• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپین قیادت کا پاکستان کے ذریعے امریکا، ایران جنگ بندی کا زبردست خیر مقدم

یورپین قیادت نے پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا زبردست خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مستقل امن میں بدلنے کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے سے آج یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین اور یورپین خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے علیحدہ علیحدہ پیغامات جاری کیے۔ 

اپنے ان پیغامات میں انہوں نے کشیدگی کے آخری لمحے میں مذاکرات کا راستہ نکلنے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان اور اس کی قیادت کی جانب سے اس معاملے میں نہ صرف سر توڑ کوششوں کو سراہا بلکہ ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ 

یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ 'میں امریکہ اور ایران کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہوں اور تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اس کی شرائط کو برقرار رکھیں۔ یورپی یونین جاری کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے اور خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ میں پاکستان اور دیگر تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس معاہدے کو آسان بنانے میں شامل ہیں۔

یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے کہا کہ 'میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتی ہوں۔ جاری کشیدگی میں یہ انتہائی ضروری کمی ہے۔ میں پاکستان کی ثالثی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اب یہ ضروری ہے کہ اس تنازعہ کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں۔ ہم اس مقصد کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھیں گے۔'

اسی طرح یورپین خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے اس جنگ بندی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 'امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہفتوں کی کشیدگی کے بعد دہانے سے ایک قدم پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یہ خطرات کو کم کرنے، میزائلوں کو روکنے، جہاز رانی کو دوبارہ شروع کرنے، اور ایک پائیدار معاہدے کی طرف سفارت کاری کے لیے جگہ پیدا کرنے کا انتہائی ضروری موقع فراہم کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ گزرنے کے لیے کھلا ہونا چاہیے' ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں نے پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے بات کی اور اس ابتدائی معاہدے کو حاصل کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ثالثی کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ جنگ کی بنیادی وجوہات ابھی تک حل طلب ہیں۔ یورپی یونین ان کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے اور خطے میں شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ میں آج سعودی عرب میں اس پر بات کروں گی'۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید