بھارتی ریاست مغربی بنگال میں عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی منڈیوں میں غیر معمولی سناٹا چھا گیا ہے جبکہ بیوپاری اور مسلمان شہری خوف و بے یقینی کا شکار ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست بنگال میں حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی انٹری کے بعد گائے کے ذبیحے سے متعلق قوانین پر سختی نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ کلکتہ کے قریب دھولاگڑھ مویشی منڈی جہاں ہر سال عید سے پہلے ہزاروں جانور فروخت ہوتے تھے، اس سال تقریباً خالی دکھائی دے رہی ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ خریدار خوف کے باعث منڈیوں کا رُخ نہیں کر رہے۔
ریاستی حکومت نے 1950ء کے قانون پر سختی سے عملدرآمد شروع کیا ہے جس کے تحت بغیر سرکاری اجازت کے گائے ذبح نہیں کی جا سکتی، صرف مخصوص سرکاری مذبح خانوں میں ہی جانور ذبح کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ جانور کی عمر بھی 14 سال سے زیادہ ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیف کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے بعد گوشت کی فروخت میں شدید کمی آئی ہے، کئی دکانیں بند ہو چکی ہیں جبکہ متعدد ہوٹل اور ریسٹورنٹ بیف ڈشز ہٹانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
کلکتہ کے ایک معروف برگر ریسٹورنٹ نے بیف برگر فروخت بند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’برگر کا کوئی مذہب نہیں، لیکن سیاست کا ضرور ہے۔‘
عرب میڈیا کے مطابق بھارت میں مسلم تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ لاکھوں روپے کا نقصان اٹھا رہے ہیں، ایک تاجر کے مطابق اس نے عید کے لیے 25 گائیں خریدیں لیکن ایک بھی فروخت نہیں ہو سکی۔
ادھر مختلف مسلم علاقوں میں عید اور جمعہ کی نماز سڑکوں پر ادا کرنے پر بھی غیر اعلانیہ پابندیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے مقامی مسلمانوں میں مزید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی سماجی کارکنوں اور ماہرین کی رائے کے مطابق گائے کے ذبیحے سے متعلق قوانین سیاسی اور سماجی کشیدگی کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔