تھی کہ ایرانیوں کو ملائوں سے نجات دلوائی جا سکے۔ایرانی ملائوں سے نجات کیا دلواتے الٹا وائٹ ہائوس کے دروازے سخت گیر مسیحی ملائوں پر کھول دیے۔کوئی ٹرمپ کے نام خداوند کا پیغام لیکر آرہا ہے کوئی حضرت مسیح کی منشا سنا رہا ہے۔جھاڑ پھونک کیلئےنمونے نمونیاں الگ سے آ جارہی ہیں۔حالات یہ ہوگئے ہیں اب ٹرمپ اپنی ٹویٹ کا اختتام Thank you for your attention to this matter کی بجائے مذہبی جملوں سے کر رہے ہیں۔اچھے بھلے مسیحی دانشور جو ابھی کل تک AI کے حوالے سے Nick Land کے خیالات پر بات کر رہے تھے وہ گھوم پھر کردو مذہبی دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ہر دو دھڑے اصل اور خالص مسیحیت ثابت کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ایک کہتا ہے تھپڑ پڑنے پر دوسرا گال پیش کردینا چاہیے۔دوسرا کہتا ہے جسکے گال گلابی ہوں اسے فوراََ سے پیشتر نوچ لینا چاہیے۔
خیر! آپکو یہی لگ رہا ہے نا کہ مجھ دیسی لبرل کو امریکی سیاست میں مذہب کی واپسی پر افسوس ہورہا ہے۔ لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے۔افسوس ایک اور بات پرہے۔حملے ہوگئے، ایران کی آدھی لیڈر شپ ماردی گئی،جہاز گرگئے،مہنگائی ہوگئی، ہرمزبند ہوگیا، مذاکرات شروع ہوگئے، یسوع مسیح کا پیغام آگیا، تعویذ گنڈے ہوگئے،آرمی چیف فارغ ہوگئے،سب ہوگیا مگر ایپسٹین فائلز وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔کھڑی کیا ہے اسکی تو دھار بھی پہلے سے تیز ہوگئی ہے۔ایک طرف یہ مصیبت ہے دوسری طرف رضا پہلوی کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔ایران میں گرنے والے پائلٹ واپس مل گئے، رضا پہلوی نہیں ملا۔بہتی ہوا سا تھا وہ، اڑتی پتنگ سا تھا وہ،کہاں گیا اسے ڈھونڈو۔پتہ نہیں کھانا بھی ٹھیک سے کھایا ہوگا کہ نہیں۔