امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے امریکا ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے جنگ بندی کی شرائط پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر نے امریکا ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
ارسولا وان ڈیر لیئن کا کہنا ہے کہ ثالثی کرانے کے لیے پاکستان کا شکریہ ادا کرتی ہوں، ضروری یہ ہے کہ اس تنازع کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں، پائیدار حل کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھیں گے۔
کویت نے امریکا ایران جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ خطے اور دنیا کے لیے راحت کا باعث بنے گا۔
برطانوی حکومت نے ایک میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم اتحادیوں سے ملاقات کے لیے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے، اسٹارمر آبنائے ہرمز کے مستقل کھلا رکھنے کے لیے اتحادیوں سے بات کریں گے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ خطے میں جنگ بندی شرائط کے مکمل احترام کی ضرورت ہے، امریکا ایران جنگ بندی کا اعلان بہت اچھا ہے، لبنان میں صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، امریکا ایران معاہدے میں لبنان بھی شامل ہونا چاہیے۔
اسپین کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ان عناصر کو نہیں سراہتے جو پہلے دنیا کو آگ میں دھکیلتے ہیں اور پھر آگ بجھانے آجاتے ہیں۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ بندی دیرپا امن کی جانب اہم پہلا قدم ہونا چاہیے۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت جنگ بندی کے لیے اہم معاہدہ کرانے پر پاکستان کی شکر گزار ہے، اب توجہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات پر ہونی چاہیے، جرمن حکومت سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔
قطری وزارت خارجہ اور عمان نے بھی ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔
وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔
روسی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے امریکا ایران جنگ بندی پر بیان میں کہا ہے کہ عقل مندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اب کبھی تیل سستا تیل نہیں ہوگا۔
یورپین کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا نے کہا ہے کہ میں امریکا اور ایران کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہوں، میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اس کی شرائط کو برقرار رکھیں، یورپی یونین جاری کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے اور خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، میں پاکستان اور دیگر تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس معاہدے کو آسان بنانے میں شامل ہیں۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی کی پالیسی اور نائب صدر یورپین کمیشن کاجا کلاس کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ شدت پسندی کے خطرات کے بعد ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دھمکیوں کو کم کرنے، میزائل حملوں کو روکنے، شپنگ کی بحالی اور مستقل امن کے لیے سفارتی مذاکرات کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی گذرگاہ کے لیے کھولا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی بات کی اور اس ابتدائی معاہدے کے حصول پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے کیونکہ جنگ کے بنیادی اسباب ابھی تک حل نہیں ہوئے، یورپی یونین اس کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے اور خطے میں شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے، اس معاملے پر آج سعودی عرب میں بھی بات کریں گے۔
سربراہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی رافیل گروسی نے کہا ہے کہ دیرپا امن کے قیام کی کوششوں میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں، سفارتکاری میں واپسی کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم مسائل پر بات چیت کرنا ہے، ادارہ اپنی ناگزیر نگرانی اور تصدیقی کردار کے ذریعے ان کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
مصری صدر عبدالفتح السیسی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی کا اعلان دنیا بھر میں امن پسند افراد کے لیے اطمینان کا باعث بنا، مصر صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، صدر ٹرمپ نے انسانیت و امن کی اقدار کو برقرار رکھا، فریقین سنجیدگی سے مذاکرات میں حصہ لیں، دعا ہے یہ مثبت پیشرفت ایک مستقل معاہدے پر منتج ہو، دعا ہے مثبت پیشرفت خطے میں جنگ کے خاتمے، امن و استحکام کی بحالی عوام کی ترقی، خوشحالی کی امنگوں کو پورا کرنے کا سبب بنے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کیا جائے، جنگ بندی سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔