• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینیڈین وزیراعظم نے غزہ کے فلوٹیلا کارکنوں کیساتھ اسرائیلی سلوک کو ’انتہائی شرمناک‘ قرار دے دیا

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی---فائل فوٹو
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی---فائل فوٹو 

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کو ’انتہائی شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم اُنہوں نے اسرائیل کے خلاف کسی نئی پابندی یا عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔

مارک کارنی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ فلوٹیلا میں شامل شہریوں، خصوصاً کینیڈین شہریوں کیساتھ ناروا سلوک ناقابلِ قبول ہے۔

کینیڈین وزیرِخارجہ انیتا آنند نے بھی اسرائیلی حکام سے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیرِحراست کینیڈین شہریوں کو قونصلر رسائی نہ دینا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے جاری ویڈیو میں کارکنوں کو باندھنے، گھٹنوں کے بل بٹھانے اور ہراساں کرنے کے مناظر سامنے آئے تھے جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

کینیڈا نے ایک بار پھر مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی بھی مخالفت کی ہے۔

دوسری جانب فرانس نے اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے جبکہ پولینڈ بھی ان پر 5 سالہ پابندی لگانے سے متعلق سوچ رہا ہے، فرانس اور اٹلی نے یورپی یونین سے اسرائیلی وزیر کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں اور حامی کارکنوں پر تشدد، غیر انسانی سلوک اور جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بی ٹیسیلم پہلے ہی اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز اور قبضے کا نظام نافذ کرنے کا الزام لگا چکی ہے۔

غزہ فلوٹیلا مشن اسرائیلی محاصرے کو چیلنج کرنے اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ 

عرب میڈیا کے مطابق اس مشن میں 70 کشتیوں اور 3000 کارکنوں نے حصہ لیا تھا جبکہ تقریباً 430 افراد کو اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی سمندری حدود میں حراست میں لیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید