چین میں یونیورسٹی کے طلبہ مشکل امتحانات میں نقل کرنے کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے کرائے پر حاصل کر رہے ہیں۔ ان چشموں کا یومیہ کرایہ 40 سے 60 یوآن (تقریباً 6 سے 9 ڈالر) بتایا جا رہا ہے۔
گوکہ اسمارٹ چشمے کافی عرصے سے موجود ہیں، لیکن یہ ابھی تک ایک عام استعمال ہونے والا آلہ نہیں بن سکے، مگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس جدید ورژنز نے چین کے طلبہ میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر لی ہے، جو انہیں امتحانات میں بہتر کارکردگی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اے آئی اسمارٹ چشمے جن میں بڑے لینگویج ماڈلز شامل ہیں۔ ان چشموں میں کیمرہ اور آڈیو فیچرز موجود ہوتے ہیں اور یہ بڑے لینگویج ماڈلز سے لیس اس کی مدد سے سوالات اور متن کو اسکین کر کے فوراً جواب فراہم کرتے ہیں وہ بھی اس طرح کہ کسی کے نوٹس میں ہی نہیں آتا۔
ابتدائی اسمارٹ چشمے بڑے اور بھاری ہوا کرتے تھے، لیکن اب ژیاؤمی اور علی بابا جیسی کمپنیوں کے تیار کردہ جدید چشمے نہایت سادہ اور خوبصورت ڈیزائن کے حامل ہیں، جو عام چشموں سے تقریباً مختلف نظر نہیں آتے۔ اگرچہ ان اے آئی اسمارٹ چشموں پر قومی سطح کے کالج کے داخلہ امتحانات اور سرکاری ملازمت کے امتحانات میں پابندی عائد کر دی گئی ہے، پھر بھی یہ عام اسکول کے امتحانات میں استعمال ہو رہے ہیں اور حیران کن نتائج دے رہے ہیں۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کی گئی ایک تحقیق میں ایک طالب علم جس نے اسمارٹ چشمہ پہنا ہوا تھا جس میں چیٹ جی پی ٹی 5.2 جیسا اے آئی ماڈل نصب تھا، 100 طلبہ میں سے ٹاپ پانچ میں شامل ہوا۔ اس کا اوسط اسکور 100 میں سے 92.5 تھا، جبکہ تمام طلبہ کا اوسط اسکور 72 تھا۔
270 ڈالر سے لے کر 1000 ڈالر سے زائد قیمت تک کے یہ اے آئی اسمارٹ چشمے ان طلبہ کے لیے سرمایہ کاری کے لحاظ سے مناسب نہیں جو انہیں صرف امتحانات میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہاں سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پلیٹ فارمز جیسے ژیان یو اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں کرائے پر لینے کے درجنوں آپشنز دستیاب ہیں اور قیمتیں ماڈل کے مطابق روزانہ 40 یوآن سے 80 یوآن تک ہوتی ہیں۔
چین کے صوبے ہیبی کی ایک یونیورسٹی طالبہ ویوین نے ایک میڈیا ادارے کو بتایا کہ وہ اے آئی اسمارٹ چشمے ان مضامین میں نقل کے لیے استعمال کرتی ہے جن میں اسے فیل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہیں دوسرے ضرورت مند طلبہ کو کرائے پر بھی دیتی ہے۔ ایک چھوٹے ریموٹ کی مدد سے جو ایک انگوٹھی جیسا دکھائی دیتا ہے، استعمال کرنے والے سوالات اور متن اسکین کر کے انہیں اے آئی ماڈلز کو بھیج سکتے ہیں جو بغیر کسی کے نوٹس میں آئے عینک کے لینس پر جواب دکھا دیتے ہیں۔