• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکہ میں جاری جنگ کی وجہ سے جہاں مشرق وسطیٰ کے دیگر مسلم ممالک کیلئے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے وہیں عالمی معیشت بھی اس تنازع کے باعث غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان حالات میں یہ جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کیلئے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی ایک بروقت اور دوراندیش سفارتی کوشش ہے جو دونوں ممالک کے ساتھ اسکے بااعتماد تعلق کا اظہار ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اور اہم کامیابی ہے اور اس سے پاکستان کے عالمی کردار اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطی کی کشیدہ صورتحال میں اس مثبت پیش رفت سے نتیجہ خیز اور قابلِ عمل مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم اس کوشش کو کامیاب بنانے کیلئے تنازع کے تمام فریقین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا متوازن اور فعال سفارتی کردار عالمی امن، مکالمے اور تعمیری روابط کے فروغ کے عزم کا عکاس ہے۔ اس تنازع کا فوری خاتمہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اسکی وجہ سے عالمی استحکام، توانائی کی فراہمی اور معاشی ترقی بھی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ اس لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی کاوشوں سے شروع ہونیوالی ثالثی کی بروقت کوششوں کو پوری دنیا کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی تنازعات میں مفاہمتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں امن کا عمل ہو یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی یا پھر سرد جنگ کے زمانے میں چین اور امریکہ میں اعتماد سازی کے حوالے سے رابطہ سازی، پاکستان نے قیام امن کیلئے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ جیسے متحارب فریقین کے درمیان مذاکرات کیلئے پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث بن کر سامنے آیا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔ ایک طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کیساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط ہیں اور دوسری جانب امریکہ کیساتھ بھی پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔ اس لئے یہ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان اس تنازع کو ختم کروانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرکے متوقع عالمی بحران کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارتی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع پاکستان نہ صرف ایک جغرافیائی پل ہے بلکہ دونوں خطوں کے مابین سیاسی و معاشی رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس کیلئے عالمی سطح پر اپنا کردار بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا امیج بہتر ہوگا بلکہ اسے مستقبل میں دیگر تنازعات میں بھی ثالثی کے کردار کیلئے ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ راستہ آسان نہیںکیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع صرف سیاسی نہیںبلکہ یہ تنازع فریقین کے مابین نظریاتی، تزویراتی اور علاقائی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہایت محتاط، متوازن اور غیر جانبدارانہ سفارتکاری اپنانا ہو گی۔ پاکستان کیلئے ایک قابل توجہ پہلو یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں اپنی اقتصادی کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اس بڑے تنازع میں غیر ضروری مداخلت یا دباؤ پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اسلئے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے قومی مفادات، داخلی استحکام اور اقتصادی ترجیحات کو بھی مقدم رکھنا ہو گا۔مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کیلئے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان نہ صرف دوست ممالک کی دفاعی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری، تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی فراہمی سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کو مشرقِ وسطیٰ تک توسیع دینے کے امکانات بھی اسی صورت میں روشن ہو سکتے ہیں جب خطے میں استحکام ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے یہ ایک نادرموقع ہے کہ وہ خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر منوائے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اسے مستقل مزاجی اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف اسکی سفارتی تاریخ کا ایک سنہری باب ہو گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں امن اس لئے بھی ضروری ہے کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔

تازہ ترین